پیر، 19 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرے گاؤں کے سادہ لوگ،تحریر:مہوش شفیق

نقطہ نظر

شہر کی تیز رفتار زندگی سے تھک کر جب احمد گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے گاؤں پہنچا تو شام اتر رہی تھی۔ سورج کھیتوں کے پیچھے چھپ رہا تھا اور اس کی سنہری روشنی کچے راستوں پر بکھری ہوئی تھی۔ ہوا میں مٹی کی سوندھی خوشبو تھی اور دور کہیں گائے کی گھنٹی ٹن ٹن بج رہی تھی۔ ایسا لگا جیسے گاؤں نے بانہیں پھیلا کر احمد کو خوش آمدید کہا ہو۔

احمد دروازے پر پہنچا تو دادا جان چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے۔ احمد کو دیکھتے ہی ان کی آنکھیں چمک اٹھیں اور چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

انہوں نے چھیڑتے ہوئے کہا: „آ گئے شہر والے صاحب؟“

احمد نے ہنس کر ان کے پاس بیٹھتے ہوئے جواب دیا: „جی دادا جان! اس بار جلدی واپس نہیں جاؤں گا، کافی دن رہوں گا۔“

اگلی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی دادا جان نے احمد کو جگا دیا: „چل بیٹا، کھیتوں کی سیر کرتے ہیں۔“ وہ دونوں کچے راستے پر چل رہے تھے کہ سامنے سے کریم چاچا آتے دکھائی دیے۔ کپڑے سادہ، پاؤں میں پرانی چپل مگر چہرے پر ایسی بے فکر مسکراہٹ تھی جیسے دنیا کی ساری دولت ان کی جیب میں ہو۔دادا جان نے پوچھا: „کریم، فصل کا کیا حال ہے؟“

وہ مسکرا کر بولے: „ خدا کا شکر ہے، محنت رنگ لا رہی ہے۔ بس بارش وقت پر ہو جائے تو فصل اچھی ہو جائے گی۔“

وہ کچھ آگے بڑھے تو سڑک کے کنارے ایک بزرگ بیٹھے نظر آئے۔ وہ رحمت بابا تھے۔ کئی دنوں سے بیمار تھے اور چہرے پر کمزوری صاف دکھائی دے رہی تھی۔ دادا جان فوراً ان کے پاس جا بیٹھے اور خیریت دریافت کی۔ پھر انہوں نے خاموشی سے اپنی جیب سے کچھ پیسے نکال کر ان کے ہاتھ میں رکھ دیے۔

رحمت بابا نے حیرت سے کہا: „بھائی، یہ کیوں؟ تم خود بھی تو مشکل میں ہو۔“

دادا جان نے مسکرا کر کہا: „مشکل وقت میں کام آنے والی چیز ہی تو انسانیت ہے۔ آج تمہیں ضرورت ہے، کل شاید مجھے ہو۔“

یہ چھوٹی سی بات احمد کے دل میں اتر گئی۔

رات کو صحن میں چارپائیوں پر بیٹھ کر دادا جان نے احمد کو ایک پرانی کہانی سنائی۔ کہنے لگے: „بیٹا، کئی سال پہلے ہمارے گاؤں میں سخت سیلاب آیا تھا۔ پانی کھیتوں میں بھر گیا تھا اور کئی گھر گر گئے تھے۔ اس وقت گاؤں کے لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا۔ ایک امیر آدمی شہر سے آیا اور اس نے کہا کہ میں تم سب کو پیسے دوں گا مگر شرط یہ ہے کہ تم اپنے پڑوسی کی مدد نہیں کرو گے۔ گاؤں والوں نے اس کی بات سن کر جواب دیا کہ ہمیں تمہارے پیسے نہیں چاہئیں، ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ چاہیے۔ پھر سب نے مل کر ایک دوسرے کا گھر بنایا، ایک دوسرے کا کھیت سنبھالا اور چند ہی دنوں میں گاؤں پھر سے آباد ہو گیا۔“

دادا جان کی یہ کہانی سن کر احمد کو سمجھ آیا کہ گاؤں کی سادگی کسی کتاب کی بات نہیں، یہ ان لوگوں کے خون میں شامل ہے۔شام کو گاؤں میں خبر پھیلی کہ بارش کے باعث کریم چاچا کے گھر کی چھت گر گئی ہے۔ وہ غریب آدمی تھا اور اس کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ فوراً چھت دوبارہ بنوا سکے۔ احمد نے سوچا کہ اب شاید وہ کئی دن پریشان رہے گا۔

اگلی صبح جب احمد گھر سے نکلا تو ایک حیران کن منظر اس کا منتظر تھا۔ کریم چاچا کے گھر کے سامنے گاؤں کے کئی لوگ جمع تھے۔ کوئی اینٹیں لا رہا تھا، کوئی مٹی اور ریت، کوئی لکڑی اٹھائے ہوئے تھا۔ نوجوان تعمیر میں ہاتھ بٹا رہے تھے اور بزرگ ان کی رہنمائی کر رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پورا گاؤں ایک خاندان بن گیا ہو۔

احمد نے حیرت سے دادا جان سے پوچھا: „یہ سب لوگ یہاں کیوں آئے ہیں؟“

دادا جان نے مسکرا کر کہا: „بیٹا، گاؤں میں کسی ایک کا گھر نہیں گرتا، سب کا دل متاثر ہوتا ہے۔“

سارا دن لوگ بغیر کسی معاوضے کے کام کرتے رہے۔ کسی نے تھکن کا شکوہ نہیں کیا اور کسی نے پیسے کی بات نہیں کی۔ شام تک کریم چاچا کی چھت دوبارہ کھڑی ہو چکی تھی۔

کریم چاچا کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ انہوں نے سب کا شکریہ ادا کرنا چاہا تو گاؤں کے ایک نوجوان نے ہنس کر کہا: „چاچا! شکریہ کس بات کا؟ کل ہمارے گھر کو ضرورت پڑی تو آپ بھی یہی کریں گے۔“

اس لمحے احمد کو احساس ہوا کہ اس کے گاؤں کے لوگ واقعی بہت سادہ ہیں مگر ان کی سادگی کمزوری نہیں، ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔شہر واپس جاتے ہوئے احمد کے دل میں ایک عجیب سی اداسی تھی۔ اس کے پاس شہر کی بہت سی سہولتیں تھیں مگر اس کے گاؤں کے لوگوں جیسا خلوص کہیں نہیں تھا۔بس کے چلنے سے پہلے احمد نے آخری بار اپنے گاؤں کی طرف دیکھا۔ کچے راستے، سبز کھیت، مٹی کے گھر اور ان گھروں میں بسنے والے سادہ دل انسان۔

احمد نے دل ہی دل میں کہا: „دنیا نے ترقی کر لی ہے مگر میرے گاؤں کے لوگوں نے انسانیت کو ابھی تک سنبھال کر رکھا ہے۔“