لیپ سیکنڈ ، ایٹمی گھڑیاں اور بگڑتا فلکیاتی حساب،تحریر:ندیم یعقوب گوہر
نقطہ نظر
تصور کیجیے کہ دنیا بھر کے تمام ایٹمی مراکز میں نصب اربوں روپوں کی ایٹمی گھڑیاں (Atomic Clocks) انتہائی باریک بینی کے ساتھ سیکنڈ کا اربواں حصہ گن رہی ہیں، لیکن جس کرۂ ارض پر ہماری تہذیب کی عمارت کھڑی ہے، وہ خود ایک یکساں رفتار سے گھومنے والی گھڑی نہیں ہے۔ زمین اپنے محور (Axis) پر ناچتے ہوئے کبھی کسی سیکنڈ کے ہزارویں حصے جتنا تیز ہو جاتی ہے اور کبھی اس کی محوری گردش (Axial Rotation) قدرے دھیمی پڑ جاتی ہے۔ انسان اپنی روزمرہ کی گہما گہمی میں اس باریک لرزش کو محسوس نہیں کر سکتا، مگر جدید ترین سائنسی آلات اور فلکیاتی دوربینیں اس فرق کو فوراً پکڑ لیتی ہیں۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے ایک عجیب سائنسی اور ٹیکنالوجیکل بحران جنم لے رہا تھا کہ ایک طرف سائنس دانوں کا بین الاقوامی ایٹمی وقت (International Atomic Time - TAI) مکمل تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا اور دوسری طرف زمین اپنے قدرتی دن کی لمبائی اور فلکیاتی وقت (Astronomical Time - UT1) میں ذرا سی سستی یا تیزی دکھا رہی تھی۔ اس الجھن کو سلجھانے کے لیے دہائیوں قبل لیپ سیکنڈ (Leap Second) کا تصور پیش کیا گیا تھا، مگر حال ہی میں عالمی ماہرین نے پیرس کے قریب ورسائے میں جمع ہو کر اس نصف صدی پرانے طریقے کا باقاعدہ خاتمہ کر دیا ہے۔
عام طور پر بچپن سے ہی ہمیں یہی سکھایا جاتا ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے ایک دن میں ٹھیک چھیاسی ہزار چار سو سیکنڈ (86,400 Seconds) ہوتے ہیں اور عام حساب کتاب کی حد تک یہ بات بالکل درست بھی نظر آتی ہے، لیکن جب ہم طبیعیات (Physics) اور کائنات کے پیچیدہ نظام کا گہرا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی محوری گردش کبھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ زمین کے اندرونی اور بیرونی ماحول میں کئی ایسی زبردست قدرتی قوتیں موجود ہیں جو اس کے گھومنے پر مسلسل اثر انداز ہوتی رہتی ہیں۔ سمندروں کے اندر اٹھنے والے دیو ہیکل طوفان اور مد و جزر (Tides)، فضا میں دوڑتی تیز رفتار جیٹ اسٹریم (Jet Stream) ہوائیں، زمین کے گہرے پیٹ میں پگھلے ہوئے لوہے کے مرکزے یعنی کور (Core) کی پراسرار حرکت اور قطبین (Poles) پر جمی ہوئی صدیوں پرانی برف کا پگھل کر خطِ استوا (Equator) کی طرف پھیلنا، یہ تمام عوامل زمین کے وزن کی تقسیم کو بدل دیتے ہیں۔ سائنسی اصولوں میں مادہ کی اس حرکت اور وزن کی تبدیلی کو 'مومنٹ آف انرشیا' (Moment of Inertia) کہا جاتا ہے۔ جب قطبین کی برف پگھل کر زمین کے درمیانی حصے میں جمع ہوتی ہے تو زمین کا درمیانی حصہ قدرے پھول جاتا ہے بالکل کسی آئس اسکیٹر (Ice Skater) کی طرح جو گھومتے ہوئے اپنے بازو باہر پھیلا لے تو اس کے چکرانے کی رفتار دھیمی ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ چاند کی کششِ ثقل (Gravitational Pull) بھی سمندری پانی کو کھینچ کر زمین کی گردش پر بریک کا کام کرتی ہے۔
اسی فرق کو قابو میں رکھنے کے لیے انیس سو بہتر میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہم دنیا کا مربوط عالمی وقت یعنی یو ٹی سی (Coordinated Universal Time - UTC) ایٹمی گھڑیوں کے حساب سے چلائیں گے، مگر جب بھی ایٹمی وقت اور زمین کی واقعی گردش (UT1) کا فرق 0.9 سیکنڈ کے قریب پہنچنے لگے گا تو گھڑیوں میں ایک اضافی لیپ سیکنڈ شامل کر دیا جائے گا۔ اس رات گھڑیوں کے پردے پر تئیس بج کر انسٹھ منٹ اور انسٹھ سیکنڈ (23:59:59) کے بعد صفر صفر ہونے کے بجائے تئیس بج کر انسٹھ منٹ اور ساٹھ سیکنڈ (23:59:60) کا ہندسہ ابھرتا تھا اور وہ منٹ ساٹھ کے بجائے اکسٹھ سیکنڈ کا ہو جاتا تھا۔ گزشتہ پچاس سالوں میں ستائیس مرتبہ یہ عمل دہرایا گیا لیکن جیسے جیسے انسان کی ڈیجیٹل دنیا وسیع ہوتی گئی، یہی ایک اضافی سیکنڈ کلاؤڈ سرورز (Cloud Servers)، اسٹاک ایکسچینج (Stock Exchange)، گلوبل پوزیشننگ سسٹم یعنی جی پی ایس (GPS) سیٹلائٹس اور بینکنگ نیٹ ورکس کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا۔ جدید کمپیوٹرز کا سافٹ ویئر کوڈ (Software Code) اس بات پر ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہر منٹ میں ٹھیک ساٹھ سیکنڈ ہوں گے۔ جیسے ہی اکسٹھواں سیکنڈ آتا، دنیا بھر کے ہزاروں سسٹمز اور ڈیٹا بیس سرورز الجھ کر کریش (Crash) ہو جاتے تھے۔ اگرچہ گوگل اور ایمیزون جیسے عالمی ٹیکنالوجی اداروں نے چوبیس گھنٹوں کے دوران سیکنڈ کے کروڑویں حصوں کو چپکے سے طویل کر کے اس سیکنڈ کو کھپانے کے لیے 'ٹائم سمیئرنگ' (Time Smearing) کا طریقہ نکالا، مگر اس سے مختلف مالیاتی اور تجارتی اداروں کا باہمی تال میل بگڑنے لگا۔
بحران اس وقت مزید شدید ہو گیا جب حالیہ چند سالوں میں زمین نے الٹا تماشا دکھاتے ہوئے اپنی گردش کو سست کرنے کے بجائے اچانک تیز کرنا شروع کر دیا۔ اس تیز رفتاری نے سائنس دانوں کو ایک خوفناک موڑ پر لا کھڑا کیا جسے منفی لیپ سیکنڈ (Negative Leap Second) کہا جاتا ہے۔ یعنی اب گھڑی میں ایک سیکنڈ بڑھانے کے بجائے ایک سیکنڈ کاٹنا پڑتا اور گھڑی کو 23:59:58 سے سیدھی چھلانگ لگا کر صفر (00:00:00) پر جانا پڑتا اور انسٹھواں سیکنڈ غائب ہو جاتا۔ انسان نے اپنی پوری تاریخ میں کبھی منفی سیکنڈ کا تجربہ نہیں کیا تھا اور ماہرین کا اندازہ تھا کہ اگر یہ تجربہ کیا گیا تو دنیا کا مالیاتی، انٹرنیٹ اور ہوائی پروازوں کا نظام پلک جھپکتے میں بیٹھ جائے گا۔ یہی وہ خوف تھا جس نے فرانس کے شہر ورسائے میں ہونے والی اٹھائیسویں جنرل کانفرنس برائے اوزان و پیمائش (CGPM) میں تمام عالمی ماہرین کو ایک تاریخی قرارداد منظور کرنے پر مجبور کر دیا کہ اب ایٹمی وقت اور زمین کی گردش کا رشتہ توڑ کر وقت کو بلا تعطل اور مسلسل بہنے دیا جائے گا۔
فلکیاتی سائنس دانوں نے اب اس حسابی فرق کی حد کو 0.9 سیکنڈ سے بڑھا کر پورا ایک گھنٹہ یعنی 3,600 سیکنڈ کر دیا ہے۔ عام ذہن میں یہ سوال ابھر سکتا ہے کہ شاید اب گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے یا پیچھے کیا جائے گا یا دوپہر کے بارہ بجے رات کا اندھیرا چھا جائے گا، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایٹمی گھڑیوں اور زمین کی گردش کے درمیان اس نٹ کھٹ فرق کو ایک گھنٹے تک پہنچنے میں کم از کم ایک صدی یا اس سے بھی زیادہ کا وقت درکار ہوگا۔ ویسے بھی انسان نے پوری دنیا کو چوبیس مختلف ٹائم زونز (Time Zones) میں بانٹ رکھا ہے جہاں ایک ہی ملک کے دو شہروں میں گھڑی پر ایک وقت ہونے کے باوجود سورج کے زاویے میں آدھے گھنٹے کا فرق عام سی بات ہوتی ہے۔ لیپ سیکنڈ ختم ہونے کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں کہ سائنس دانوں نے زمین کی رفتار ناپنا چھوڑ دی ہے، بلکہ بین الاقوامی خدمت برائے زمینی گردش و حوالہ جاتی نظام یعنی آئی ای آر ایس (International Earth Rotation and Reference Systems Service - IERS) کا ادارہ کوازار ستاروں (Quasars) اور لیزر سیٹلائٹس کی مدد سے زمین کے ایک ایک ملی سیکنڈ کی لرزش کا ریکارڈ الگ سے رکھتا رہے گا تاکہ خلائی مشنز اور فلکیاتی سائنس دان اپنے زاویے درست رکھ سکیں۔
جب انسان سیکنڈ کے اربویں حصے اور زمین کی اس محوری لرزش کے تمام سائنسی باریکیوں پر غور کرتا ہے تو اس کی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ رات اور دن کا یہ طوفانی چکر کس محکم اور بے عیب الٰہی قانون کے تحت چل رہا ہے۔ انسان کی بنائی ہوئی عظیم ترین ٹیکنالوجی اور سپر کمپیوٹرز سیکنڈ کی ایک معمولی لرزش کے سامنے گوڈے ٹیک دیتے ہیں اور اپنا قانون بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، مگر کائنات کا خالق وہ ذات ہے جس نے قرآن مجید میں پہلے ہی اعلان فرما دیا تھا کہ اس نے ہر چیز کو پیدا فرمایا اور پھر اس کا ایک درست اور متعین اندازہ مقرر کر دیا۔ سورج اور چاند ایک مکمل حساب کے پابند ہیں اور کوئی بھی فلکیاتی جسم اپنے متعین مدار سے بال برابر آگے پیچھے نہیں ہو سکتا۔ انسان نے پچاس سال تک زمین اور ایٹمی ارتعاش کا حساب ملانے کی ناکام کوشش کی اور بالآخر ہتھیار ڈال دیے، مگر ربِ کائنات کا بنایا ہوا عظیم الشان فلکیاتی کارخانہ کسی لیپ سیکنڈ کا محتاج ہوئے بغیر بلا تعطل رواں دواں ہے۔ وقت کی یہ بدلی ہوئی سائنس دراصل انسانی عقل کا اپنی محدودات کے سامنے اعتراف اور کائنات کی حقیقی ڈور کو سنبھالنے والے پروردگار کی حکمتِ بالغہ کی ایک خاموش گواہی ہے۔
مزید پڑھیں





