انسان کی زندگی کتنی طویل تھی، یہ شاید اتنا اہم نہیں جتنا یہ کہ اس نے اپنی زندگی میں ایسا کیا کیا جس کی وجہ سے دنیا اسے مرنے کے بعد بھی یاد رکھے۔ کچھ لوگ دولت کے انبار چھوڑ جاتے ہیں، کچھ علم کے چراغ روشن کرتے ہیں، اور کچھ ایسے کام کر جاتے ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ الفریڈ نوبل بھی ایک ایسا ہی نام ہے، جس کی زندگی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کی دولت ہے یا اس کے اعمال؟
الفریڈ نوبل 21 اکتوبر 1833 کو سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایمانویل نوبل ایک انجینئر اور موجد تھے۔ کاروباری مشکلات کے باعث وہ روس منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے مشینری اور فوجی سازو سامان کی تیاری کا کام شروع کیا۔ الفریڈ نے بچپن ہی سے سائنس اور کیمسٹری میں دلچسپی لی۔ سترہ برس کی عمر تک وہ متعدد زبانوں پر عبور حاصل کر چکے تھے۔ انہوں نے تعلیم اور تجربات کے لیے مختلف ممالک کا سفر کیا، جہاں ان کی توجہ ایک ایسے کیمیکل کی طرف مبذول ہوئی جس میں غیر معمولی دھماکا خیز طاقت موجود تھی۔ اس کیمیکل کا نام نائٹروگلیسرین تھا۔
نائٹروگلیسرین طاقتور ضرور تھا، مگر انتہائی غیرمحفوظ بھی۔ معمولی بے احتیاطی ایک بڑے حادثے کا سبب بن سکتی تھی۔ الفریڈ نوبل چاہتے تھے کہ اس کی طاقت کو اس انداز میں استعمال کیا جائے کہ کان کنی، پہاڑوں کی کٹائی اور تعمیراتی کاموں میں آسانی پیدا ہو۔ لیکن ان کے تجربات کا سفر آسان نہ تھا۔
1864 میں اسٹاک ہوم میں نائٹروگلیسرین کی تیاری کے دوران ایک خوفناک دھماکہ ہوا، جس میں ان کے چھوٹے بھائی ایمیل سمیت پانچ افراد جان سے گئے۔ یہ حادثہ الفریڈ نوبل کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔ تاہم، انہوں نے اپنی تحقیق جاری رکھی۔ بالآخر 1867 میں انہوں نے نائٹروگلیسرین کو ایک جاذب مادے کے ساتھ ملا کر ڈائنامائٹ ایجاد کیا، جسے نسبتاً محفوظ طریقے سے استعمال کیا جا سکتا تھا۔
یہ ایجاد تعمیرات اور کان کنی کے شعبوں میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی۔ اب وہ کام، جن کے لیے پہلے غیر معمولی محنت اور وقت درکار ہوتا تھا، نسبتاً آسان ہو سکتے تھے۔ الفریڈ نوبل کی ایجاد نے انہیں شہرت بھی دی اور بے پناہ دولت بھی۔لیکن انسان کی ایجاد ہمیشہ انسان کی نیت کے مطابق استعمال نہیں ہوتی۔جس ڈائنامائٹ کو پہاڑوں کے سینے چیر کر راستے بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا، اسی کو تباہی اور جنگ کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ الفریڈ نوبل کی دولت بڑھتی گئی، مگر ان کی ایجاد کے استعمال نے ایک پیچیدہ اخلاقی سوال کو جنم دیا: کیا کسی ایجاد کی عظمت اس کے مقصد سے طے ہوتی ہے یا اس کے استعمال سے؟
1888 میں الفریڈ نوبل کے بھائی لُڈوِگ کی وفات کے بعد ایک فرانسیسی اخبار میں الفریڈ کی موت سے متعلق غلط خبر شائع ہونے کا واقعہ معروف ہے۔ اس خبر کے بارے میں مشہور روایت یہ ہے کہ اس میں انہیں موت کا سوداگر قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، اس واقعے کی مشہور تفصیلات اور نوبل انعام کے قیام پر اس کے براہِ راست اثر کی مکمل تاریخی تصدیق موجود نہیں۔
اس کے باوجود یہ واقعہ ایک اہم سوال ضرور اٹھاتا ہے: اگر کسی انسان کو اپنی زندگی کے اختتام پر یہ احساس ہو کہ دنیا اسے اس کے کارناموں کے بجائے اس کے کاموں کے منفی اثرات سے پہچان سکتی ہے، تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟الفریڈ نوبل ایک سائنس دان، موجد اور صنعت کار تھے۔ ان کے پاس دولت بھی تھی، شہرت بھی اور دنیا پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت بھی۔ مگر ان کی زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ صرف ڈائنامائٹ کی ایجاد نہیں، بلکہ اپنی دولت کو ایک ایسے مقصد کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ تھا جس کا فائدہ آنے والی نسلوں تک پہنچ سکے۔
27 نومبر 1895 کو انہوں نے اپنی آخری وصیت پر دستخط کیے، جس کے مطابق ان کی دولت کا بڑا حصہ ایسے انعامات کے لیے مختص کیا گیا جو طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے شعبوں میں انسانیت کے لیے نمایاں خدمات انجام دینے والوں کو دیے جائیں۔ 10 دسمبر 1896 کو ان کا انتقال ہو گیا، لیکن ان کی وصیت کے مطابق 1901 میں پہلی مرتبہ نوبل انعامات دیے گئے۔
یوں ایک شخص کی دولت نے علم، تحقیق، ادب اور امن کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کا ایک عالمی سلسلہ شروع کیا۔ آج نوبل انعام دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ دولت کا سب سے بڑا مصرف صرف اسے جمع کرنا نہیں، بلکہ اسے انسانیت کی بہتری کے لیے استعمال کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک سوال ہمارے اپنے معاشرے کے لیے بھی پیدا ہوتا ہے۔ہمارے ہاں کتنے ذہین بچے محض وسائل کی کمی کی وجہ سے اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے؟ کتنے نوجوان ایسے ہیں جن کے پاس صلاحیت تو ہے، مگر مواقع نہیں؟ کتنے مریض ایسے ہیں جنہیں بروقت علاج میسر نہیں آتا؟ اور کتنے ایسے مسائل ہیں جن کے حل کے لیے تحقیق، تعلیم اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے؟اگر صاحبِ ثروت افراد اپنی دولت کا ایک حصہ معیاری تعلیم، طبی سہولتوں، سائنسی تحقیق اور فلاحِ عامہ کے لیے مختص کر دیں تو کتنی زندگیاں بدل سکتی ہیں! اگر کسی ایک بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھا لیا جائے، کسی ایک قابل نوجوان کو تحقیق کے لیے وسائل فراہم کر دیے جائیں، یا کسی ایسے ادارے کی بنیاد رکھ دی جائے جہاں غریبوں کو علاج میسر ہو، تو یہ بھی انسانیت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ کاری ہوگی۔ضروری نہیں کہ ہر شخص نوبل انعام قائم کرے یا دنیا کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم بنائے۔ عظمت کا آغاز بعض اوقات ایک چھوٹے سے فیصلے سے ہوتا ہے۔ کسی ضرورت مند کی مدد، کسی محروم بچے کی تعلیم یا کسی دکھی انسان کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی ایسی نیکی ہے جس کے اثرات ہماری زندگی سے آگے تک جا سکتے ہیں۔اصل سوال یہ نہیں کہ انسان نے کتنی دولت کمائی، بلکہ یہ ہے کہ اس دولت سے کتنی زندگیوں میں آسانی پیدا کی۔ دولت انسان کو آسائشیں دے سکتی ہے، لیکن عزت اور احترام کا تعلق اس کے کردار اور عمل سے ہے۔الفریڈ نوبل کی زندگی ہمیں یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ انسان اپنے پیچھے کیا چھوڑ کر جاتا ہے۔ دولت، جائیداد اور کاروبار ایک دن دوسروں کی ملکیت بن جاتے ہیں، لیکن علم، بھلائی اور انسانیت کے لیے کیے گئے کام نسلوں تک یاد رکھے جا سکتے ہیں۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم صرف دولت مند کہلانا چاہتے ہیں یا ایسے انسان بننا چاہتے ہیں جن کی دولت دوسروں کے کام آئے؟کیونکہ موت تو ہر شخص کا مقدر ہے، مگر مرنے کے بعد انسان کس نام سے یاد رکھا جائے گا، اس کا فیصلہ بڑی حد تک اس کے اعمال کرتے ہیں۔
تو پھر بتائیے، آپ کیا بننا چاہتے ہیں؟ موت کا سوداگر یا پھر انسانیت کا محسن؟
مزید پڑھیں






