جب لفظوں کے مسافر روبرو ہوں گے،تحریر: مبراء عبدالقیوم
نقطہ نظرباغی رائٹرز فورم کی ایوارڈ سرمنی کے تناظر میں ایک خصوصی ادبی تحریر

کچھ ملاقاتیں وقت کی پابند ہونے سے پہلے ہی دل میں جگہ بنا لیتی ہیں۔ کچھ چہرے دیکھے بغیر اپنے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ کچھ آوازیں سنے بغیر مانوس سی لگنے لگتی ہیں۔ اور کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی بنیاد کسی تعارف، رسم یا کسی رسمی تعلق پر نہیں، بلکہ لفظوں کی محبت پر رکھی جاتی ہے۔ 28 نومبر 2026ء بھی ایک ایسا ہی دن بننے جا رہا ہے۔ جب باغی رائٹرز فورم کی ایوارڈ سرمنی میں قلم سے محبت کرنے والے کئی مسافر، ایک دوسرے کے روبرو ہوں گے۔ یہ محض ایک تقریب نہیں، بلکہ اُن احساسات کی ملاقات ہے: جو اب تک تحریروں کے صفحات پر سانس لیتے رہے ہیں۔ یہ اُن خیالوں کا اجتماع ہے جنہوں نے کبھی کسی کی آنکھ نم کی، کبھی کسی کے لبوں پر مسکراہٹ سجائی، کبھی کسی سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑا اور کبھی کسی مایوس دل کو جینے کا حوصلہ دیا۔
ذرا تصور کیجیے! ایک ہال میں ایسے لوگ جمع ہوں گے۔ جن میں سے بیشتر نے شاید ایک دوسرے کو کبھی دیکھا تک نہیں ہوگا۔ کسی کا تعارف کسی کی نظم سے ہے۔ کوئی کسی کی نثر کا اسیر ہے۔ کسی نے کسی کے افسانے میں اپنی زندگی کی جھلک دیکھی ہے۔ تو کسی کے کالم نے اسے سوچنے کا نیا زاویہ عطا کیا ہے۔ چہرے اجنبی ہوں گے مگر الفاظ شناسا؛ ہاتھ پہلی بار ملیں گے مگر احساسات شاید مدتوں سے ایک دوسرے سے ہم کلام ہوں گے۔
یہی تو ادب کا کمال ہے کہ یہ فاصلے مٹانے کے لیے راستوں کا محتاج نہیں ہوتا ہے۔ ایک تحریر ہزاروں میل دور بیٹھے انسان کے دل تک رسائی حاصل کر لیتی ہے۔ لکھنے والا اپنے کمرے کی تنہائی میں جو لفظ کاغذ پر اتارتا ہے، وہ کسی نامعلوم قاری کے دل میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔ کبھی ایک جملہ کسی کی امید بن جاتا ہے، کبھی ایک شعر کسی کی خاموشی کی ترجمانی کرتا ہے اور کبھی کسی افسانے کا کردار قاری کو اپنی ہی زندگی کا آئینہ دکھا دیتا ہے۔
باغی رائٹرز فورم کی یہ تقریب بھی اسی ادبی وابستگی کو روبرو ملاقات میں ڈھالنے کا ایک موقع ہے۔ ایوارڈ یقیناً لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ لیکن کسی بھی ادبی اجتماع کی اصل خوب صورتی صرف اعزازات اور اسناد تک محدود نہیں ہوتی ہے۔ اس کی اصل روح وہ محبت ہے جو ایک لکھنے والے کو دوسرے لکھنے والے کے لیے محسوس ہوتی ہے۔ وہ احترام ہے جو مختلف خیالات رکھنے کے باوجود دلوں میں باقی رہتا ہے۔ وہ وسعتِ نظر ہے جو ہمیں دوسروں کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا سکھاتی ہے۔
ہر لکھنے والے کا اپنا ایک جہان ہوتا ہے۔ کوئی لفظوں میں خوشبو بھرتا ہے، کوئی تلخ حقیقتوں سے پردہ اٹھاتا ہے، کوئی معاشرتی رویوں پر سوال کرتا ہے، کوئی محبت کو نئے معنی دیتا ہے۔ اور کوئی اپنے قلم سے محروم طبقات کی آواز بننے کی کوشش کرتا ہے۔ ان سب کے موضوعات مختلف اور انداز جدا ہو سکتے ہیں مگر ایک مشترکہ رشتہ انہیں جوڑتا ہے: لفظوں کے ذریعے اپنے احساس، اپنے مشاہدے اور اپنی فکر کو دوسروں تک پہنچانے کی خواہش۔
ایسے میں جب یہ قلم کار ایک جگہ بیٹھیں گے تو گفتگو کے نئے در وا ہوں گے۔ شاید کسی کو اپنے پسندیدہ لکھاری سے یہ پوچھنے کا موقع ملے کہ اس کے کسی کردار نے جنم کیسے لیا۔ شاید کوئی شاعر اپنے شعر کے پس منظر سے پردہ اٹھائے، کوئی افسانہ نگار اپنے کرداروں کی دنیا کے راز بتائے اور کوئی نیا لکھنے والا کسی سینئر قلم کار سے رہنمائی حاصل کرے۔ ممکن ہے ایک مختصر سی ملاقات کسی نئے ادبی تعلق کی بنیاد بن جائے، اور شاید کوئی ایک جملہ کسی کے آنے والے سفر کا حوصلہ بن جائے۔
میری نظر میں اس تقریب کی ایک خوب صورتی یہ بھی ہے، کہ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ: "لکھنے کا سفر بظاہر تنہا ہوتا ہے مگر اس سفر میں ہم کبھی مکمل طور پر اکیلے نہیں ہوتے۔" ہمارے قاری، ہمارے ہم عصر، ہمارے ناقدین اور ہمارے ہم خیال لوگ کسی نہ کسی صورت ہمارے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ کبھی ان کی پذیرائی ہمیں آگے بڑھاتی ہے، کبھی ان کی تنقید ہماری اصلاح کرتی ہے اور کبھی ان کی خاموش موجودگی بھی ہمارے لیے ایک حوصلہ بن جاتی ہے۔ البتہ قلم سے محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں، تنقید کو ذاتی حملہ نہ سمجھیں اور کامیابی کو دوسروں سے برتر ہونے کا پیمانہ نہ بنائیں۔ ادب کی دنیا میں اصل بلندی اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے لفظوں کے ساتھ اپنے ظرف کو بھی بلند کرتا ہے۔ اعزاز ملنا خوش نصیبی ہے، لیکن دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا بھی ایک خوب صورت ادبی وصف ہے۔ 28 نومبر کا انتظار یقیناً اُن تمام لوگوں کے لیے خوش گوار ہوگا، جو اس تقریب میں شرکت کریں گے۔ کوئی اپنے پسندیدہ لکھاری سے ملنے کے لیے پُرجوش ہوگا، کوئی پہلی ملاقات کی جھجک محسوس کرے گا، کوئی نئے دوست بنانے کے خواب دیکھے گا اور کوئی اس لمحے کو اپنی یادوں میں محفوظ کرنے کے لیے بے تاب ہوگا۔ مگر شاید اس دن کا سب سے حسین لمحہ وہ ہوگا جب کسی اجنبی سے ملاقات کے بعد یہ احساس پیدا ہوگا کہ ہم پہلے بھی کہیں مل چکے ہیں؛ شاید کسی تحریر میں، کسی شعر میں، کسی خیال میں یا کسی ایسے احساس میں جسے ہم دونوں نے کبھی لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کی تھی۔
اسی احساس کو چند اشعار میں سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
نظم: لفظوں سے ملاقات تک
ہم نے اک دوسرے کو
لفظوں میں جانا بہت،
خامشی کے نگر میں
دل کو پہچانا بہت۔
کوئی تحریر بن کر
دل میں اترتا رہا،
کوئی ان کہی باتوں کو سنوارتا رہا۔
اب وہ لمحہ بھی آخر قریب آئے گا،
اجنبی چہروں میں
اپنا پن نظر آئے گا۔
ہاتھ ملیں گے
تو احساس جاگ اٹھیں گے،
بند لفظوں کے سب در کھلنے لگیں گے۔
کوئی شعر اپنی خوشبو بکھیرے گا وہاں،
کوئی قصہ۔۔۔۔
نئی روشنی دے گا وہاں۔
نہ کوئی اجنبی پھر اجنبی رہ سکے گا،
دل کا رشتہ
کسی لفظ میں بہہ سکے گا۔
یہ جو قلم کے مسافر چلے آ رہے ہیں،
اپنے خوابوں کے
چراغ ساتھ لا رہے ہیں۔
یہ ملاقات فقط
ایک تقریب نہیں،
یہ محبت کی۔۔۔۔۔۔
کوئی معمولی روایت نہیں۔
ہم ملیں گے
تو نئے باب کھل جائیں گے،
لفظ کاغذ سے نکل کر
دلوں میں بس جائیں گے۔
آئیے، اس دن کو صرف اعزازات کی تقریب نہ بنائیں، بلکہ اسے محبت، احترام، علم اور ادبی اخوت کا جشن بنائیں۔
اپنے ساتھ خوش اخلاقی لائیں،
دوسروں کے لیے حوصلہ افزائی کے چند لفظ لائیں، اپنے سینے میں اختلاف کے باوجود
احترام کی گنجائش رکھیں اور اپنے قلم کی روشنی سے دوسروں کے چراغ روشن کرنے کا حوصلہ بھی۔
کیونکہ
آخرکار ہماری پہچان!
صرف وہ نہیں ہوگی
جو ہم اسٹیج پر وصول کریں گے
ہماری پہچان یہ بھی ہوگی کہ ہم اسٹیج سے اتر کر دوسروں کے دلوں میں کیا چھوڑ کر جائیں گے۔
28 نومبر 2026ء کو شاید بہت سے لوگ پہلی بار ایک دوسرے سے ملیں، لیکن دعا ہے کہ یہ پہلی ملاقات آخری نہ ہو۔ اس دن بننے والے تعلقات وقت کے ساتھ مضبوط ہوں۔ لفظوں سے شروع ہونے والی شناسائی خلوص تک پہنچے۔ اور باغی رائٹرز فورم کا یہ اجتماع سب کے لیے ایسی یاد بن جائے۔ جسے برسوں بعد بھی مسکرا کر یاد کیا جا سکے۔
کیونکہ لفظ جب دلوں کو جوڑتے ہیں، تو ملاقاتیں محض ملاقاتیں نہیں رہتیں، تاریخِ احساس کا حصہ بن جاتی ہیں۔
مزید پڑھیں

ٹرانس جینڈر مرد اور اہلیہ پہلے بچے کی آمد کے منتظر


سحر کامران کا بیگم نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت
