آٹھ ہزار کی اجرت؟ محنت کا استحصال،تحریر:یاسمین اختر طوبی
نقطہ نظر
کسی بھی قوم کے مستقبل کا فیصلہ اس کے ایوانوں میں ہونے والی تقریروں سے نہیں، بلکہ ان ہاتھوں سے ہوتا ہے جو اس کے بچوں کو سنبھالتے، انہیں سکھاتے اور زندگی کے ابتدائی قدم اٹھانے میں مدد دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں تعلیم کے نام پر بلند و بانگ دعوے کرنے والے حکمران اکثر ان ہاتھوں کو بھول جاتے ہیں جو اسکول کی عمارت کے اندر خاموشی سے مستقبل کی آبیاری کر رہے ہوتے ہیں۔ پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں ارلی چائلڈ ہڈ ایجوکیشن (ECE) کے تحت خدمات انجام دینے والی کیئر گیورز، جنہیں عام زبان میں آیا کہا جاتا ہے، اسی فراموش شدہ طبقے کی نمائندہ ہیں۔ ان کی ماہانہ اجرت محض آٹھ ہزار روپے بتائی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک انسان کی محنت، اس کی ضرورتوں اور اس کے وقار کی قیمت واقعی آٹھ ہزار روپے ہے؟ اگر نہیں، تو پھر اس ناانصافی پر خاموشی کیوں؟
پنجاب اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ابتدائی بچپن کی تعلیم کے تصور کو فروغ دینے کے لیے 2013ء سے 2018ء کے دوران مختلف اقدامات کیے، جبکہ تھرڈ پنجاب ایجوکیشن سیکٹر پروجیکٹ (PESP-III) کے ذریعے بھی اس شعبے کو وسعت ملی۔ اس پروگرام کا مقصد کم عمر بچوں کے لیے ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنا تھا جہاں انہیں صرف کتابوں سے واقف نہ کرایا جائے بلکہ ان کی نگہداشت، صفائی، نظم و ضبط، اخلاقی تربیت اور ذہنی نشوونما کا بھی خیال رکھا جائے۔ یہ ایک قابلِ تحسین مقصد تھا مگر افسوس کہ اس مقصد کو عملی شکل دینے والی خواتین کے معاشی حالات کو وہ اہمیت نہ مل سکی جس کی وہ حق دار تھیں۔ بچوں کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے والوں کے اپنے مستقبل پر اندھیرا چھایا رہے تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ذرا تصور کیجیے، ایک آیا صبح اسکول پہنچتی ہے۔ ننھے بچوں کو سنبھالنا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، انہیں صاف ستھرا رکھنا، رونے والے بچے کو چپ کرانا، گھبرائے ہوئے بچے کو تسلی دینا اور استاد کے لیے کلاس روم کے ماحول کو سازگار بنانے میں مدد دینا، یہ سب اس کی روزمرہ ذمہ داریوں کا حصہ ہو سکتے ہیں۔ ایک بچہ جب گھر سے دور پہلی مرتبہ اسکول آتا ہے تو اسے صرف کتاب، تختی اور استاد نہیں چاہیے؛ اسے شفقت، توجہ اور اپنائیت بھی درکار ہوتی ہے۔ یہ خواتین اکثر اسی اپنائیت کا عملی مظہر بنتی ہیں مگر ستم دیکھیے کہ جو ہاتھ دوسروں کے بچوں کو سنبھالتے ہیں، وہ اپنے گھر کے اخراجات کے بوجھ تلے خود لرزتے رہتے ہیں۔ جو دل ننھے بچوں کے آنسو پونچھتے ہیں، ان کے اپنے دکھ سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔
آٹھ ہزار روپے! آج کے مہنگائی زدہ دور میں یہ رقم کسی خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہی ناکافی ہے۔ گھر کا کرایہ، آٹا، دال، سبزی، بجلی کا بل، بچوں کی تعلیم، علاج اور آمدورفت؛ ان میں سے کس ضرورت کو اس معمولی رقم سے پورا کیا جا سکتا ہے؟ اگر ایک عورت اس معاوضے پر کام کرتی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی محنت کم قیمتی ہے؟ کیا غربت کسی انسان کے وقار کو کم کر دیتی ہے؟ کیا کسی خاتون کی مجبوری ریاست کو یہ حق دیتی ہے کہ اس کی خدمات کے عوض ایسا معاوضہ مقرر کرے جو زندگی کی بنیادی ضروریات سے بھی میل نہ کھاتا ہو؟ یہ سوال صرف آیا کا نہیں، اس پورے معاشرے کا ہے جو محنت کی عظمت کے نعرے تو لگاتا ہے مگر محنت کش کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی قدم اٹھانے سے کتراتا ہے۔
اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کیئر گیورز کے لیے فنڈز اسکول مینجمنٹ کونسلز (SMC) یا پیرنٹ ٹیچر کونسلز (PTC) کے ذریعے فراہم کیے جاتے ہیں اور مقامی سطح پر عارضی یا نقد معاوضے کی بنیاد پر خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ اگر یہی طریقۂ کار رائج ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ ان خواتین کی ملازمت کے تحفظ، معاوضے کے تعین، ادائیگی کی باقاعدگی اور شکایات کے ازالے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا مقامی سطح پر بھرتی کا مطلب یہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داری سے بھی مقامی طور پر دست بردار ہو جائے؟ کیا کسی منصوبے کے تحت کام کرنے والے افراد کو اس لیے بنیادی حقوق اور معاشی تحفظ سے محروم رکھا جا سکتا ہے کہ ان کی خدمات مستقل سرکاری ملازمت کے بجائے عارضی انتظام کے تحت حاصل کی گئی ہیں؟ یہ معاملہ شفافیت، جواب دہی اور انسانی وقار کے تقاضوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔
حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم محض عمارتیں تعمیر کرنے، فرنیچر خریدنے، رنگ برنگے چارٹ لگانے اور اعدادوشمار میں داخلوں کی شرح بڑھانے کا نام نہیں۔ تعلیم ایک زندہ انسانی عمل ہے اور اس عمل کی کامیابی ان لوگوں سے جڑی ہے جو بچوں کے ساتھ براہِ راست کام کرتے ہیں۔ اگر ایک طرف ہم ابتدائی بچپن کی تعلیم کو بچے کی شخصیت سازی کے لیے بنیادی اہمیت دیتے ہیں اور دوسری طرف اس کی نگہداشت کرنے والی خاتون کو مناسب معاوضہ دینے پر آمادہ نہیں، تو ہمارے دعوؤں اور اقدامات میں واضح تضاد ہے۔ بچے کی تربیت کے لیے شفقت ضروری ہے مگر شفقت کا تقاضا یہ نہیں کہ کسی محنت کش خاتون سے اپنی غربت چھپانے اور ہر حال میں مسکراتے رہنے کی توقع کی جائے۔ جذبہ اپنی جگہ، مگر روزگار کا حق اپنی جگہ ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ، وزیرِ تعلیم، سیکرٹری اسکول ایجوکیشن اور متعلقہ اعلیٰ حکام اس مسئلے کو محض ایک چھوٹا انتظامی معاملہ سمجھنے کے بجائے انسانی وقار اور تعلیمی انصاف کے تناظر میں دیکھیں۔ سب سے پہلے ان کیئر گیورز کے موجودہ معاوضے، کام کے اوقات، ذمہ داریوں اور ادائیگیوں کی جامع جانچ کی جائے۔ اس کے بعد ان کی اجرت کو موجودہ مہنگائی اور قابلِ اطلاق کم از کم اجرت کے قوانین و ضوابط کے مطابق بہتر بنانے کے لیے واضح اور قابلِ عمل پالیسی مرتب کی جائے۔ ادائیگی کا شفاف نظام، ملازمت کے تحفظ کے مناسب انتظامات، شکایات کے ازالے کا مؤثر طریقہ اور متعلقہ خواتین کی نمائندگی بھی یقینی بنائی جائے۔ ان کیئر گیورز کی آواز سنے بغیر ان کے مستقبل کے بارے میں فیصلے کرنا ایک اور ناانصافی ہوگی۔
میڈیا، سماجی تنظیموں، اساتذہ اور عوامی نمائندوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان خاموش محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کریں۔ ان خواتین کو خیرات نہیں، اپنے کام کا منصفانہ معاوضہ چاہیے؛ ہمدردی کے چند الفاظ نہیں، قابلِ عمل پالیسی چاہیے؛ وقتی تسلی نہیں، باوقار روزگار کی ضمانت چاہیے۔ ان کے مطالبات کو ذاتی شکایت یا اضافی مالی بوجھ سمجھنا درست نہیں، کیونکہ ایک منصفانہ تعلیمی نظام اپنے ہر کارکن کے کردار کو تسلیم کرتا ہے۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ ایک آیا کو آٹھ ہزار روپے کیوں ملتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کی حفاظت کرنے والی عورت کے حال سے اتنے بے خبر کیوں ہیں؟ جو معاشرہ اپنے بچوں کو عزت، اخلاق اور انصاف سکھانا چاہتا ہے، اسے پہلے اپنے عمل سے ان اقدار کی مثال قائم کرنا ہوگی۔ اگر ایک ننھے بچے کو ہم یہ سبق دیتے ہیں کہ ہر انسان عزت کے لائق ہے تو پھر اس کی دیکھ بھال کرنے والی عورت کی محنت کو حقیر کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ پنجاب کے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ صرف بڑے منصوبوں اور بلند عمارتوں کو نہیں، ان فیصلوں کو بھی یاد رکھتی ہے جن سے کمزور انسانوں کی زندگی بدلتی ہے۔ آٹھ ہزار روپے میں کسی عورت کی محنت کا پورا حق ادا نہیں ہوتا۔ اب خاموشی نہیں، جواب دہی چاہیے؛ وعدے نہیں، انصاف چاہیے۔ کیونکہ فرد بچوں کا مستقبل سنوارنے والی عورت کا اپنا مستقبل تاریک رکھ کر کوئی تعلیمی انقلاب برپا نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں





