انسان کی محنت، جدوجہد اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے کی جانے والی قربانی کو مزدوری کہتے ہیں ۔ ایک مزدور اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے ہاتھ میں اوزار ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی خواہشات، اور آنے والے کل کی امید بھی ہوتی ہے۔
ہم اکثر کسی گھرکو دیکھ کر اس کی بناوٹ کی تعریف کرتے ہیں، کسی سڑک پر سفر کرتے ہوئے اس پر تعمیر ہونے والی عمارت کی خوبصورتی کو سراہتے ہیں پر اس کے پیچھے موجود ان ہاتھوں کو بھول جاتے ہیں جن کی بدولت یہ دلکش خوبصورت عمارات ہوتی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ مزدور کی محنت کا مرہونِ منت ہے۔ یہہی وہ شخص ہوتے ہیں جو شدید گرمی، سردی اور بارش میں کام کرتا ہے، معاشرے کی ترقی میں خاموشی سےاپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
مزدور کی زندگی بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔
مہنگائی بڑھتی ہے تو سب سے پہلے اس کا گھر متاثر ہوتا ہے۔ بچوں کی فیس، گھر کا راشن بجلی اور گیس کے بل، کرایہ علاج اور دیگر ضروریات پوری کرنا اس کے لیے انتہائی مشکل امتحان بن جاتا ہے۔ بہت مزدور ایسے بھی ہیں جو دن رات محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پاتے۔ ان کے چہروں پر تھکن دل میں درد ہوتا ہے، مگر وہ اپنے بچوں کے سامنے مسکرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
میرے نزدیک مزدوری صرف اجرت لینے کا نام نہیں، بلکہ عزتِ نفس کے ساتھ حلال رزق کمانے کا نام ہے۔ ایک مزدور اپنے ہاتھوں کی محنت سے جو کمائی گھر لے کر جاتا ہے، اس میں اس کی محنت، پسینہ اور سچائی شامل ہوتی ہیں۔ ہمیں اس محنت کی قدر کرنی چاہیے جو ہاتھ پھلانے کے بجائے اپنی محنت کی تھوڑی اجرات میں ہی گزار کرنے کو افضال سمجھتے ہیں۔ مزدور کو صرف اس وقت یاد نہیں کرنا چاہیے جب مزدوری کا وقت ہو، بلکہ اس کے حقوق اور عزت کا خیال ہر دن رکھنا چاہیے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات کام کی بنیاد پر انسان کی عزت کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ کوئی دفتر میں بیٹھ کر کام کرے تو اسے معزز قابل عزت سمجھا جاتا ہے، جبکہ ہاتھ سے کام کرنے والے شخص کو کم تر اور ہلکے میں لیا جاتا ہے۔ ہمیں یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ کوئی کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا، چھوٹا وہ رویہ ہے جو محنت کرنے والے انسان کی عزت نہ کرے اس کو دوسرے سے کم سمجھے۔
مزدور کی مزدوری صرف اس کی تنخواہ نہیں، بلکہ اس کا حق اس کی عزت اور اس کے خاندان کا مستقبل بھی ہے۔ اگر ہم ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں مزدور کے پسینے کی قیمت سمجھنا ہوگی، اس کی اجرت بروقت دینی ہوگی اور اسے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ جو لوگ آج کل مایوس کا شکار ہیں ان کو جینے کی نئی امید ملے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ جس ہاتھ میں چھالے ہیں، اسی ہاتھ نے ہمارے لیے شہر بسائے ہیں وہ ہاتھ ہی ہماری سر کی چھت بنانے والے ہیں۔ مزدور کے ہاتھ کو کمزور نہیں، مضبوط کرنا ہوگا تاکہ وہ بھی اس معاشرے میں خوشحال زندگی گزارنے کے قابل ہوں۔ کیونکہ کسی بھی ملک کی اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب اس کے محنت کش مزدور خوشحال باعزت اور اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوں۔
مزید پڑھیں






