غربت کیا جرم ہے؟ تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری
چودہ سالہ یتیم مزدور وسیم کا خون اور ہمارا بےحس معاشرہ

الفاظ ساتھ نہیں دے رہے، یقین کریں! دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہ اس معاشرے کے زوال پر ماتم کیا جائے، انسانیت کی موت پر نوحہ لکھا جائے یا اس نظام سے سوال کیا جائے کہ آخر ایک غریب، یتیم اور بےبس بچے کا قصور کیا تھا؟ کیا اس کا غریب ہونا ہی اس کا جرم بن گیا تھا؟
ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے نے ہر صاحبِ ضمیر انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ چودہ سالہ توقیر، ایک یتیم اور کم عمر مزدور، جس کی زندگی ابھی خوابوں، امیدوں اور مسکراہٹوں سے بھرنی چاہیے تھی، موت کی وادی میں چلا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وسیم مبینہ طور پر ان افراد کے ہاں مزدوری کرتا تھا جن کی گاڑی کے نیچے کچلے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ واقعے کی مکمل حقیقت تحقیقات اور عدالتی کارروائی سے سامنے آنی چاہیے، لیکن ایک معصوم بچے کی موت نے ہمارے معاشرے کے سامنے کئی تلخ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ توقیر غریب تھا، سوال یہ ہے کہ کیا غریب کی جان کی کوئی قیمت نہیں؟
ذرا تصور کیجیے، چودہ سال کا ایک بچہ، جس عمر میں اس کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے، جو اسکول کے میدان میں کھیلنے اور مستقبل کے خواب دیکھنے کا حق رکھتا ہے، وہ زندگی کی سختیوں سے لڑنے کے لیے مزدوری کرنے پر مجبور تھا۔ والدین کے سائے سے محروم اس بچے کو شفقت، تحفظ اور تعلیم کی ضرورت تھی، مگر آج وہ ہمارے لیے ایک دردناک سوال چھوڑ گیا ہے۔
اے وسیم کاش تمہیں مزدوری کے بجائے تعلیم، بےبسی کے بجائے تحفظ اور خوف کے بجائے محبت ملتی۔ کاش کوئی تمہارے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتا کہ تم بھی اس معاشرے کا حصہ ہو، تمہاری زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی امیر کے بچے کی۔
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں انسان کی حیثیت اکثر اس کی دولت، گاڑی اور سماجی اثرورسوخ سے متعین کی جاتی ہے۔ غریب کی غلطی فوراً نظر آتی ہے، لیکن طاقتور پر الزام لگے تو بعض لوگ حقیقت سامنے آنے سے پہلے ہی اس کے دفاع میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیا قانون امیر اور غریب کے لیے الگ الگ ہے؟ کیا کسی کے پاس دولت ہونا اسے یہ حق دے دیتا ہے کہ وہ اپنے سے کمزور انسان کی عزتِ نفس پامال کرے؟
قانون کی حکمرانی وہ نہیں جہاں صرف کمزور جواب دہ ہو، بلکہ وہ ہے جہاں طاقتور سے بھی قانون کے مطابق جواب طلب کیا جائے۔
اگر توقیر سے کام میں کوئی کوتاہی ہوئی بھی تھی تو اسے سمجھایا جا سکتا تھا، اصلاح کا موقع دیا جا سکتا تھا۔ کسی اختلاف یا غلطی کی بنیاد پر کسی انسان کو تشدد کا نشانہ بنانا یا اس کی جان خطرے میں ڈالنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ کام کی غلطی کا فیصلہ قانون اور ضابطے کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ طاقت اور غصے کے ذریعے۔
ہم نے ترقی کے معنی بھی بدل دیے ہیں۔ بڑی گاڑی، عالی شان گھر اور مہنگا لباس کامیابی کی علامت بن گئے، مگر برداشت، رحم، عاجزی اور انسان کی عزت کرنے جیسی خوبیاں کہیں پیچھے رہ گئیں۔ دولت سہولت تو خرید سکتی ہے، مگر کردار نہیں۔ انسان کی اصل پہچان اس کا اخلاق ہے، اس کی گاڑی نہیں۔
تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں۔ حقیقی تعلیم یہ ہے کہ انسان اپنے سے کمزور کے ساتھ شفقت کرے، غصے میں بھی حدود نہ بھولے اور کسی کی مجبوری کو اس کے خلاف استعمال نہ کرے۔ جس تعلیم سے رحم پیدا نہ ہو اور جس ترقی میں غریب محفوظ نہ ہو، اس پر نظرِ ثانی ضروری ہے۔
میں پوچھتا ہوں کہ ہمارے اردگرد کتنے وسیم ہیں؟ کتنے بچے ورکشاپوں، دکانوں اور ہوٹلوں میں اپنی عمر سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں؟ کتنے بچے غربت کے باعث تعلیم سے محروم ہیں؟ یتیم اور بےسہارا بچوں کو تحفظ دینا صرف حکومت نہیں، پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
آج سوشل میڈیا پر غم و غصہ ہے، مگر اصل امتحان تب ہوگا جب اس واقعے کی خبریں ختم ہو جائیں گی۔ کیا ہم تب بھی انصاف کی آواز بلند کریں گے؟ کیا ہم بچوں کے حقوق کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کریں گے؟ ہمیں نفرت نہیں، انصاف چاہیے؛ ہجوم کا فیصلہ نہیں، عدالت کا فیصلہ چاہیے۔
میری متعلقہ حکام سے اپیل ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، شواہد محفوظ کیے جائیں، متاثرہ خاندان کو قانونی معاونت فراہم کی جائے اور الزامات ثابت ہونے پر ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ ساتھ ہی کم عمر بچوں کے تحفظ اور تعلیم کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی دوسرے توقیر کو اپنی مجبوری کی قیمت اپنی جان دے کر نہ چکانی پڑے۔
میں، انجینیئر علی رضوان چوہدری، پیر محل، یہ سوال ہر صاحبِ ضمیر کے سامنے رکھتا ہوں: اگر چودہ سالہ یتیم بچہ بھی محفوظ نہیں تو ہماری انسانیت کہاں کھڑی ہے؟
توقیر اب واپس نہیں آئے گا، لیکن اس کے نام پر اٹھنے والی آواز کسی اور بچے کی زندگی بچانے کا سبب بن سکتی ہے۔ آئیے عہد کریں کہ کسی بچے کو غربت کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھیں گے، کسی مزدور کی عزتِ نفس مجروح نہیں کریں گے اور کسی کمزور کے ساتھ ناانصافی ہوتی دیکھ کر خاموش نہیں رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ وسیم کی مغفرت فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے، اس کے لواحقین کو صبرِ جمیل دے اور انصاف کے تقاضے پورے ہونے کا راستہ ہموار فرمائے۔ آمین۔
غربت جرم نہیں، یتیمی جرم نہیں، مزدوری جرم نہیں؛ اصل المیہ وہ بےحسی ہے جو انسان کو انسان کا درد محسوس نہیں کرنے دیتی۔ معاشرے دولت سے نہیں، انسانیت سے عظیم بنتے ہیں۔
مزید پڑھیں





