جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معاشرتی اقدار اور نئی نسل،تحریر: سمیرا اکرام

نقطہ نظر

ہم اکثر کہتے ہیں کہ نئی نسل اقدار بھول گئی ہے، لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ شاید نئی نسل اقدار کو بھولی نہیں، بلکہ اقدار کا مفہوم بدل گیا ہے؟ ہم جسے بے قدری کہتے ہیں، وہ شاید ایک نئی قدر کی تلاش ہے۔ ہمیں نسل کے آئینے میں اپنا عکس دیکھنا ہوگا، نہ کہ صرف ان کا عیب۔

ہماری پرانی اقدار ڈر پر کھڑی تھیں۔ بڑوں کا احترام ڈر کی وجہ سے تھا، سچ بولنا سزا کے خوف سے تھا اور فرمانبرداری سوچنے سے منع کرنے کا نام تھی۔ نئی نسل اس ڈر والی اقدار کو ماننے سے انکار کر رہی ہے۔ وہ سوال کرتی ہے، وہ ”کیوں“ پوچھتی ہے، وہ دلیل مانگتی ہے۔ ہمیں یہ گستاخی لگتی ہے، لیکن درحقیقت یہ بیداری ہے۔ یہ نسل اندھی تقلید کے بجائے شعوری احترام چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے صرف حکم نہ دیا جائے، اسے وجہ بتائی جائے۔

ذرا غور کیجیے! پرانے زمانے میں اقدار محلے، مسجد، اسکول اور گھر کی چار دیواری میں محفوظ تھیں۔ آج نئی نسل کا محلہ پوری دنیا ہے۔ اس کا دوست امریکہ میں ہے، استاد یوٹیوب پر ہے اور کتاب موبائل میں ہے۔ ایسے میں ہم ان سے تو قع کیسے کر سکتے ہیں کہ وہ اسی پرانی چار دیواری والی سوچ کے ساتھ جئیں؟ ان کی اقدار اب عالمی ہو چکی ہیں۔ وہ انسانیت کو مذہب، قوم اور زبان سے اوپر رکھتے ہیں۔ وہ جانوروں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، ماحول کی فکر کرتے ہیں، ذہنی صحت کو بیماری نہیں، حقیقت سمجھتے ہیں۔ کیا یہ اقدار کی کمی ہے یا اقدار کا ارتقاء؟

ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ نئی نسل کی سب سے بڑی قدر ”آزادی“ ہے۔ آزادی سوچنے کی، آزادی بولنے کی، آزادی خود کو پہچاننے کی۔ پرانی نسل کے لیے آزادی بے حیائی تھی، نئی نسل کے لیے آزادی خود شناسی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی انہیں زبردستی اچھا بنائے، وہ خود اچھا بننا چاہتے ہیں۔ یہ فرق بہت معمولی لگتا ہے، لیکن یہی فرق آنے والے وقت کی تقدیر بدلے گا۔

ایک اور نئی قدر جو پچھلی نسل میں کم تھی، وہ ”ہمدردی“ ہے۔ نئی نسل اپنے دوست کے ڈپریشن کو مذاق نہیں سمجھتی، وہ اسے سمجھتی ہے۔ وہ کسی کو اس کے لباس، رنگ یا پس منظر کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتی۔ اس کے لیے ہر انسان برابر ہے۔ ہمارے معاشرے میں بڑوں نے ہمیشہ ”لوگ کیا کہیں گے“ کی قدر کو سب سے اوپر رکھا، مگر نئی نسل کہتی ہے: ”میں کیا محسوس کرتا ہوں“، یہ زیادہ اہم ہے۔ یہ خود غرضی نہیں، یہ خود آگاہی ہے۔ لیکن کیا نئی نسل مکمل ہے؟ نہیں! ہر نسل کی طرح اس میں بھی ایک خلا ہے۔ اس نسل کے پاس معلومات ہیں، مگر حکمت کم ہے۔ اس کے پاس رفتار ہے، مگر سمت کم ہے۔ اس کے پاس آواز ہے، مگر سننے کا صبر کم ہے۔ یہ خلا ہمیں پر کرنا ہے، مگر ڈانٹ کر نہیں، دوست بن کر۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ نئی نسل خراب ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اقدار کو زندہ مثالوں میں نہیں دکھایا۔ ہم نے بچوں کو کہا کہ سچ بولو، لیکن خود مصلحت کے نام پر جھوٹ بولتے رہے۔ ہم نے کہا کہ محنت کرو، لیکن خود سفارش اور رشوت سے کام نکالتے رہے۔ ہم نے کہا کہ رشتوں کی قدر کرو، لیکن خود جائیداد کے لیے بھائی سے لڑتے رہے۔ بچہ ہماری باتیں نہیں، ہمارے عمل کو دیکھتا ہے۔ اور آج کا بچہ کیمرے کی طرح سب ریکارڈ کر رہا ہے۔ اس لیے معاشرتی اقدار کا مستقبل اس سوال پر منحصر نہیں کہ نئی نسل کیا کر رہی ہے، بلکہ اس سوال پر ہے کہ ہم ان کے سامنے کیا کر رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اقدار کو نئی زبان میں لکھنا ہوگا۔ احترام کو صرف سر جھکانے کا نام نہ دیں، اسے سننے کا نام دیں۔ سچائی کو صرف زبان کا سچ نہ سمجھیں، اسے نیت کا سچ بنائیں۔ دینداری کو صرف عبادت تک محدود نہ کریں، اسے انسانیت کی خدمت بنائیں۔ اگر ہم نے اقدار کو نئی نسل کی زبان میں نہ سمجھایا، تو وہ اقدار کتابوں میں ہی رہ جائیں گی۔

نئی نسل کو پرانی اقدار کے ساتھ نئی اقدار کو جوڑنا ہوگا۔ ڈیجیٹل اخلاق بھی اب ایک قدر ہے۔ کسی کی تصویر بغیر اجازت نہ پھیلانا، کسی کی عزت کو میمز نہ بنانا، آن لائن کسی کو گالی نہ دینا، یہ سب نئی صدی کی اقدار ہیں۔ ہمیں بچوں کو یہ سکھانا ہے کہ اسکرین کے پیچھے بھی ایک انسان کا دل ہے۔ آخر میں، ایک بات یاد رکھیں۔ ہر دور کی نئی نسل پر یہی الزام لگا ہے کہ وہ بگڑ گئی ہے۔ ہماری دادی بھی یہی کہتی تھیں کہ ہمارے بچے بگڑ گئے ہیں۔ آج ہم وہی بات کہہ رہے ہیں۔ شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم الزام کی روایت توڑیں اور اعتماد کی روایت قائم کریں۔

اقدار مرتی نہیں، وہ شکل بدلتی ہیں۔ اور اگر ہم نئی نسل پر بھروسہ کریں، انہیں سنیں، انہیں سمجھیں، تو وہ ہمیں حیران کر دیں گے۔ کیونکہ وہ صرف ہماری نسل کے وارث نہیں، وہ آنے والے کل کے معمار ہیں۔