میں پاکستان ہوں میں وہ سرزمین ہوں جس کی مٹی میں شہیدوں کے لہو کی خوشبو بسی ہے جس کی فضاؤں میں آزادی کے ترانے گونجتے ہیں جس کے دریاؤں میں زندگی بہتی ہے اور جس کے پہاڑوں کی بلندیاں میرے عوام کے حوصلوں کی داستان سناتی ہیں۔ میں وہ خواب ہوں جسے لاکھوں آنکھوں نے دیکھا جس کے لیے بے شمار لوگوں نے قربانیاں دیں اور جس کی تعبیر کے لیے ایک عظیم قوم نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل دیا۔
میری پیدائش محض ایک جغرافیائی تبدیلی کا نام نہیں تھی بلکہ یہ ایک نظریے ایک جدوجہد اور ایک طویل تاریخی سفر کا نتیجہ تھی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک ایسے وطن کا خواب دیکھا جہاں وہ اپنی مذہبی تہذیبی معاشرتی اور سیاسی شناخت کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بے مثال قیادت علامہ محمد اقبالؒ کے فکری پیغام اور مسلمانوں کی مسلسل جدوجہد نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔ 14 اگست 1947ء کو میں دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے ابھرا۔
لیکن اے میرے لوگو کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ میری آزادی کے پیچھے کتنی آہیں کتنے آنسو اور کتنی قربانیاں پوشیدہ ہیں؟ کتنے خاندان اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے کتنے بچوں نے اپنے والدین کو کھویا کتنی ماؤں نے اپنے جگر گوشوں کو قربان کیا اور کتنی بہنوں نے اپنے بھائیوں کی جدائی کا دکھ برداشت کیا؟ ہجرت کے راستوں پر بہنے والا خون میری تاریخ کا وہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ میں ان قربانیوں کا امین ہوں اور میری شناخت انھی قربانیوں سے روشن ہے۔
آج جب میں اپنے وجود پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اپنی سرزمین کی بے پناہ خوب صورتی پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ شمال میں بلند و بالا پہاڑ گلگت بلتستان کی دل کش وادیاں کشمیر کے سرسبز مناظر پنجاب کے لہلہاتے کھیت سندھ کی تاریخی تہذیب بلوچستان کے وسیع پہاڑ خیبر پختونخوا کی خوب صورت وادیاں اور ساحل سمندر کی وسعتیں میری پہچان ہیں۔ دریائے سندھ میری زندگی کی علامت ہے اور میرے کھیتوں میں محنت کرنے والا کسان میری معیشت کی بنیاد ہے۔ میرے شہروں میں کام کرنے والا مزدور، علم حاصل کرنے والا طالب علم اور اپنے فرائض انجام دینے والا ہر شہری میری طاقت ہے۔
میں صرف پہاڑوں دریاؤں میدانوں اور شہروں کا نام نہیں ہوں۔ میں ان کروڑوں انسانوں کی امید ہوں جو بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ میں اس ماں کی دعا ہوں جو اپنے بچے کو اسکول بھیجتے ہوئے ایک روشن کل کی تمنا کرتی ہے۔ میں اس باپ کی محنت ہوں جو اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دن رات جدوجہد کرتا ہے۔ میں اس نوجوان کا عزم ہوں جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھنے کی ہمت رکھتا ہے۔ میں اس سپاہی کا حوصلہ ہوں جو میری سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان تک قربان کرنے کو تیار رہتا ہے۔
مگر میرے دل میں کچھ سوال بھی ہیں۔ کیا میری آزادی کا مقصد صرف پرچم لہرانا اور قومی ترانے گانا تھا؟ کیا میری ترقی کا مطلب صرف بلند عمارتیں تعمیر کرنا ہے؟ کیا میری کامیابی صرف نعروں اور تقریبات سے ممکن ہے؟ نہیں میری حقیقی ترقی اس وقت ہوگی جب میرے ہر بچے کو معیاری تعلیم میسر آئے گی، جب کسی غریب کو علاج کے لیے اپنی جمع پونجی فروخت نہیں کرنا پڑے گی جب کسی نوجوان کو روزگار کے لیے دربدر نہیں ہونا پڑے گا اور جب انصاف امیر و غریب طاقت ور و کمزور، سب کے لیے یکساں ہوگا۔
مجھے دکھ ہوتا ہے جب میرے بچے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں جب غربت کسی باپ کو اپنے خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے روک دیتی ہے اور جب میرٹ کی جگہ سفارش کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب میرے نام پر نفرتیں پھیلائی جاتی ہیں جب زبان نسل صوبے اور فرقے کی بنیاد پر انسانوں میں فاصلے پیدا کیے جاتے ہیں۔ میں پنجاب سندھ بلوچستان خیبر پختونخوا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں میں کوئی اجنبیت نہیں دیکھنا چاہتا۔ میری خوب صورتی ہی میری رنگا رنگی ہے۔ میری زبانیں مختلف ہوسکتی ہیں میرے لباس مختلف ہوسکتے ہیں میری روایات مختلف ہوسکتی ہیں لیکن میری قومی شناخت ہم سب کو ایک رشتے میں جوڑتی ہے۔
میرے نوجوانو تم میری سب سے بڑی امید ہو۔ تمہارے ہاتھوں میں کتاب ہو تمہارے ذہنوں میں تحقیق کا جذبہ ہو تمہارے کردار میں سچائی ہو اور تمہارے دلوں میں انسانیت کے لیے محبت ہو تو کوئی طاقت تمہیں ترقی کی منزلوں تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کے بجائے علم ہنر، تحقیق ادب صحافت اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں اپنی صلاحیتیں منواؤ۔ اختلاف ضرور کرو، مگر دلیل کے ساتھ سوال ضرور اٹھاؤ مگر ذمہ داری کے ساتھ؛ تنقید ضرور کرو مگر اصلاح کی نیت سے۔
میرے سیاست دانوں دانش وروں صحافیوں اساتذہ اور معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد سے بھی میری ایک درخواست ہے میری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو ذاتی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھاؤ۔ اختلاف رائے کو دشمنی نہ بناؤ اقتدار کو خدمت کا ذریعہ سمجھو اور قلم کو سچائی کی آواز بناؤ۔ صحافت کا مقصد صرف سنسنی پھیلانا نہیں بلکہ عوامی مسائل اجاگر کرنا اور معاشرے میں شعور پیدا کرنا بھی ہے۔ ادب کا کام صرف الفاظ سجانا نہیں بلکہ انسان کے اندر احساس برداشت اور محبت پیدا کرنا بھی ہے۔
میرے کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ دو میرے مزدور کو اس کے حقوق دو میری بیٹیوں کو تعلیم اور ترقی کے مساوی مواقع دو اور میرے ہر شہری کو عزت کے ساتھ جینے کا حق دو۔ قانون کی بالادستی شفاف نظام معاشی استحکام معیاری تعلیم اور سماجی انصاف ہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط پاکستان تعمیر ہوسکتا ہے۔
یاد رکھو وطن سے محبت صرف جذبات کا نام نہیں یہ ایک ذمہ داری ہے۔ سڑک پر کچرا نہ پھینکنا قانون کی پابندی کرنا ایمانداری سے کام کرنا ٹیکس اور قومی ذمہ داریوں کو پورا کرنا دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا اور نفرت کے بجائے محبت بانٹنا بھی حب الوطنی ہے۔ وطن کی تعمیر صرف حکمرانوں کا فرض نہیں ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
میں پاکستان ہوں۔ میں نے مشکل حالات دیکھے ہیں بحرانوں کا سامنا کیا ہے اور بار بار آزمائشوں سے گزرا ہوں مگر میری امید ابھی زندہ ہے۔ میرے بچوں کی آنکھوں میں خواب ہیں میرے نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ ہے اور میری مٹی میں محنت وفا اور قربانی کی طاقت موجود ہے۔
مجھے کسی سے نفرت نہیں مجھے اپنے لوگوں سے محبت ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے نام کے ساتھ ترقی امن علم انصاف اور خوش حالی کی پہچان وابستہ ہو۔ دنیا مجھے ایک ایسے ملک کے طور پر پہچانے جہاں انسان کی عزت کی جاتی ہے جہاں خوابوں کو حقیقت بنانے کے مواقع ملتے ہیں اور جہاں اختلاف کے باوجود اتحاد قائم رہتا ہے۔
آؤ عہد کریں کہ ہم اپنے وطن کو صرف الفاظ میں نہیں اپنے کردار اور عمل سے بھی عظیم بنائیں گے۔ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایسا پاکستان دیں گے جہاں امید مایوسی پر غالب ہو علم جہالت کو شکست دے انصاف ظلم کا راستہ روکے اور محبت نفرت کی دیواریں گرا دے۔
میں پاکستان ہوں میں تمہاری پہچان ہوں تمہارا فخر ہوں تمہاری امید ہوں۔ میری عزت تمہاری عزت ہے میری ترقی تمہارا مستقبل ہے اور میری خوش حالی تمہاری کامیابی ہے۔ میرا خواب ایک ایسا پاکستان ہے جہاں ہر شہری سر اٹھا کر جی سکے جہاں ہر بچہ روشن مستقبل دیکھ سکے اور جہاں ہر دل سے ایک ہی آواز بلند ہو۔
پاکستان زندہ باد
مزید پڑھیں






