معاشرتی زوال اور قلم کی تباہ کاریوں کا المیہ،تحریر:مرزا اورنگزیب
نقطہ نظرتاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی بقا اور استحکام کا دارومدار انصاف، قانون کی بالادستی اور اقتدار کے درست استعمال پر ہوتا ہے۔ ریاست کا ڈھانچہ چند ایسے ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے جنہیں ریاست کی بنیاد کہا جاتا ہے۔ لیکن کیا ہو جب یہی ستون کمزور یا غلط ہاتھوں میں چلے جائیں؟ حالیہ تلخ فقرہ "جب قلم گدھے کے ہاتھ میں ہو، بندوق مجرم کے ہاتھ میں ہو، اور طاقت غدار کے ہاتھ میں ہو..." ہمارے موجودہ معاشرتی اور سیاسی نظام کی ایک ایسی دردناک عکاسی کرتا ہے جس پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔
قللم کو ہمیشہ سے انسانی تاریخ کا سب سے طاقتور ہتھیار مانا گیا ہے۔ تلوار جسموں کو زخمی کرتی ہے جبکہ قلم دل و دماغ کو مسخ یا منور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وہ مقدس وسیلہ ہے جس نے قوموں کی تقدیریں بدلی ہیں، انقلاب برپا کیے ہیں اور اندھیروں میں اجالا کیا ہے۔
فکری انقلاب: تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے فکری اور سماجی انقلاب تلواروں سے نہیں بلکہ قلم کی کاٹ سے آئے ہیں۔ مفکروں اور سچے ادیبوں کی تحریروں نے غلام قوموں کو آزادی کا شعور دیا۔: قلم معاشرے کا اصل ضمیر ہوتا ہے۔ یہ مظلوم کی آواز اور ظالم کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بن کر حق و صداقت کا پرچم بلند کرتا ہے۔
آج کل قلم کے غلط ہاتھوں میں ہونے کے تباہ کن نقصانات
آج کے اس دور میں جب یہی طاقتور قلم نادان، مفاد پرست یا کرپٹ لوگوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے، تو اس کے معاشرے پر نہایت بھیانک اثرات مرتب ہوتے ہیں:
جھوٹ اور پروپیگنڈے کا فروغ: سچ کو چھپانا اور جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کرنا روز کا معمول بن جاتا ہے۔ جھوٹی خبریں اور پروپیگنڈا معاشرے میں نفرتیں اور افتراق پھیلاتے ہیں۔مفاد پرست قلم کار ذاتی عناد یا مالی مفادات کے لیے معزز شخصیات کی کردار کشی کرتے ہیں، جس سے معاشرے میں اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل جاتا ہے۔عوام کے حقیقی مسائل (جیسے غربت، تعلیم، صحت اور انصاف) کو پسِ پشت ڈال کر ایسے موضوعات کو ہوا دی جاتی ہے جو معاشرے کو الجھائے رکھیں اور کرپٹ عناصر کو پروان چڑھنے کا موقع ملے۔
نئی نسل کی گمراہی: جب لکھنے والے اخلاقی اور فکری طور پر دیوالیہ ہوں، تو وہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں زہر گھولتے ہیں، جس سے معاشرہ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتا ہے۔جب معاشرے میں قانون کی پاسداری ختم ہو جائے اور بندوق مجرموں کے ہاتھ میں آجائے، تو عام شہری کا جینا محال ہو جاتا ہے۔ خوف، دہشت اور قانون شکنی کا راج قائم ہوتا ہے۔ اسی طرح جب اقتدار اور طاقت غداروں یا مفاد پرستوں کے ہاتھ میں چلی جائے، تو قومی مفادات کو ذاتی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ فیصلے عوامی بہبود کے بجائے مخصوص ٹولوں کے فائدے کے لیے کیے جاتے ہیں۔
ان تمام خرابیوں کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ریاست کا نگران ادارہ یعنی انتظامیہ کرپٹ ہو جاتی ہے، انصاف ناپید ہو جاتا ہے اور میرٹ کا خون ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف، معاشرے کا چوتھا ستون یعنی میڈیا، جو سچ کی آواز بننا تھا، مصلحت اور منافقت کی چادر اوڑھ لیتا ہے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے طاقتوروں کی زبان بن جاتا ہے۔ان تمام عوامل کا مجموعی اثر یہ ہوتا ہے کہ پورا ملک یا گھر ایک ایسے جنگل میں تبدیل ہو جاتا ہے جہاں صرف طاقتور کا قانون چلتا ہے، کمزور کا جینا دشوار ہو جاتا ہے اور انسانی اقدار پامال ہو جاتی ہیں۔
اگر ہم اس تاریک صورتحال کو بدلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے قلم کی حرمت بحال کرنا ہوگی، قانون کو مجرموں کے شکنجے سے آزاد کرانا ہوگا، اور طاقت کو امانت سمجھ کر دیانت دار ہاتھوں میں دینا ہوگا، تاکہ معاشرہ دوبارہ انسانوں کے رہنے کے لائق بن سکے۔
مزید پڑھیں



