پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مقام حیرت ،تحریر: صغیرجعفری

نقطہ نظر
saghir h jafry

حیرت الہ آبادی کے اس آفاقی سچائی نے ہمیں حیرت زدہ کر دیا ہے کہ

آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں

سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں

حالانکہ یہ حیرت کا مقام نہیں بلکہ آخرت کے سفر کی تیاری کے لئے فکر و عمل کا وقت ہے.

اللہ تعالٰی کی طرف سے واضح اعلان کہ

* كل من عليها فان،

* اور..كل نفس ذائقة الموت

* ہر ایک نے فنا ہونا ہے اور ہر ذی روح نے موت کا ذائقہ چھکنا ہے ہم سے ہر شخص اس حقیقت ابدی سے اچھی طرح آگاہ ہونے کے باوجود موت کے بعد کی زندگی کے لئے زاد راہ کا سامان مہیا کرنے کی کوشش و فکر ہی نہیں کرتا۔

* دنیاوی کاموں اور اپنے وقار کے لئے کوشاں رہتا ہے اس کیفیت سے نکلنے کے لئے اللہ تعالٰی ہمیں مثالوں کے ذریعے اس طرح آگاہ فرماتے اور متنبہ کرتے ہیں

*

سورۃ التکاثر وہ سورۃ ہے جو زمانہ حال ہی کے سالوں میں ہمارے کرۂ ارض کے "سب سے بڑے امراض" کو بے نقاب کرتی ہے۔ اور یہ امراض ہیں

۔ نمود و نمائش، عزت و وقار، زر و دولت، حسب و نسب کی برتری کا اظہار


یہ سورت صرف ماضی کے قریش ہی سے مخاطب نہیں ہے، بلکہ یہ موجودہ دور کی "میڈیا جنریشن" سے بھی مخاطب ہے جو اعداد و شمار اور باہمی مقابلے اور موازنے کی زبان میں غرق ہو چکی ہے، اندھی دوڑ میں اس وقت تک بھاگتی رہی جب تک کہ موت نے اسے اچانک نہ آ گھیرا!


1... سورۃ کا سببِ نزول:


عزت و عظمت عدد اور دکھاوے کی دوڑ، حتیٰ کہ مردوں فوت شدگان کے ذریعے بھی:


قصہ بالکل سادہ ہے: یہ سورت مکہ مکرمہ میں قریش کے دو قبیلوں بنو عبد مناف اور بنو سہم کے بارے میں نازل ہوئی، جو ایک دوسرے کے سامنے مال و دولت، شان و شوکت، افراد کی تعداد اور اثر و رسوخ پر فخر و مباہات کر رہے تھے۔


بنو عبد مناف نے کہا: "ہم تعداد میں تم سے زیادہ ہیں اور عزت و شرف میں بھی تم سےبرتر ہیں"

بنو سہم نے کہا: "نہیں ہم زیادہ ہیں۔" انہوں نے دونوں قبیلوں کے زندہ افراد کو گننا شروع کیا تو بنو عبد مناف جیت گئے۔ لیکن مقابلے اور حسد کی آگ اس خوفناک حد تک پہنچ گئی کہ انہوں نے کہا: "چلو قبرستان چلتے ہیں اور اپنے مردوں کو بھی گنتے ہیں تاکہ پتہ چلے کہ کس کا خاندان زیادہ بڑا اور طاقتور ہے!"


وہ قبرستان گئے اور تکبر و فخر کے ساتھ قبروں کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے: "یہ بھی ہم میں سے تھا، اور یہ بھی ہم میں سے تھا!" چنانچہ اللہ سبحانه وتعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی تاکہ انسانی جنون کے اس کھیل کو فاش کرے۔


2...دورِ حاضر کے درد کی تشخیص اور اعداد و شمار کا جال

{ أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ }

آیت 1: اللہ تعالیٰ سورۃ کی شروعات حقیقی صدمے کے اظہار سے فرماتے ہیں: "أَلْهَاكُمُ" یعنی تم کو غافل کر دیا، تمہاری آنکھوں کو اندھا کر دیا، اور تمہاری نماز اور آخرت کو بھلا دیا۔ اور "التَّكَاثُرُ" کیا ہے؟ یہ مال، اعداد و شمار، مقابلے و موازنے اور ایک دوسرے پر فخر و مباہات کے پیچھے بھاگنا ہے۔


جوانوں اور گھروں کے حالات سے ربط: یہ عین ہمارے موجودہ دور اور بالخصوص سکرینوں کے پیچھے کی دنیا کا حال ہے! لڑکے اور لڑکیاں "تکاثر" زیادتی کی دوڑ میں ڈوب چکے ہیں؛ عزت وقار اور پیسے کی زیادتی، ویوز (Views)، فالوورز (Followers)، لائکس (Likes)، برانڈڈ کپڑے، فیشن، اور یہ کہ کس کی سیر و تفریح اور سفر زیادہ شاندار ہیں اور کس کا ظاہری روپ زیادہ خوبصورت ہے! اس تکاثر نے دلوں کو غافل کر دیا ہے؛ بوڑھے اور جوان مرد و زن اپنی نماز چھوڑ دیتے ہیں، ماں اپنی بیٹی کے فیشن کی تو فکر کرتی ہے لیکن اس کی پاکدامنی، نماز کی پابندی اور گھر میں قرآن کی تلاوت کو بھول جاتی ہے۔ ہر کوئی ایک لاحاصل اور بے مقصد دوڑ میں بھٹک رہا ہے!


3.... اچانک آنکھ کھلنا قبرستان کی زیارت کے لمحات :


{ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ }

آیت 2....یہاں لفظ ایک معجزہ ہے! اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ "یہاں تک کہ تم مر گئے"، بلکہ فرمایا: { زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ }

"حتیٰ کہ تم نے قبرستانوں کی زیارت کی"

کیونکہ انسان کا قبر میں ہونا محض ایک "عارضی زیارت" ہے جس کی مدت قیامت کے دن تک چند سال ہی ہے، یہ اس کی آخری منزل نہیں ہے۔


سادہ الفاظ میں مفہوم: اللہ تعالیٰ غافلوں سے فرما رہے ہیں: تم تکاثر، مال دولت اور لائکس کی دوڑ میں نمازوں کو مؤخر کرنے اور سکرین کے پیچھے چھپے ہوئے گناہوں میں یوں ہی بھاگتے رہو گے، اور اس نشے سے تمہاری آنکھ تبھی کھلے گی جب موت اچانک آ جائے گی اور تم قبر کے اندر ہو گے! اس وقت یہ تمام دوڑ ایک ہی لمحے میں رک جائے گی، اور تمہارے ساتھ تمہارے کفن اور عمل کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔


4... تنبیہ اور عین الیقین سے تصدیق:


{ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ ۔۔۔ ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ }

آیت 3 اور 4: اللہ تعالیٰ دو بار اس تنبیہ کو دہراتے ہیں تاکہ اس مرد اور اس عورت کے دل کو جھنجھوڑ سکے جو نماز نہیں پڑھتے: "كَلَّا" یعنی ہوش میں آؤ اور اس غفلت کو چھوڑ دو، کل تم حقیقت کو جان لو گے جب پردہ اٹھ جائے گا اور تم قبر اور اس کی تنگی کو دیکھ لو گے۔


{ كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ ....لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ * ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ }

آیت 5 سے 7: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اگر تمہارے پاس "عِلْمَ الْيَقِينِ" ہوتا، اور قرآن، اس کی آیات، اور تمہارے ارد گرد کے سیلاب و زلزلے تمہارے دلوں کو ہلا دیتے، تو تم جان لیتے کہ جہنم برحق ہے، اور تم قیامت کے دن اسے "عَيْنَ الْيَقِينِ" اپنی آنکھوں سے دیکھنا کی صورت میں دیکھ لو گے؛ یعنی ایسی برسرِ عام اور حقیقی رویت جس میں شک یا منافقت کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔


5... اختمام پر ایک دہلا دینے والا حتمی سوال:


سورت کا اختتام ایک ایسی آیت پر ہوتا ہے جو ہماری زندگی میں نعمتوں کی ناشکری اور انکار کو تار تار کر دیتی ہے:


{ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ }


آیت 8 : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اے میرے بندے اور بندی! دنیا میں جن جن چیزوں سے تم لطف اندوز ہوتے رہے، اور ہر وہ خاموش نعمت جس پر تم نے شکر ادا نہیں کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں ایک ایک سیکنڈ کا حساب لیں گے


نعمتوں کے بارے میں سوال:


اللہ تعالٰی ہم سے موبائل اور انٹرنیٹ کی نعمت کے بارے میں بھی پوچھیں گے کہ

اسے میری اطاعت میں استعمال کیا یا فرضی اکاؤنٹ اور خیانتوں میں؟


تم سے امارت صحت اور طاقت کے بارے میں پوچھیں گے:

اس سے فجر کی نماز کے لیے اٹھے یا اسے خواہشاتِ نفس میں ضائع کر دیا؟

تم سے کھانے، پینے اسراف اور اس گھر کی چھت کے پردے کی نعمت کے بارے میں پوچھیں گے جو تمہارے اوپر ہے۔ ماں سے اس کی بیٹی کے بارے میں پوچھا جائے گا: کیا اسے حیاء و عفت کے لباس سے سنوارا یا فیشن کے نام پر چھوڑ دیا اور اس کی نماز بھول گئی؟

کوئی نعمت مفت میں نہیں ملے گی، ہر چیز کا حساب میزان پر ہو گا۔


خلاصہ:

میرے پیارے احباب اور عزیزان من سورة التكاثر ہم میں سے ہر اس شخص سے کہہ رہی ہے جو اعداد و شمار، نمود و نمائش اور لائکس کی دنیا میں بھٹک رہا ہے:


یہ دوڑ ایک وہم اور سراب ہے، اور اس کا اختتام { حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ } پر ہونا ہے۔


اس طرح بھٹکنے اور آوارہ پن کا علاج صرف شکر اور کامل یقین ہے۔ آئیں ہم ان لوگوں میں سے نہ بنیں جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا { أَلْهَاكُمُ } تم کو غافل کر دیا آؤ آج ہی سے اس فانی تکاثر کے جال سے باہر نکلیں اور "الباقیات الصالحات" باقی رہنے والی نیکیوں میں اضافہ کریں۔ اپنے موبائل فونز کو ہر طرح کے گند سے پاک رکھیں، اپنی نمازوں کی حفاظت کریں، اپنی عفت و پاکدامنی کو برقرار رکھیں۔ تاکہ جب ہم سے نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے، تو ہم ان مطمئن اور شکر گزار نفوس قدسیہ کے قدموں میں بیٹھے ہوں جن کا جواب اللہ تعالیٰ کے سامنے باعثِ شرف و عزت ہو اور ہم جنت کا فضل حاصل کر سکیں۔

ہمیں حیرت و پریشانی سے نکل کر پوری یکسوئی سے سفر آخرت کی تیاری کے لئے اعمال صالحہ پر عمل کرنے کی ضرورت ہے