منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ادب کی منڈی میں لٹتے لکھاری،تحریر: تابندہ طارق عکس

نقطہ نظر
tabinda tariq

ادب کبھی روح کی غذا کہلاتا تھا۔لیکن آج یہی ادب روح کی غذا کے بجائے ضروریات زندگی بن چکا ہے۔آج کچھ ایسے لوگوں کے لیے یہ آمدن کا ذریعہ بن چکا ہے۔ قلم جو کبھی ضمیر کی آواز ہوا کرتا تھا، آج رجسٹریشن فیس کی رسید کے نیچے دبا سسک رہا ہے۔ یہ تحریر کسی ایک فرد یا ادارے کے خلاف ذاتی شکوہ نہیں ہے، ایک تلخ سماجی حقیقت کا بیان ہے جو ہمارے ادبی حلقوں میں خاموشی سے پروان چڑھ رہی ہے۔

ہر لکھاری کے دل میں ایک خواب ہوتا ہے کہ اس کی تحریر کو پہچان ملے، اس کی محنت کو سراہا جائے اور اس کے نام کی روشنی چار سو ہو۔لیکن یہی خواب کچھ تنظیموں کے لیے کاروبار کا دروازہ بن جاتا ہے۔ مقابلے کا اعلان ہوتا ہے، دل کش پوسٹر بنتے ہیں، بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں اور "میگا ایونٹ" کا نام دے کر لکھاریوں سے رجسٹریشن فیس وصول کی جاتی ہے۔ نوآموز لکھاری یہ سوچ کر رقم جمع کراتا ہے کہ اگر میری تحریر میں دم ہوا تو مجھے عزت ملے گی،اعزاز ملے گا۔ اسے کیا معلوم کہ اس کے جذبات کا سودا پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔

حال ہی میں مجھے ایک بار پھر اسی تلخ تجربے سے گزرنا پڑا۔ اسکلز سیو اکیڈمی کے زیرِ اہتمام ایک میگا ایونٹ منعقد ہوا۔ میری ایک ادبی ساتھی حفصہ سید احمد کے پُرزور اصرار پر میں نے اس میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ میں نے ایک نہیں، پانچ اصناف میں حصہ لیا۔ مقررہ وقت پر فیس ادا کی، تحریریں جمع کرائیں اور پھر انتظار کی وہ گھڑیاں شروع ہوئیں جو ہر لکھاری کو ازبر ہوتی ہیں۔ دل میں امید بھی تھی اور اندیشے بھی تھے۔یہ فطری عمل ہے۔

آخرکار نتائج آئے۔ دو اصناف میں اللہ نے عزت رکھی، ایک میں دوسری اور ایک میں تیسری پوزیشن کا اعزاز حاصل ہوا۔ محنت رنگ لائی تھی۔ پھر انعامات کا انتظار شروع ہوا۔ دن گزرتے گئے اور ایک دن پارسل ہاتھ میں آ گیا۔ دل خوشی سے دھڑک رہا تھا۔ میں نے پارسل کھولا تو ایک طرف ایک خوبصورت کتاب تھی اور دوسری طرف ایک میڈل تھا۔

میڈل کو ہاتھ میں لیا تو لبوں پر مسکراہٹ آئی، کیوں کہ یہ میری محنت کا ثمر تھا۔ مگر اسی لمحے آنکھوں میں نمی بھی تیرنے لگی۔ وہ میڈل بے نام تھا۔ اس پر نہ میرا نام تھا، نہ کسی پوزیشن کا ذکر، نہ کسی صنف کا تذکرہ اس کی واحد شناخت یہ تھی کہ وہ اسکلز سیو اکیڈمی کے میگا ایونٹ کا ہے۔ اوپر سے اتنا ناقص کہ ہاتھ میں لیتے ہی گمان ہوتا تھا کہ ذرا زور پڑا تو ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے گا۔ سچ کہوں تو وہ بے ذائقہ تھا، جیسے محنت کا پھل تو ملا مگر اس میں مٹھاس نہ تھی۔

میں آج بھی یہ سوال لے کر بیٹھی ہوں کہ کیا ایک لکھاری کی محنت کی اتنی بھی وقعت نہیں کہ اس کے جیتنے پر اس کا نام اس کے انعام پر کندہ کیا جائے؟ میڈل کی اصل پہچان تو جیتنے والے کے نام ہی سے ہوتی ہے۔ نام کے بغیر وہ دھات کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے، اعزاز نہیں ہوتا۔

حیرت اس بات پر ہے کہ جو تنظیمیں بغیر کسی رجسٹریشن فیس کے مقابلے کراتی ہیں، وہ بھی کم از کم اتنی عزت ضرور دیتی ہیں۔ کتاب بھیجتی ہیں تو اس پر لکھاری کا نام لکھ کر اسے مان بخشتی ہیں، خوبصورت اسناد دیتی ہیں اور بہترین انداز میں خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ جو ادارہ فیس لے کر بھی وہی کچھ دے، بل کہ اس سے کم دے، اس میں اور ان میں فرق کیا رہا؟ کتاب بلاشبہ ایک بہترین تحفہ ہے، لیکن وہ تو مفت مقابلے کرانے والے بھی دے رہے ہیں۔ پھر رقم کس چیز کی لی گئی؟

سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ یہ فرق صرف فیس ادا کرنے والے لکھاریوں کے ساتھ روا رکھا گیا۔کیا جن کی اول پوزیشن تھی انھوں نے زیادہ رقم دی تھی جب اول آنے والوں کو بھی شیلڈ دی گئی ہے تو باقی کے پوزیشن ہولڈر کے ساتھ یہ ناانصافی کیوں؟

دوسری طرف انتظامیہ کے ارکان، بل کہ قریبی دوست احباب تک کو "متحرک ممبر" کے عنوان سے خوبصورت شیلڈز سے نوازا گیا۔ یعنی جنہوں نے جیب سے رقم دی اور راتوں کو جاگ کر لکھا، انہیں ایک بے نام میڈل ملا، اور جنہوں نے محض انتظام سنبھالا، وہ شیلڈز سمیٹ لے گئے۔ یہ انصاف نہیں، کھلی ناانصافی ہے۔

میں جانتی ہوں کہ مقابلے کرانے کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں اور فیس لینا بذاتِ خود جرم نہیں۔ مگر اعتراض فیس پر نہیں، اس بدنیتی پر ہے کہ رقم تو پوری وصول کی جائے اور بدلے میں وہ عزت بھی نہ دی جائے جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جو ادارہ شفافیت کے ساتھ بتائے کہ فیس کہاں خرچ ہو گی اور انعام کیا ہو گا اور پھر اپنا وعدہ نبھائے، وہ قابلِ احترام ہے۔ مگر جو ادب کو "سورس آف انکم" بنا کر نئے اور پرانے لکھاریوں کے جذبات سے کھیلے، وہ ادب کا خیرخواہ نہیں، اس کا سوداگر ہے۔

یہاں ہم لکھاریوں پر بھی ایک ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہم اکثر شکایت تو کرتے ہیں مگر خاموشی سے اگلے مقابلے میں پھر وہی رقم جمع کرا دیتے ہیں۔ جب تک ہم ایسی تنظیموں کی دکان چلاتے رہیں گے، وہ چلتی رہے گی۔ ہمیں چاہیے کہ شرکت سے پہلے تنظیم کی ساکھ جانچیں، پچھلے مقابلوں کے فاتحین سے انعامات کے بارے میں پوچھیں، اور شرائط واضح ہونے تک اپنی رقم اور اپنے جذبات کو داؤ پر نہ لگائیں۔

آخر میں میری گزارش صرف اتنی ہے کہ ایسی تنظیموں کا بائیکاٹ کیجیے جو ادب کو کاروبار اور لکھاری کو گاہک سمجھتی ہیں۔ ہمارا قلم بکاؤ نہیں، ہمارے جذبات ان کی آمدن کا ذریعہ نہیں۔ لکھاری کو جو چاہیے وہ مہنگے تحائف نہیں، صرف عزت ہے: اس کا نام، اس کی پہچان اور اس کی محنت کا اعتراف ہونا چاہیے۔اگر کوئی ادارہ یہ بھی نہیں دے سکتا تو اسے ادب کے نام پر مقابلے کرانے کا کوئی حق نہیں۔

ادب کو بازار بننے سے بچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اس کا آغاز ہمارے ایک "نہیں" سے ہو سکتا ہے۔