منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پڑھنے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ تحریر: عارفین عائشہ

نقطہ نظر

پڑھنے کی عادت انسان کی سب سے قیمتی اور حسین عادتوں میں سے ایک ہے۔ یہ صرف کتاب کے صفحات پلٹنے کا نام نہیں بلکہ سوچنے سمجھنے محسوس کرنے اور زندگی کو گہرائی سے دیکھنے کا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔ جو شخص پڑھتا ہے اس کی سوچ وسیع ہوتی ہے زبان سنورتی ہے اور دل نرم پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں یہ عادت تیزی سے کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ موبائل فون سوشل میڈیا اور مصروف زندگی نے کتابوں کو ہمارے قریب سے دور کر دیا ہے۔ ہم معلومات تو بہت حاصل کر رہے ہیں مگر گہرائی اور سمجھ سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوچنا بہت ضروری ہو گیا ہے کہ پڑھنے کی عادت آخر کیوں اتنی اہم ہے اور ہمیں اسے کیوں اپنانا چاہیے۔


پڑھنے کی عادت ذہن کو تازہ اور چاق رکھتی ہے۔ جب ہم کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہیں تو ہمارا دماغ الفاظ کو تصاویر میں بدلتا ہے کہانی کو جوڑتا ہے اور نتیجے نکالتا ہے۔ یہ دماغ کی ایک بہترین مشق ہے۔ جیسے جسمانی ورزش جسم کو مضبوط بناتی ہے ویسے ہی پڑھنا ذہن کو تیز اور فعال بناتا ہے۔ جو لوگ باقاعدگی سے پڑھتے ہیں ان کی یادداشت بہتر ہوتی ہے توجہ زیادہ دیر تک قائم رہتی ہے اور سوچنے کی صلاحیت نکھرتی ہے۔ اس کے برعکس جو صرف مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا پر وقت گزارتے ہیں ان کی توجہ جلد بکھر جاتی ہے اور گہری سوچ کی عادت کمزور پڑ جاتی ہے۔ پڑھنا ہمیں صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ ان معلومات کو سمجھنے اور زندگی میں استعمال کرنے کا شعور بھی بخشتا ہے۔


پڑھنے سے زبان اور اظہار میں نکھار آتا ہے۔ جو لڑکی یا لڑکا باقاعدگی سے اچھی کتابیں پڑھتا ہے اس کے پاس الفاظ کا خوبصورت ذخیرہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی بات صاف پیاری اور مؤثر انداز میں کہہ سکتی ہے۔ بولنے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور لکھنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔ یہ صلاحیت اسکول کالج نوکری اور زندگی کے ہر میدان میں کام آتی ہے۔ آج کل بہت سی لڑکیاں اور لڑکے اپنی بات اچھی طرح پیش نہیں کر پاتے جس کی بڑی وجہ پڑھنے کی عادت کا نہ ہونا ہے۔ جب زبان کمزور ہو تو خیالات بھی ادھورے رہ جاتے ہیں اور انسان اپنی اصل صلاحیت نہیں دکھا پاتا۔


کتابیں ہمیں دنیا سے جوڑتی ہیں۔ ان کے ذریعے ہم ان جگہوں لوگوں اور تجربات تک پہنچ سکتے ہیں جہاں جانا ممکن نہ ہو۔ تاریخ کی کتابیں ماضی کے سبق سکھاتی ہیں سائنس کی کتابیں کائنات کے راز کھولتی ہیں اور ادبی کتابیں انسانی جذبات اور رشتوں کی گہرائی میں لے جاتی ہیں۔ ایک اچھی کہانی پڑھ کر ہم دوسروں کے دکھ اور خوشی کو محسوس کرنا سیکھتے ہیں جو ہمارے اندر ہمدردی اور نرمی پیدا کرتا ہے۔ اس طرح پڑھنے والا شخص صرف اپنے چھوٹے سے دنیا تک محدود نہیں رہتا بلکہ وسیع دل اور کھلی سوچ کا مالک بن جاتا ہے۔ آج کے دور میں جب تعصب اور تنگ نظری بڑھ رہی ہو یہ وسیع النظری بہت قیمتی ہے۔


پڑھنے کی عادت کردار اور اخلاق کی تربیت بھی کرتی ہے۔ اچھی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ محنت صبر ایمانداری اور ہمت کتنی اہم ہیں۔ بہت سی کامیاب شخصیات نے کہا ہے کہ کتابوں نے ہی انہیں سوچنے کا انداز سکھایا اور مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیا۔ اگر بچپن یا لڑکپن سے پڑھنے کی عادت ڈال دی جائے تو شخصیت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوتی ہے۔ انسان صرف نمبر حاصل کرنے والا نہیں بنتا بلکہ سوچنے اور سمجھنے والا باشعور فرد بنتا ہے۔


افسوس کی بات ہے کہ آج کے پاکستانی معاشرے میں پڑھنے کی عادت بہت کمزور پڑ چکی ہے۔ گھروں میں کتابوں کی الماریاں خالی ہوتی جا رہی ہیں اور موبائل ہر کسی کے ہاتھ میں ہے۔ والدین خود کم پڑھتے ہیں تو بچوں کو پڑھنے کی ترغیب کیسے دیں گے۔ اسکولوں میں بھی زیادہ توجہ نصابی کتابوں اور امتحان پر ہوتی ہے آزادانہ پڑھنے کی حوصلہ افزائی کم ہے۔ لائبریریاں یا تو بند پڑی ہیں یا ان تک رسائی مشکل ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نئی نسل بہت کچھ دیکھ رہی ہے مگر گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت کھو رہی ہے۔


اس صورتحال کو بدلنے کے لیے سب سے پہلے گھروں سے کام شروع کرنا ہوگا۔ والدین کو خود کتابیں پڑھ کر مثال بننی چاہیے۔ گھر میں کتابوں کا ماحول پیدا کیا جائے اور بچوں کو ان کی پسند کی کتابیں دی جائیں۔ اسکولوں میں بھی آزادانہ مطالعے کے اوقات رکھے جائیں لائبریریوں کو زندہ کیا جائے اور اچھی کتابیں سستی قیمت پر دستیاب ہوں۔ ہم سب کو مل کر اس عادت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا۔


آخر میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ پڑھنے کی عادت زندگی کو بدل دینے والی طاقت رکھتی ہے۔ یہ ذہن کو کھولتی ہے دل کو نرم کرتی ہے زبان کو سنوارتی ہے اور زندگی کو معنی دیتی ہے۔ آج کے تیز اور سطحی دور میں پڑھنا ایک ضرورت بن چکا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف سطحی معلومات میں رہنا چاہتے ہیں یا علم اور سمجھ کی گہرائی کو اپنانا چاہتے ہیں۔ کتابیں ہماری سب سے سچی دوست ثابت ہوتی ہیں۔ اس لیے پڑھنے کی عادت کو اپنائیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف راغب کریں۔ کیونکہ جو پڑھتا ہے وہ واقعی جیتا ہے اور اپنی زندگی کو خوبصورتی سے گزارتا ہے۔ پڑھنے کی عادت آج کی سب سے پیاری اور ضروری عادت ہے جو کل کی کامیابی اور ہمیشہ کی روشن سوچ کا ذریعہ بنتی ہے۔