Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مضبوط لوگ بھی کبھی کبھی ٹوٹنا چاہتے ہیں،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

کچھ لوگوں کے حصے میں عجیب سی شہرت آتی ہے۔ وہ ذرا سا مسکرا دیں تو لوگ سمجھتے ہیں، یہ تو بہت مضبوط ہے۔ وہ مشکل وقت میں خاموش رہیں تو کہا جاتا ہے، ’’یہ تو بہت بہادر ہے۔‘‘ وہ آنکھوں میں اترے ہوئے آنسو واپس لوٹا دیں تو لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ اور شاید یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ایک مضبوط انسان، سب کی نظروں کے سامنے مضبوط رہتے رہتے، اندر سے تھکنے لگتا ہے۔

ہم نے جانے کب یہ طے کر لیا کہ بہادری کا مطلب درد محسوس نہ کرنا ہے۔ جیسے جو شخص دوسروں کو سنبھال سکتا ہے، اسے خود سنبھالے جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے جو ہر مشکل کے سامنے کھڑا رہتا ہے، اسے کبھی کسی کے کندھے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مضبوط ہونا انسان کو انسان ہونے سے آزاد نہیں کرتا۔

کبھی کبھی وہ شخص جو سب کے لیے حوصلہ بن کر کھڑا ہوتا ہے، رات کی خاموشی میں اپنے ہی دل کے سامنے بے حد بے بس ہوتا ہے۔ اسے بھی کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس سے یہ نہ کہے، ’’تم تو بہت بہادر ہو، تم سب سنبھال لو گے۔‘‘ بلکہ بس اتنا کہے، ’’آؤ، آج تم کچھ ، بولو،میں تمہیں سن رہا ہوں۔‘‘

مگر مسئلہ یہ ہے کہ مضبوط لوگوں کو اکثر اپنی تکلیف بیان کرنا آتا ہی نہیں۔ انہیں بچپن سے، رشتوں سے، حالات سے، اور شاید خود اپنی ذات سے یہ سبق ملتا رہتا ہے کہ کمزور مت پڑو۔ آنسو چھپا لو۔ شکایت مت کرو۔ خود کو سنبھالو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک وقت کے بعد وہ شخص اپنی ہی کیفیت کو لفظوں میں ڈھالنا بھول جاتا ہے۔ اسے دکھ تو ہوتا ہے، مگر وہ بتا نہیں پاتا۔ اسے تھکن تو محسوس ہوتی ہے، مگر یہ کہہ نہیں پاتا کہ اب مزید چلنے کی ہمت نہیں۔

اور جب کبھی وہ خاموش ہو جائے تو لوگ پھر اس کی خاموشی کو طاقت سمجھ لیتے ہیں۔

’’تم تو ایسے ہی ہو۔‘‘

’’تمہیں تو سب سنبھالنا آتا ہے۔‘‘

’’تم اتنے مضبوط ہو، تمہیں کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘

شاید انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ہر بار ’’تم بہت مضبوط ہو‘‘ کہنا کبھی کبھی ایک دیوار بن جاتا ہے۔ ایسی دیوار جس کے پیچھے انسان اپنے سارے دکھ چھپا دیتا ہے، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ اگر اس نے ایک بار کہہ دیا کہ ’’میں تھک گیا ہوں‘‘ تو شاید لوگ اس کی برسوں کی مضبوطی پر سوال اٹھانے لگیں گے۔

حالانکہ کسی کے سامنے رو پڑنا شکست نہیں۔ اپنے دل کا بوجھ لفظوں میں رکھ دینا کمزوری نہیں۔ کبھی کبھی یہ مان لینا کہ ’’مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے‘‘، انسان کے اندر موجود سب سے سچی بہادری ہوتی ہے۔

ہمیں ایسے لوگوں سے صرف ان کی بہادری نہیں مانگنی چاہیے؛ کبھی ان کی خاموشی بھی سننی چاہیے۔ ان سے ہمیشہ حل نہیں پوچھنا چاہیے، کبھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے بے ترتیب جملے بھی سن لینے چاہییں۔ کیونکہ ہر زخم کو مرہم نہیں چاہیے ہوتا، کچھ زخم صرف یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کے پاس بیٹھ کر اتنا کہہ دے، ’’میں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں، تم اکیلے نہیں ہو۔‘‘

شاید مضبوط انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ کوئی اسے مضبوط ہونے پر مجبور نہ کرے۔ کوئی اسے یہ اجازت دے کہ وہ کچھ دیر کے لیے اپنی ڈھال اتار دے، اپنی تھکن تسلیم کر لے، اپنے آنسوؤں کو راستہ دے دے اور بغیر کسی وضاحت کے صرف انسان بن کر رہ سکے۔

آخر ہم سب انسان ہیں۔ کوئی بھی دل اتنا مضبوط نہیں ہوتا کہ اسے ہمیشہ سہارا دینے کی ضرورت نہ پڑے۔ کچھ لوگ بس اپنی ضرورت چھپا لینے میں ماہر ہوتے ہیں۔

اور شاید زندگی کا ایک خوبصورت ترین رشتہ وہی ہے جہاں سامنے والا آپ کی طاقت کے پیچھے چھپی ہوئی تھکن کو بھی دیکھ لے؛ جہاں آپ کو ہر بار یہ ثابت نہ کرنا پڑے کہ آپ بہادر ہیں۔

زینب، کبھی تو اپنے حوصلوں سے اتر کر دیکھ،

ہر دل کو آخرش کسی دل کا سہارا چاہیے۔