پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معصومیت کا داؤ اور قانون کی بے بسی،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

سندھ کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں کم عمری کی شادیوں کی تلخ حقیقت آج بھی ایک خاموش المیے کی صورت میں موجود ہے۔ تازہ ترین میدانی رپورٹس اور اعداد و شمار کے مطابق، صوبے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کو قانونی عمر سے پہلے ہی رشتہ ازدواج میں باندھ دیا جاتا ہے، جس سے انسانی حقوق اور صحت کے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ اگرچہ سندھ پاکستان کا وہ واحد صوبہ ہے جس نے اس حوالے سے باقاعدہ اور سخت قانون سازی کر رکھی ہے، تاہم زمینی سطح پر پرانے سماجی و معاشی رویے، قانونی نفاذ میں سستی اور معاشرتی بے حسی اس جرم کو مسلسل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔


شمالی اور جنوبی سندھ کے اضلاع جیسے کہ تھرپارکر، جیکب آباد، کشمور، گھوٹکی، دادو اور سانگھڑ میں کم عمری کی شادیوں کے محرکات کو قریب سے دیکھا جائے تو اس کے پچھے سب سے بڑی وجہ شدید معاشی تنگی اور ناداری ہے۔ پسماندگی کا شکار غریب خاندان بچیوں کو مالی بوجھ تصور کرتے ہوئے جلد از جلد ان کی رخصتی کو حل مانتے ہیں۔ مزید برآں، صدیوں سے چلی آنے والی روایتی رسوم جیسا کہ وٹہ سٹہ یعنی رشتوں کا تبادلہ، پٹ لکھی اور غیر قانونی جرگوں کے فیصلے اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ قبلائیت کی گرفت اور خاندانوں کے درمیان جاری دشمنیوں کا تصفیہ اکثر و بیشتر بے گناہ کم سن بچیوں کا رشتہ مخالف فریق کو سونپ کر کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، دیہاتوں میں یہ خوف بھی گہرا پایا جاتا ہے کہ لڑکی کی عمر بڑھنے سے خاندانی نام نہاد عزت اور غیرت کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس کے باعث 13 سے 16 سال کی بچیوں کی شادیاں خاموشی سے طے کر دی جاتی ہیں۔


ان وقت سے پہلے طے پانے والے رشتوں کا سب سے دردناک پہلو وہ نفسیاتی اور سماجی دباؤ ہے جو متاثرہ بچیوں پر مسلسل سوار رہتا ہے۔ جس عمر میں ایک لڑکی کو ذہنی اور جسمانی نشوونما کے مواقع ملنے چاہئیں، اس عمر میں اس پر ایک پورے گھرانے کی ذمہ داری، شوہر کی اطاعت اور سسرالی مطالبات کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔ ایک کم سن لڑکی، جو ابھی خود بالغت کے مراحل سے گزر رہی ہوتی ہے، اچانک خوف، تنہائی اور ذہنی تناؤ کی دلدل میں جا گرتی ہے۔ وہ نہ تو رشتوں کی تعقیدات کو سمجھنے کی پختگی رکھتی ہے اور نہ ہی اس کا نڈھال جسم حمل اور زچگی کے کٹھن مرحلے کو سنبھالنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس اچانک بدلاؤ سے نہ صرف ان کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ وہ عموماً شدید ڈپریشن، خوف اور سسرالی تشدد کا مسلسل شکار رہتی ہیں۔


اس تمام تر صورتحال میں معاشرتی بے حسی کا عنصر سب سے زیادہ تشویشناک رپورٹس کے ذریعے سامنے آتا ہے۔ گلی محلے اور برادری کے لوگ باخبر ہونے کے باوجود اس معاملے پر چپ سادھ لیتے ہیں اور اسے "گھر کا اندرونی معاملہ" قرار دے کر کنارہ کشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی خاموشی اور بے حسی ایسے جرائم کی سرپرستی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس کے سماجی اثرات کی بات کی جائے تو کم عمری کی شادی کسی بھی لڑکی کی تعلیم کے در کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیتی ہے۔ معاشی طور پر خودمختار ہونے کا راستہ بند ہونے کے باعث غربت کا یہ دور نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں، کم عمری میں زچگی کے باعث صوبے میں زچاؤں اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، جبکہ زندہ بچ جانے والے بچے بھی غذائی قلت اور معذوری کا شکار پائے جاتے ہیں۔


قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو سندھ کو یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ اس نے سنہ 2013 میں "سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ" منظور کیا، جس کے تحت لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے شادی کی کم از کم قانونی عمر 18 سال مقرر کی گئی۔ اس قانون کے تحت کم سن کی شادی کو نا قابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا اور اس میں شریک شوہر، والدین اور نکاح خواں کے لیے تین سال تک کی قید با مشقت اور جرمانے کی سزا طے کی گئی۔ تاہم، حکومتی اور پولیس انتظامیہ کے کمزور نفاذ کی وجہ سے اس قانون کی عملداری میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔ دیہی علاقوں میں نادرا فارم 'ب' یا پیدائش کا شناختی اندراج نہ ہونے کا فائدہ اٹھا کر نکاح ناموں میں فرضی عمریں لکھ دی جاتی ہیں اور مذہبی بنیادوں پر خفیہ نکاح پڑھا دیے جاتے ہیں، جس سے یہ قانون محض کاغذوں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔


صورتحال کا تقاضا ہے کہ سندھ میں اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے حکومتی، قانونی اور سماجی سطح پر عملی اقدامات کیے جائیں۔ سب سے پہلے سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ پر بغیر کسی استثنیٰ کے عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے والدین اور جعلسازی کرنے والے نکاح خوانوں کے خلاف فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے۔ اضلاع اور یونین کونسل کی سطح پر نادرا کے برتھ رجسٹریشن کے نظام کو سو فیصد فعال بنایا جائے تاکہ کسی بچی کی عمر چھپائی نہ جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے اسکولوں کا جال بچھایا جائے اور غریب خاندانوں کے لیے تعلیمی وظائف کا اہتمام کیا جائے تاکہ معاشی مجبوری کم عمری کی شادی کا جواز نہ بن سکے۔ نیز، غیر قانونی جرگوں پر مکمل پابندی اور آگاہی مہمات کے ذریعے ہی اس سماجی برائی کی روک تھام کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔