مداری کی بھوک ،تحریر : سیدہ شبانہ رضوی
نقطہ نظر
“بھوک مداری کو لگتی ہے، ناچنا بندر کو پڑتا ہے۔”
یہ جملہ بظاہر ایک محاورہ ہے، مگر ہمارے معاشی حالات پر نظر ڈالیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے پورے معاشرے کی تصویر چند لفظوں میں کھینچ دی ہو۔ یہی حال میرے وطن کا ہے؛ مشکل فیصلے اشرافیہ کرتی ہے اور فاقہ غریب کو کرنا پڑتا ہے۔
مہنگائی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ سب کے دروازے پر ایک جیسی دستک نہیں دیتی۔ جس گھر میں آمدن کے کئی ذرائع ہوں، وہاں قیمتوں میں اضافہ شاید بجٹ کو کچھ متاثر کرے، مگر زندگی کا پہیہ چلتا رہتا ہے۔ لیکن جس گھر کا سارا نظام ایک محدود تنخواہ، دیہاڑی یا پنشن پر چل رہا ہو، وہاں چند سو روپے کا اضافہ بھی پورے مہینے کا حساب بگاڑ دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک ہی بازار میں کھڑے دو انسانوں کے لیے ایک ہی قیمت کے معنی مختلف ہوتے ہیں۔ ایک شخص کے لیے مہنگی ہوتی ہوئی دال صرف ایک بڑھتا ہوا خرچ ہے، جبکہ دوسرے کے لیے یہ سوال بن جاتی ہے کہ آج دال پکائی جائے یا بچوں کے لیے دودھ خریدا جائے۔
ایک غریب باپ جب بازار جاتا ہے تو وہ صرف چیزیں نہیں خریدتا، اپنے بچوں کی خواہشوں اور اپنی استطاعت کے درمیان سمجھوتے کرتا ہے۔ بچہ کسی چیز کے لیے ضد کرتا ہے تو باپ مسکرا کر کہہ دیتا ہے، “بیٹا، اگلی بار لے دیں گے۔”
بچہ شاید اس “اگلی بار” کا انتظار کرتا رہتا ہے، مگر باپ جانتا ہے کہ اگلی بار بھی بجٹ شاید اجازت نہ دے۔
ایک ماں کے لیے مہنگائی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ راشن کی فہرست ہاتھ میں لے کر دکان پر پہنچتی ہے اور واپس آتے ہوئے دیکھتی ہے کہ تھیلا پہلے سے ہلکا اور بل پہلے سے بھاری ہے۔ کبھی دودھ کم ہوجاتا ہے، کبھی گوشت مہینے میں ایک بار آتا ہے، کبھی بچوں کی فرمائش مؤخر ہوتی ہے اور کبھی اپنی دوا بھی اگلے ہفتے پر ڈال دی جاتی ہے۔
اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ غریب صرف اپنی ضروریات نہیں کم کرتا، وہ اپنے خواب بھی چھوٹے کرنے لگتا ہے۔
کسی بچے کی فیس جمع کرانی ہو تو گھر کا کوئی اور خرچ روک دیا جاتا ہے۔ بجلی کا بل زیادہ آجائے تو راشن متاثر ہوتا ہے۔ دوا مہنگی ہوجائے تو علاج مؤخر ہوتا ہے۔ کرایہ بڑھ جائے تو بچوں کی تعلیم خطرے میں پڑتی ہے۔ یوں ایک خرچ دوسرے خرچ کو نگلتا چلا جاتا ہے اور محدود آمدن والا انسان ہر مہینے ایک نئے امتحان سے گزرتا ہے۔
یقیناً ملک جب مشکل معاشی حالات سے دوچار ہو تو حکومتوں کے لیے فیصلے آسان نہیں ہوتے۔ قرضوں، محدود وسائل، عالمی حالات اور قومی اخراجات کے درمیان توازن پیدا کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ بعض اوقات مشکل فیصلے ناگزیر بھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان فیصلوں کی قیمت سب سے زیادہ وہی لوگ کیوں ادا کریں جو پہلے ہی سب سے کم رکھتے ہیں؟
اگر قربانی قوم سے مانگی جائے تو اس کا احساس ہر طبقے میں نظر آنا چاہیے۔ صاحبِ اختیار اور صاحبِ وسائل طبقے کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ قومی مشکلات صرف غریب کی آزمائش نہیں ہوتیں۔ عام آدمی سے سادگی کی توقع رکھی جائے تو اقتدار کے ایوانوں میں بھی سادگی دکھائی دینی چاہیے۔ عوام سے قربانی مانگی جائے تو انہیں یہ اعتماد بھی دیا جائے کہ قربانی کا بوجھ منصفانہ طور پر تقسیم ہو رہا ہے۔
کیونکہ غریب پہلے ہی بہت کچھ قربان کر چکا ہے۔
اس نے اپنی خواہشیں قربان کیں، بچوں کی فرمائشیں ٹالیں، تفریح چھوڑ دی، علاج مؤخر کیا، سفر کم کیے اور کئی بار اپنے لیے خریدنے کے بجائے بچوں کے لیے خریدنے کو ترجیح دی۔
وہ خیرات نہیں مانگتا۔ وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کی محنت اسے باعزت زندگی دے سکے۔
وہ چاہتا ہے کہ مہینے کے آخری دن اس کے گھر میں بھی چولہا اسی طرح جلے جیسے پہلے دن جلتا ہے۔ اس کی بیٹی فیس مانگتے ہوئے باپ کے چہرے کو نہ دیکھے۔ اس کا بیٹا کتاب خریدنے سے پہلے یہ نہ سوچے کہ گھر میں راشن کم تو نہیں پڑ جائے گا۔ ایک ماں دوا خریدنے اور بچوں کے دودھ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہ ہو۔
یہی تو ریاست اور معاشرے کی اصل ذمہ داری ہے کہ مشکل وقت میں سب سے کمزور ہاتھ کو تھاما جائے۔
ترقی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں اور بڑے منصوبوں کا نام نہیں۔ ترقی اس دن محسوس ہوگی جب ایک مزدور اپنے بچے کو یقین سے کہہ سکے، “تم پڑھو، تمہارا مستقبل ہم سے بہتر ہوگا۔”
کیونکہ وطن صرف نقشے پر بنی ہوئی سرحدوں کا نام نہیں؛ وطن ان کروڑوں انسانوں کا نام ہے جو اپنی محنت، صبر اور امید سے اسے زندہ رکھتے ہیں۔
اور شاید ہمیں کبھی کبھی اعداد و شمار سے نکل کر ان چہروں کو بھی دیکھنا چاہیے جو ان اعداد کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔
بھوک اگر مداری کو لگتی ہے تو ناچنے والے کو ہر بار بھوکا رکھنا انصاف نہیں۔
مشکل فیصلے ضرور کیجیے، مگر ایسے کہ غریب کی کمر نہ ٹوٹے۔
قومی قربانی ضرور مانگیے، مگر ایسی کہ امیر اور غریب دونوں کو محسوس ہو کہ بوجھ منصفانہ ہے۔
کیونکہ عام آدمی کا سوال بہت سادہ ہے:
“اگر یہ ملک ہم سب کا ہے، تو مشکل وقت بھی ہم سب کا کیوں نہیں؟”
مزید پڑھیں





