جمعرات، 22 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

لباس شریف، انسان بے ایمان،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

اکثر یہ بات سننے کو ملتی ہے کہ عورت کے لباس سے اس کے کردار کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ کسی عورت نے کیا پہنا ہے، یہ اس کی ظاہری وضع قطع ہے، اس کے اخلاق، تربیت اور کردار کا مکمل تعارف نہیں۔ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے، لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں صرف عورت کو ہی لباس کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے کیا مرد کے لباس کو دیکھ کر اس کی شخصیت کے بارے میں رائے قائم نہیں کی جاتی؟ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو جانچنے کے لیے ظاہری شکل و صورت کے ایسے پیمانے بنا رکھے ہیں جن سے عورت بھی متاثر ہوتی ہے اور مرد بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عورت کے لباس کو اکثر اس کے کردار سے جوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ مرد کے لباس کو اس کی حیثیت، قابلیت، شرافت اور کامیابی کی علامت سمجھ لیا جاتا ہے۔ دونوں صورتوں میں ہم ایک ہی غلطی کرتے ہیں انسان کو جاننے سے پہلے اس کے ظاہر پر فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔


ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے۔ ایک شخص صاف ستھرا کاٹن کا سوٹ پہن کر دفتر آتا ہے، جوتے چمک رہے ہوتے ہیں، بال سلیقے سے بنے ہوتے ہیں اور گفتگو میں اعتماد ہوتا ہے۔ ہم اسے دیکھتے ہی ایک مہذب اور ذمہ دار شخص تصور کرنے لگتے ہیں۔ اگر وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز ہو تو اس کی ظاہری شخصیت ہمارے ذہن میں اس کی دیانت داری کا تاثر بھی پیدا کر سکتی ہے۔ لیکن کیا ضروری ہے کہ صاف ستھرا لباس پہننے والا افسر ایماندار بھی ہو کیا ممکن نہیں کہ اسی استری شدہ سوٹ کے اندر ایک ایسا شخص موجود ہو جو رشوت لیتا ہو، غریبوں کے حقوق دباتا ہو، سرکاری وسائل کو ذاتی ملکیت سمجھتا ہو اور اپنے اختیار سے لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہو اس کے کپڑے صاف ہیں، مگر اس کے معاملات بھی صاف ہوں، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔


اسی طرح ایک شخص ٹائی اور بوٹ پہن کر کسی تقریب میں داخل ہو تو لوگ اسے تعلیم یافتہ، باوقار اور شریف سمجھنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف ایک مزدور، رکشہ ڈرائیور یا معمولی لباس پہننے والا شخص ہمارے سامنے آ جائے تو شاید ہم اسے وہ احترام نہ دیں جس کا وہ مستحق ہے۔ حالانکہ ممکن ہے کہ ٹائی لگانے والا شخص دوسروں کو دھوکا دے کر دولت کما رہا ہو اور سادہ لباس والا مزدور اپنی محنت کی کمائی سے بچوں کا پیٹ پالتا ہو۔ ایک کے پاس اپنی حیثیت دکھانے کے وسائل ہیں، دوسرے کے پاس شاید صرف اپنی محنت اور دیانت ہے۔ اب اگر ہم نے دونوں کے کردار کا فیصلہ ان کے لباس سے کر لیا تو غلطی کس کی ہوئی ان کی یا ہماری۔


یہی پیمانہ جب عورت کے معاملے میں استعمال ہوتا ہے تو اس کی شدت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ عورت نے کیسا لباس پہنا ہے، وہ کس انداز میں بات کرتی ہے اور کس طرح اپنی زندگی گزارتی ہے، ان باتوں کو دیکھ کر اس کے کردار پر تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی انسان کے اخلاق کا اندازہ صرف اس کی ظاہری وضع قطع سے لگایا جا سکتا ہے اگر نہیں، تو پھر عورت کے لیے یہ اصول مختلف کیوں ہو اور اگر مرد کو بھی اس کے لباس سے پرکھنا غلط ہے تو ہمیں یہ تسلیم کرنے میں ہچکچاہٹ کیوں ہونی چاہیے کہ انسان کا ظاہر اس کے باطن کی مکمل تصویر نہیں ہوتا۔


یہاں بات کسی ایک لباس کو اچھا یا برا قرار دینے کی نہیں، نہ ہی یہ ضروری ہے کہ ہر شخص اپنی پسند اور ترجیحات کے بارے میں دوسروں سے اتفاق کرے۔ ہر انسان کو اپنی پسند، تہذیب اور اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ اختلاف اپنی جگہ موجود رہ سکتا ہے، لیکن اختلاف کی بنیاد پر کسی کے کردار کا فیصلہ کرنا الگ بات ہے۔ کسی شخص کے لباس سے آپ کو اتفاق نہیں، تو یہ آپ کی رائے ہو سکتی ہے؛ مگر اس سے یہ نتیجہ نکال لینا کہ وہ شخص بدکردار بھی ہوگا، محض ایک مفروضہ ہے۔ کردار جاننے کے لیے انسان کے رویے، معاملات، سچائی، دیانت اور دوسروں کے حقوق کے بارے میں اس کے طرزِ عمل کو دیکھنا پڑتا ہے۔


ہمارا معاشرہ ظاہری شرافت سے اتنا متاثر ہے کہ بعض اوقات اصل شرافت ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ ہم مہنگے لباس والے شخص کے لیے احترام کے الفاظ تلاش کرتے ہیں، مگر عام لباس میں ملبوس کسی شخص کی بات سننے سے پہلے ہی اس کی حیثیت کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ ہم عورت کے لباس سے اس کے کردار کا فیصلہ کرتے ہیں اور مرد کے لباس سے اس کی قابلیت کا۔ دونوں رویے ایک ہی سوچ کی پیداوار ہیں، یعنی ہم انسان کو اس کی حقیقت سے نہیں بلکہ اس تاثر سے پہچاننا چاہتے ہیں جو وہ پہلی نظر میں ہمارے ذہن پر چھوڑتا ہے۔


شاید ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لباس انسان کے جسم کو ڈھانپتا ہے، اس کے کردار کو نہیں۔ کردار تو اس وقت سامنے آتا ہے جب انسان کسی کمزور کے ساتھ معاملہ کرتا ہے، جب اسے کسی کا حق مارنے کا موقع ملتا ہے، جب سچ بولنے سے اس کا نقصان ہو سکتا ہے اور جب اسے اپنے فائدے کے لیے کسی دوسرے کو دھوکا دینا پڑے۔ ان موقعوں پر نہ سوٹ کام آتا ہے، نہ ٹائی، نہ مہنگی گھڑی اور نہ ہی کسی مخصوص لباس کا تاثر۔


ہمیں عورت کے لباس سے اس کا کردار پڑھنے کی عادت بھی چھوڑنی چاہیے اور مرد کے لباس سے اس کی شرافت کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا بھی۔ کیونکہ انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ کیسا دکھائی دیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ کیسا ہے۔ لباس آنکھ کو متاثر کرتا ہے، کردار انسان کو پہچنواتا ہے۔