خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس میں ادویات کی مہنگے داموں خریداری کا انکشاف

سرکاری نظام میں 70 فیصد تک رعایت دستیاب ہونے کے باوجود صحت کارڈ پلس کے ہسپتالوں کی جانب سے صرف 15 فیصد رعایت پر ادویات خریدنے کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں ادویات، طبی آلات اور دیگر سامان کی خریداری کے دوران قیمتوں میں نمایاں فرق سامنے آیا ہے۔ سرکاری سطح پر مرکزی خریداری نظام کے تحت ادویات 70 فیصد تک رعایت پر حاصل کرنے کا امکان موجود ہے، تاہم صحت کارڈ پلس سے منسلک ہسپتال مقامی سپلائرز سے محض 15 فیصد رعایت پر ادویات خرید رہے ہیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صحت کارڈ پلس کے تحت منسلک ہسپتالوں نے سرکاری مرکزی خریداری نظام کو نظرانداز کرتے ہوئے الگ الگ خریداری کا طریقہ اختیار کر رکھا ہے، جس کے باعث سرکاری خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق صحت کارڈ پلس کے مجموعی طبی اخراجات کا تقریباً 40 سے 45 فیصد حصہ ادویات، طبی آلات اور دیگر طبی سامان کی خریداری پر خرچ ہوتا ہے۔ مختلف ہسپتالوں کی جانب سے انفرادی طور پر خریداری کے باعث قیمتوں، معیار اور شفافیت کی نگرانی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ صحت کارڈ پلس کے تحت ادویات اور طبی سامان کی خریداری کو فوری طور پر سرکاری مرکزی خریداری نظام سے منسلک کیا جائے تاکہ کم قیمت پر معیاری ادویات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔اس کے علاوہ خریداری کے پورے عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔




