نعروں کی نہیں، انصاف کی ضرورت ہے،تحریر: کاشف خان
نقطہ نظر
دنیا ہر سال 24 اکتوبر کو اقوامِ متحدہ کا دن مناتی ہے۔ اس دن عالمی امن، انسانی حقوق، انصاف، مساوات اور بین الاقوامی تعاون کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔ تقاریب منعقد ہوتی ہیں، پیغامات جاری کیے جاتے ہیں اور انسانیت کے روشن مستقبل کی امیدیں دلائی جاتی ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی امن کی طرف بڑھ رہی ہے؟ کیا طاقت ور اور کمزور کے لیے انصاف کے پیمانے یکساں ہیں؟ اور کیا انسانی حقوق کے وہ اصول، جنہیں عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا، ہر انسان کو یکساں طور پر میسر ہیں؟
اقوامِ متحدہ کا قیام 1945ء میں دوسری عالمی جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد عمل میں آیا۔ اس کا بنیادی مقصد دنیا کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچانا، قوموں کے درمیان تعاون بڑھانا اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے مواقع فراہم کرنا تھا۔ اس ادارے سے وابستہ امید یہ تھی کہ انسان جنگ، نفرت اور طاقت کے غرور سے نکل کر ایک ایسی دنیا تعمیر کرے گا جہاں اختلافات کا فیصلہ ہتھیاروں سے نہیں بلکہ دلیل، مکالمے اور انصاف سے ہوگا۔
مگر آج بھی دنیا کے کئی خطوں میں جنگوں کی آگ بھڑک رہی ہے۔ معصوم بچے اپنے والدین سے محروم ہو رہے ہیں، خاندان اپنے گھروں سے بے دخل کیے جا رہے ہیں، بستیاں ملبے کا ڈھیر بن رہی ہیں اور ہزاروں انسان بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔ ایسے حالات میں امن کے عالمی دعوے اس وقت تک ادھورے رہیں گے جب تک انسانی جان کی حرمت کو سیاسی مفادات، معاشی طاقت اور جغرافیائی ترجیحات پر فوقیت نہیں دی جاتی۔
امن صرف جنگ بندی کا نام نہیں، بلکہ انسان کو خوف، بھوک، محرومی اور ناانصافی سے نجات دلانے کا عہد ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اس کے اصولوں پر غیر جانب دارانہ عمل درآمد ہے۔ اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کسی کمزور ملک میں ہو تو عالمی برادری فوری ردعمل دے، لیکن اگر یہی خلاف ورزی کسی طاقت ور ملک یا اس کے اتحادی سے منسوب ہو تو خاموشی اختیار کر لی جائے، تو انصاف پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ عالمی اداروں کی ساکھ صرف ان کی قراردادوں سے نہیں بلکہ ان فیصلوں سے قائم ہوتی ہے جو مظلوم اور طاقت ور، دونوں کے لیے یکساں اصولوں کے تحت کیے جائیں۔
دنیا کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انسانی حقوق کسی ایک قوم، مذہب یا نسل کی جاگیر نہیں۔ ہر انسان کو زندگی، تعلیم، صحت، مذہبی آزادی، روزگار اور عزت کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے۔ کسی شخص کو اس کے مذہب، رنگ، زبان یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر کمتر سمجھنا مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں معاشرے کا آخری فرد بھی خود کو محفوظ، باعزت اور برابر کا شہری محسوس کرے۔
پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں بھی امن اور انصاف کا خواب اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک غربت، بے روزگاری، جہالت اور طبقاتی تفریق جیسے مسائل پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی جاتی۔ ایک ایسا نوجوان جس کے پاس تعلیم تو ہو مگر روزگار نہ ہو، ایک ایسا مزدور جسے محنت کا پورا معاوضہ نہ ملے، اور ایک ایسا غریب شہری جو انصاف کے حصول کے لیے وسائل نہ رکھتا ہو، وہ معاشرتی ناہمواریوں کی تلخ حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ امن کی تعمیر صرف حکومتوں اور عالمی اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ صحافی، اساتذہ، دانش ور، سماجی کارکن اور عام شہری بھی اس جدوجہد کا اہم حصہ ہیں۔ صحافت کا فرض محض واقعات بیان کرنا نہیں بلکہ ان حقائق کو سامنے لانا بھی ہے جنہیں طاقت، مفاد یا خوف کی وجہ سے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ قلم کی اصل طاقت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ مظلوم کی آواز بنے، ناانصافی پر سوال اٹھائے اور معاشرے کو سوچنے پر مجبور کرے۔
بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور باہمی احترام بھی پائیدار امن کے بنیادی ستون ہیں۔ اختلافِ رائے کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ہمیں بچوں کو نفرت کے بجائے محبت، انتقام کے بجائے معافی اور تعصب کے بجائے انسانیت کا درس دینا ہوگا۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا آغاز اکثر ایک ذمہ دارانہ رویے اور ایک سچی آواز سے ہوتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کا دن ہمیں محض ایک عالمی ادارے کی تاریخ یاد دلانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اجتماعی کردار کا جائزہ لینے کے لیے بھی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دنیا وعدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے، انسانی حقوق کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر رکھے اور انصاف کو ہر انسان کی دسترس میں لانے کے لیے مؤثر کوششیں کرے۔
میرا سوال صرف اقوامِ متحدہ سے نہیں، پوری انسانیت سے ہے: اگر طاقت ور کے سامنے انصاف خاموش ہو جائے تو مظلوم کس دروازے پر دستک دے؟
دنیا کو مزید قراردادوں کے ساتھ ساتھ دیانت دارانہ فیصلوں، مؤثر اقدامات اور انسانی ہمدردی کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسی دنیا تعمیر کرنا ہوگی جہاں انسان کی پہچان اس کی طاقت، دولت یا مذہب نہیں بلکہ اس کی انسانیت ہو۔
کیونکہ تاریخ میں وہی قومیں اور ادارے زندہ رہتے ہیں جو طاقت ور کی خوشنودی کے بجائے حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ انصاف کے بغیر امن ایک خوب صورت نعرہ تو ہو سکتا ہے، مگر پائیدار حقیقت نہیں۔





