ہفتہ، 17 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

لفظوں کا جادو،تحریر: مہوش شفیق

نقطہ نظر

گاؤں کے کنارے پر ایک پرانی حویلی تھی۔ اس حویلی کی دیواروں پر وقت نے اپنی انگلیوں سے بہت سی لکیریں کھینچ دی تھیں۔ اس حویلی میں ایک بوڑھا شخص رحمت علی اکیلا رہتا تھا۔ وہ کبھی اس گاؤں کا سب سے مشہور استاد تھا مگر اب اس کی دنیا صرف کتابیں، ایک پرانا حقہ اور ایک چھوٹا سا باغ تھا۔ اس باغ میں امرود اور انار کے درخت تھے اور شام کے وقت وہاں خوشبو پھیل جاتی تھی۔ لوگ کہتے تھے کہ استاد جی کی باتوں میں ایسا جادو ہے کہ روتا ہوا انسان بھی مسکرا دیتا ہے۔ وہ کسی کو ڈانٹتے نہیں تھے بلکہ اپنی نرم بات سے اس کا دل بدل دیتے تھے۔

ایک شام جب سورج ڈوب رہا تھا اور پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہے تھے، گاؤں کا ایک نوجوان سعید غصے اور مایوسی کے ساتھ استاد کے باغ میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھیں سرخ تھیں اور چہرے پر ایسی تھکن تھی جیسے اس نے برسوں سے نیند نہ دیکھی ہو۔ اس کے کپڑوں پر مٹی لگی تھی اور اس کی چال سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اندر سے ٹوٹ چکا ہے۔ وہ چارپائی کے قریب آ کر خاموش کھڑا ہو گیا۔

اس نے بغیر سلام کیے کہا: ”استاد جی! سب ختم ہو گیا ہے۔“

استاد نے آرام سے اسے چارپائی پر بٹھایا اور پوچھا: ”کیا ختم ہو گیا ہے، بیٹا؟“

سعید نے تلخ لہجے میں جواب دیا: ”دوستی! میرا بچپن کا دوست عمران جس کے ساتھ میں نے اپنی ہر خوشی اور ہر غم بانٹا، اس نے مجھے دھوکا دیا۔ ہم نے مل کر کاروبار شروع کیا تھا۔ میں نے اس پر آنکھیں بند کر کے بھروسا کیا تھا مگر اس نے کاروبار میں میرا حصہ کھا لیا۔ اب مجھے کسی پر بھروسا نہیں رہا۔ میرا دل ٹوٹ گیا ہے اور میری امیدیں بکھر گئی ہیں۔“

استاد نے ایک گہری سانس لی اور کہا: ”بیٹا! انسان کا سب سے بڑا جادو اس کے لفظ ہیں۔“

سعید نے حیرت سے استاد کی طرف دیکھا اور بولا: ”لفظ؟ استاد جی، لفظوں سے کیا ہوتا ہے؟ لفظ تو بس ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ میرا نقصان تو پیسوں کا ہوا ہے، دل کا ہوا ہے۔ لفظوں سے میرا نقصان کیسے پورا ہوگا؟“

استاد مسکرایا اور بولا: ”نہیں بیٹا، لفظ ہوا میں نہیں اڑتے۔ وہ دلوں پر اترتے ہیں اور وہیں اپنا گھر بنا لیتے ہیں۔ ایک کڑوا لفظ تلوار سے بھی زیادہ گہرا زخم لگاتا ہے اور ایک نرم لفظ اسی زخم پر مرہم کا کام کرتا ہے۔ تم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک جملہ انسان کی پوری زندگی کیوں بدل دیتا ہے؟“

سعید خاموش ہو گیا۔ استاد نے اس کی خاموشی کو محسوس کیا اور اپنی پرانی یادوں کا دریچہ کھولا۔

”سنو بیٹا! آج سے بیس سال پہلے اسی گاؤں میں دو سگے بھائی رہتے تھے، اکبر اور اصغر۔ دونوں میں اتنی محبت تھی کہ لوگ مثال دیتے تھے مگر ایک دن زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر ان میں جھگڑا ہو گیا۔ غصے میں دونوں نے ایک دوسرے کو ایسے کڑوے لفظ کہے کہ ان کا رشتہ ٹوٹ کر چکنا چور ہو گیا۔ اس دن کے بعد ان کے گھروں میں خاموشی چھا گئی۔“

”دونوں نے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا چھوڑ دیا۔ عید آتی تو دونوں کے دروازے بند رہتے۔ بچے بھی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے ان کے درمیان کوئی دیوار کھڑی ہو گئی ہو۔ گاؤں کے لوگ ان کو ملانے کی بہت کوشش کرتے تھے مگر دونوں اپنی ضد پر قائم تھے۔ ہر شخص یہی کہتا تھا کہ اب یہ رشتہ کبھی نہیں جڑے گا۔“

”پھر ایک رات اصغر کا چھوٹا بیٹا سخت بیمار ہو گیا۔ اس کو تیز بخار تھا اور وہ درد سے کراہ رہا تھا۔ گاؤں میں کوئی ڈاکٹر نہیں تھا اور شہر جانے کے لیے رات کو سواری بھی نہیں مل رہی تھی۔ اصغر پریشان اپنے دروازے پر کھڑا تھا۔ اس کی بیوی گھر کے اندر بچے کو سنبھال رہی تھی اور وہ بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ اکبر اپنے کندھے پر چادر ڈالے چپ چاپ اس کے دروازے پر کھڑا ہے۔“

”اکبر نے کوئی شکوہ نہیں کیا، کوئی پرانا حساب نہیں مانگا۔ اس نے صرف اتنا کہا: ’بھائی! بچے کو اٹھاؤ، میں تانگہ لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘ یہ چند لفظ سن کر اصغر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے اپنے بھائی کو گلے لگا لیا۔“

استاد کی آواز بھرا گئی۔ ”بس، یہ چند نرم لفظ تھے، بیٹا! مگر انہوں نے بیس سال کی نفرت کو ایک ہی لمحے میں پانی کی طرح بہا دیا۔ اس رات دونوں بھائیوں نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر خوب رویا۔ اگلی صبح پورے گاؤں نے دیکھا کہ دونوں بھائی ایک ہی چارپائی پر بیٹھے چائے پی رہے ہیں۔ لوگ حیران تھے کہ اتنی بڑی نفرت اتنی جلدی کیسے ختم ہو گئی۔“سعید خاموش ہو گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اس کو اپنا بچپن یاد آ گیا جب وہ اور عمران ایک ساتھ اسکول جاتے تھے، ایک ساتھ کھیلتے تھے اور ایک ساتھ کھانا کھاتے تھے۔اس نے دھیمی آواز میں پوچھا: ”استاد جی! کیا میرا ٹوٹا ہوا دل بھی جڑ سکتا ہے؟ کیا میری بکھری ہوئی امیدیں بھی سنور سکتی ہیں؟“

استاد نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: ”ہاں بیٹا! نرم لفظ ٹوٹے ہوئے دل کی ٹوٹی کرچیوں کو یوں جوڑ دیتا ہے جیسے اندھیری رات میں کوئی چراغ جل اٹھے اور بکھری ہوئی امیدیں پھر سے اس طرح سنور جاتی ہیں جیسے سوکھے صحرا پر پہلی بارش برس جائے۔ تمہارا دل بھی جڑ سکتا ہے بشرطیکہ تم نفرت کو دل سے نکال دو۔“

”تم عمران سے نفرت کر کے اپنے دل کو مزید زخمی کر رہے ہو۔ جا کر اس سے صرف ایک نرم بات کر لو۔ وہ شرمندہ ہے تو تمہارا ایک لفظ اسے بھی جوڑ دے گا۔ یاد رکھو کہ معاف کرنا کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی بہادری ہے۔“

اگلے دن سعید بھاری دل کے ساتھ عمران کی دکان پر گیا۔ عمران نے اسے دیکھ کر نظریں جھکا لیں۔ اس کے چہرے پر شرمندگی صاف نظر آ رہی تھی۔ سعید نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد صرف اتنا کہا: ”عمران! میں تم سے ناراض تھا مگر میں تمہاری دوستی کو کھونا نہیں چاہتا۔ پیسہ پھر کما لیں گے مگر بچپن کی دوستی پھر نہیں ملے گی۔ میں نے رات بھر سوچا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ رشتے پیسوں سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں۔“

یہ سننا تھا کہ عمران کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے سعید کو گلے لگا لیا اور روتے ہوئے کہا: ”مجھے معاف کر دو، دوست! میں لالچ میں اندھا ہو گیا تھا۔ تمہارا ایک نرم لفظ میرے دل کا سارا بوجھ اتار گیا۔ میں نے کئی راتوں سے نیند نہیں دیکھی تھی۔ میں تمہارا سامنا کرنے سے ڈرتا تھا۔“

اس دن گاؤں کے لوگوں نے دیکھا کہ دو بچھڑے ہوئے دوست پھر سے ایک ساتھ ہنس رہے ہیں۔ دونوں نے مل کر کاروبار کا نیا حساب بنایا اور ایک دوسرے سے وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی لالچ کو دوستی پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔

سعید اس شام پھر استاد کے پاس گیا اور بولا: ”استاد جی! آج مجھے سمجھ آ گیا کہ اصل طاقت ہتھیاروں میں نہیں، دولت میں نہیں بلکہ نرم لفظوں میں ہے۔ آپ نے میرے دل کا بوجھ اتار دیا ہے۔“

استاد نے مسکرا کر کہا: ”ہاں بیٹا! یہی لفظوں کا جادو ہے۔ جو دل جوڑ دے وہی سب سے بڑا جادوگر ہے۔“