منگل، 20 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نوجوانوں میں جوڑوں اور پٹھوں کے امراض و علاج ،تحریر: ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

جدید دور کی ٹیکنالوجی، بدلتے ہوئے رفقائے کار اور طرزِ زندگی (Lifestyle) نے جہاں انسان کے لیے زندگی کو آسان، تیز رفتار اور سہولت بخش بنایا ہے، وہیں کئی ایسی ناگوار اور تلخ حقیقتوں کو بھی جنم دیا ہے جن کی قیمت ہماری نوجوان نسل اپنی صحت اور توانائی کی صورت میں ادا کر رہی ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا ایک اہم اور لمحہ فکریہ موضوع یہ ہے کہ وہ عضلاتی و اسکلٹی مسائل (Musculoskeletal Disorders) یعنی جوڑوں کا عارضہ اور پٹھوں کی اکڑن جو ماضی میں بڑھاپے اور عمر رسیدہ افراد کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب ہمارے سولہ سے پینتیس سال کے تندرست، توانا اور فعال دکھائی دینے والے نوجوانوں کا دامن پکڑ چکی ہے۔ وہ نوجوان جنہیں قوم کا متحرک سرمایہ ہونا چاہیے تھا، آج وہ گردن کے درد، کمر کی مسلسل کسک، کندھوں کی سوزش اور جوڑوں کی بے آرامی کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔


اس بڑھتے ہوئے سنجیدہ مسئلے کے اسباب و وجوہات (Causes) کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پڑھائی کے دوران سر جھکائے ہوئے نامناسب انداز میں بیٹھنا، اس کی سب سے بڑی وجہ کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور سمارٹ فونز پر بلا ضرورت اور طویل دیر تک نامناسب انداز میں بیٹھنا یعنی پرولانگڈ سٹنگ (Prolonged Sitting) ہے۔ گھنٹوں ایک ہی نشست پر گردن نیچے جھکا کر اور کمر کو دوہرا کر کے بیٹھے رہنے کا یہ نام نہاد عادت، جسے طبی دنیا میں بیڈ پوزچر (Bad Posture) یا فارورڈ ہیڈ پوزچر (Forward Head Posture) کا نام دیا جاتا ہے، ہمارے جسم کے قدرتی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ جب ایک نوجوان کئی گھنٹے سکرین کے سحر میں جکڑا رہتا ہے، تو اس کے سر کا غیر متوازن وزن گردن کے نازک مہروں اور عضلات پر غیر معمولی دباؤ ڈالتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جسمانی محنت و مشقت اور ورزش سے مکمل دوری یعنی سیڈنٹری لائف سٹائل (Sedentary Lifestyle) نے ان کے عضلات کو کمزور بنا دیا ہے۔ عدم تحرک کی یہ فضا نہ صرف دورانِ خون (Blood Circulation) کو سست کرتی ہے بلکہ عضلات اور جوڑوں کی قدرتی لچک (Flexibility) کو بھی ختم کر دیتی ہے۔ اوپر سے غیر متوازن غذا، جنک فوڈ اور جنک ڈائٹ (Junk Diet) کا بڑھتا ہوا رجحان، جسم میں وٹامن ڈی (Vitamin D) اور کیلشیم (Calcium) کی شدید کمی کا باعث بن کر ہڈیوں کے اندرونی نظام کو شدید متاثر کر رہا ہے۔


ان اسباب کے نتیجے میں جو طبی اور جسمانی مسائل (Medical Issues) پیدا ہوتے ہیں وہ محض عارضی درد تک محدود نہیں رہتے بلکہ رفتہ رفتہ دائمی بیماریوں (Chronic Diseases) کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں عارضہ سروائیکل ڈسک اور کمر کا درد یعنی لمبر سٹرین (Lumbar Strain) ہے۔ گردن کے مہروں (Cervical Spine) پر مستقل دباؤ سے سروائیکل سپانڈیلوسس (Cervical Spondylosis) کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس میں گردن میں شدید کھچاؤ، اکڑن اور سوزش ہو جاتی ہے، جو اکثر کندھوں سے ہوتی ہوئی ہاتھوں اور انگلیوں تک سنسناہٹ یا نمنس (Numbness) کی صورت میں پھیل جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کثرتِ نشست کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے کے مہروں کے درمیانی کشن نما ڈسکس (Intervertebral Discs) دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، جس سے ڈسک ہرنیا (Disc Herniation) یا نچلی کمر کا شدید درد ابھرتا ہے۔ پٹھوں کا اینٹھن اور تھکن یعنی مسل سپاسم (Muscle Spasm) اور مسل فیٹیگ (Muscle Fatigue) تو اس قدر عام ہو چکا ہے کہ معمولی کام سے بھی جسم نڈھال ہو جاتا ہے۔ ان جسمانی پیچیدگیوں کے باعث اعصاب پر دباؤ بڑھنے سے سر کے پچھلے حصے میں شدید درد اور چکر یعنی ورٹیگو (Vertigo) کی علامات بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں، جس سے نوجوانوں کی ذہنی توجہ اور پیداواری صلاحیت (Productivity) زوال پذیر ہونے لگتی ہے۔


ان مہلک اور پیچیدہ مسائل سے محفوظ رہنے کے لیے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر (Prevention & Precautions) پر عمل پیرا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ سکرین پر کام کے دوران بیٹھنے کے انداز کی درستگی یعنی پوزچر کریکشن (Posture Correction) سب سے پہلا قدم ہے۔ بیٹھتے وقت ایرگونومک چئیر (Ergonomic Chair) کا استعمال اور سکرین کو آنکھوں کی عین سیدھ یعنی آئی لیول (Eye Level) پر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ کام کے دوران مسلسل بیٹھنے کے بجائے وقفے لینا اور 20-20-20 رول (20-20-20 Rule) کو اپنا کر گردن و کمر کی اسٹریچنگ ایکسر سائز (Stretching Exercises) کرنا عضلات کو اکڑن سے بچاتا ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں باقاعدگی سے واک اور ورزش (Physical Exercise) کو شامل کرنا چاہیے تاکہ جسم میں آکسیجن اور خون کی رسد جاری رہے اور پٹھوں کی طاقت بحال رہے۔


طبی نقطہ نظر سے جب ان مسائل کے قدرتی اور جامع علاج کی بات کی جائے تو ہومیو پیتھک طریقہ علاج علامات کے مطابق ایک موثر طریقہ کار پیش کرتا ہے۔ ہومیو پیتھک ادویات مریض کی انفرادی علامات، پٹھوں کی حالت اور درد کی نوعیت (Symptom Similarity) کو مدنظر رکھ کر تجویز کی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر طویل نشست، نامناسب پوزچر یا جسمانی تھکاوٹ اور بے آرامی کی وجہ سے جوڑوں اور پٹھوں میں کھچاؤ ہو اور جسم میں کچلے جانے کا احساس یعنی سورنیس (Soreness) ہو، تو 'آرنیکا مونٹانا' (Arnica Montana) ایک بہترین دوا ثابت ہوتی ہے۔ اسی طرح اگر مسلسل بیٹھنے کے بعد یکلخت اٹھنے یا حرکت کرنے پر کمر اور جوڑوں میں شدید درد ہو لیکن تھوڑی دیر مسلسل چلنے سے آرام محسوس ہو، تو 'رس ٹاکس' (Rhus Toxicodendron) نہایت کارآمد دوا سمجھی جاتی ہے۔ اس کے برعکس اگر ذرا سی حرکت کرنے سے درد شدید ہو جائے اور مکمل سکون و آرام سے افاقہ ملے تو 'برائیونیا البا' (Bryonia Alba) کی علامات واضح ہوتی ہیں۔ گردن کے مہروں کی اکڑن، سروائیکل پین (Cervical Pain) اور کندھوں کے شدید تناؤ کی صورت میں 'سمیسی فیوگا' (Cimicifuga) انتہائی مفید ثابت ہوتی ہے، جبکہ اعصابی کمزوری اور نرو پین (Nerve Pain) کے لیے 'ہائپیریکم' (Hypericum) اور 'کالی فاس' (Kali Phos) جیسی ادویات بھی مریض کو درد سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔


تاہم، ادویات کے ساتھ ساتھ طرزِ زندگی میں تبدیلی (Lifestyle Modification) لانا لازمی امر ہے۔ صرف علاج اس وقت تک مستقل فائدہ نہیں دے سکتا جب تک ہم اپنی روزمرہ کی بدپرہیزیوں کا خاتمہ نہ کریں۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ڈیجیٹل ڈیوائسز کے غیر ضروری اور حد سے زیادہ اسکرین ٹائم (Screen Time) کو محدود کریں اور ورچوئل دنیا کے بجائے حقیقی اور متحرک دنیا میں وقت گزاریں۔ متوازن غذا (Balanced Diet)، دودھ، دہی، ہری سبزیاں، پھل اور صاف پانی کی وافر مقدار کو اپنی خوراک کا حصہ بنائیں تاکہ جسم کو درکار ضروری غذائیت حاصل ہو سکے۔ صبح کی تازہ ہوا اور سورج کی دھوپ سے وٹامن ڈی حاصل کرنا اور سستی و کاہلی کو چھوڑ کر متحرک طرزِ زندگی اپنانا ہی جوڑوں اور پٹھوں کے ان روگوں سے نجات کا حقیقی راستہ ہے۔