پیر، 2 نومبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

معاشرہ اور روزمرہ زندگی،تحریر: عظمیٰ شیخ

نقطہ نظر

صبح آنکھ کھلتے ہی انسان کو احساس ہو جاتا ہے کہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ مسائل کی پوری دکان ہے۔ ابھی بستر سے پاؤں نیچے نہیں رکھا ہوتا کہ سوالات کی قطار لگ جاتی ہے۔ بجلی آئی ہوئی ہے یا لوڈشیڈنگ نے پھر مہمان نوازی شروع کر دی؟ پانی کی ٹنکی بھری ہے یا آج بھی وضو سے پہلے صبر کا مظاہرہ کرنا پڑے گا؟ بچوں کی وین آئی یا ڈرائیور صاحب نے آج بھی وقت کی پابندی کو ذاتی دشمنی سمجھ لیا ہے؟ یوں دن کا آغاز ناشتے سے پہلے مسائل کے ناشتہ سے ہوتا ہے۔

کبھی معاشرہ محلے سے بنتا تھا۔ صبح لوگ ایک دوسرے کو سلام کرتے، حال احوال پوچھتے اور ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کے کام آتے تھے۔ اب محلے دار کا نام معلوم ہو یا نہ ہو، اس کا واٹس ایپ اسٹیٹس ضرور معلوم ہوتا ہے۔ پہلے ہمسائے کے گھر سے سالن کی خوشبو آتی تھی، اب موبائل سے دوسروں کی خوش حالی کی تصویریں آتی ہیں۔ ایک ہی گھر میں چار افراد ہوں تو چار الگ سلطنتیں آباد ہوتی ہیں۔ باپ خبروں میں ملک بچا رہا ہوتا ہے، بیٹا ٹک ٹاک پر شہرت کما رہا ہوتا ہے، ماں ڈرامے میں ساس بہو کا فیصلہ کر رہی ہوتی ہے اور دادی سب کو دیکھ کر سوچتی ہیں کہ آخر اس گھر میں بات کس سے کی جائے؟

مہنگائی نے تو عام آدمی کی زندگی کو ایسا حساب بنا دیا ہے جس کا جواب کسی ماہرِ ریاضی کے پاس بھی نہیں۔ تنخواہ آتی ہے تو بجلی کا بل، گیس کا بل، بچوں کی فیس، راشن اور کرایہ دروازے پر پہلے سے استقبال کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ تنخواہ بے چاری ابھی پرس میں پہنچتی بھی نہیں کہ اس کے جانے کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ مہینے کے پہلے ہفتے میں بجٹ آخری سانسیں لینے لگتا ہے اور باقی دن انسان کیلکولیٹر کے بجائے دعاؤں کے سہارے گزارتا ہے۔ اب دال پکانے سے پہلے بھی گھر کا بجٹ دیکھنا پڑتا ہے کہ کہیں دال ہی گھر والوں سے ناراض نہ ہو جائے۔

سوشل میڈیا نے تو ہماری خوشیوں کا بھی عجیب معیار مقرر کر دیا ہے۔ کسی کی شادی دیکھ کر اپنی شادی یاد آتی ہے، کسی کی گاڑی دیکھ کر اپنی موٹر سائیکل شرمندہ لگنے لگتی ہے اور کسی کا خوب صورت گھر دیکھ کر اپنا ڈرائنگ روم اچانک چھوٹا محسوس ہونے لگتا ہے۔ صبح سے رات تک دوسروں کی زندگی دیکھتے ہیں اور اپنی زندگی سے شکوہ کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے پاس ہزاروں دوست ہیں، مگر گھر میں کوئی پانی کا گلاس مانگ لے تو جواب آتا ہے، ’’ابھی مصروف ہوں!‘‘

شادی بیاہ بھی اب محبت سے زیادہ بجٹ کا امتحان بن چکے ہیں۔ پہلے نکاح ہوتا تھا، اب پہلے ہال بک ہوتا ہے، پھر فوٹوگرافر، پھر کھانے کا مینیو اور آخر میں دولہا دلہن کو بتایا جاتا ہے کہ مبارک ہو، آپ کی شادی ہو گئی ہے، اب قرض کی قسطیں بھی ساتھ نبھانی ہیں۔ مہمان کھانا کھا کر تعریف کرتے ہیں، میزبان مسکرا کر شکریہ ادا کرتے ہیں اور اندر ہی اندر حساب لگاتے ہیں کہ بریانی کی ایک پلیٹ کتنے کی پڑی۔ بعض اوقات شادی کی تصویریں برسوں یاد رہتی ہیں، مگر قرض کی رسیدیں ان سے بھی زیادہ دیر تک ساتھ رہتی ہیں۔

ہمارے ہاں دکھاوے کا معیار بھی بہت بلند ہے۔ آمدن پچاس ہزار، مگر شوق لاکھوں کے۔ بچے کی سالگرہ پر اتنا بڑا کیک آتا ہے کہ لگتا ہے پورا محلہ کھائے گا، لیکن اسکول کی فیس جمع کرانے کی باری آئے تو والدین کے چہرے پر ایسی سنجیدگی چھا جاتی ہے جیسے قومی بجٹ پیش ہو رہا ہو۔ گھر میں کھانے کے لیے سادہ دال ہو سکتی ہے، مگر تصویر میں دسترخوان شاہی ہونا چاہیے۔ آخر لوگوں کو بھی تو معلوم ہو کہ ہم کتنے خوش حال ہیں!

میں نے ایک ایسی ماں کو دیکھا جو صبح پانچ بجے اٹھتی ہے، بچوں کا ناشتہ تیار کرتی ہے، شوہر کو کام پر بھیجتی ہے، بچوں کو اسکول روانہ کرتی ہے اور خود ملازمت پر پہنچ جاتی ہے۔ شام کو گھر آ کر دوبارہ کھانا پکاتی ہے۔ میں نے پوچھا، ’’آپ تھکتی نہیں ہیں؟‘‘ مسکرا کر بولیں، ’’تھکتی ہوں، مگر گھر میں میری جگہ لینے والا ابھی پیدا نہیں ہوا۔‘‘ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی اصل ہیرو یہی خواتین ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی سرکاری اعزاز ہوتا ہے، نہ چھٹی کا دن، البتہ کاموں کی فہرست ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔

ہم نے موبائل کو اتنی اہمیت دے دی ہے کہ اگر گھر میں وائی فائی بند ہو جائے تو سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں، جیسے پہلی مرتبہ ایک ہی گھر میں ملاقات ہوئی ہو۔ کھانے کی میز پر بھی گفتگو کم اور موبائل کی روشنیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ اگر کوئی بزرگ پرانی باتیں شروع کر دیں تو نوجوانوں کے چہرے پر ایسی بے بسی آتی ہے جیسے انٹرنیٹ کا سگنل ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہو۔

حالاں کہ ہمارے دین اور تہذیب نے ہمیں سادگی، محبت، برداشت اور ہمسایوں کے حقوق کا درس دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمسائے کے حقوق پر اتنی تاکید فرمائی کہ صحابہؓ کو گمان ہونے لگا کہ شاید اسے وراثت میں بھی حصہ دار بنا دیا جائے گا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہمسائے کے گھر میں کون رہتا ہے، یہ معلوم نہیں، البتہ اس کے گھر کی گاڑی کتنی نئی ہے، اس کا پورا علم ہوتا ہے۔

معاشرے کی اصلاح کے لیے کسی بڑے منصوبے کی ضرورت نہیں۔ بس موبائل کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھیں، گھر والوں کی بات سنیں، ہمسائے کو سلام کریں، غیر ضروری اخراجات سے بچیں اور بچوں کو یہ سمجھائیں کہ انسان کی قدر اس کے لباس، گاڑی یا گھر سے نہیں، کردار سے ہوتی ہے۔

آخر میں عرض ہے کہ زندگی کو اتنا مشکل بھی نہ بنائیں کہ خوش ہونے کے لیے کسی خاص تقریب، مہنگے ہوٹل یا سوشل میڈیا کی منظوری درکار ہو۔ کبھی گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پی لیجیے، کبھی بچوں کی شرارتوں پر ہنس لیجیے اور کبھی ماں کے پاؤں دبا دیجیے۔ یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں کسی مہنگے پیکیج کی محتاج نہیں ہوتیں۔

ورنہ ہم ساری عمر دوسروں کی خوشیوں کو لائیک کرتے رہ جائیں گے اور اپنی زندگی ہمیں لائیک کرنے کا موقع ہی نہیں دے گی!