رشوت، معاشرے کے ضمیر پر ایک سوال،تحریر: قیصر چوہدری
نقطہ نظر
رشوت ایک ایسی سماجی برائی ہے جو صرف چند سکوں یا نوٹوں کا لین دین نہیں، بلکہ انصاف، حق اور میرٹ کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والا ایک ایسا ناسور ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جب کسی جائز کام کے لیے بھی انسان کو اپنی جیب ڈھیلی کرنا پڑے تو مسئلہ صرف ایک فرد کا نہیں رہتا بلکہ یہ پورے نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔
رشوت لینے والا شخص بظاہر وقتی طور پر اپنے مفاد کو ترجیح دیتا ہے، مگر اس کے عمل کے اثرات بہت دور تک جاتے ہیں۔ کسی مستحق کا حق مارا جاتا ہے، کسی نااہل کو موقع مل جاتا ہے اور اداروں پر عوام کا اعتماد مجروح ہونے لگتا ہے۔ یوں رشوت صرف ایک شخص کو فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ معاشرے میں ناانصافی کا ایک نیا دروازہ کھول دیتی ہے۔
افسوس ناک امر یہ ہے کہ بعض اوقات رشوت کو ہمارے معاشرے میں ایک معمول کی بات سمجھ لیا جاتا ہے۔ لوگ یہ کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں کہ ’’کام تو کروانا ہے، کچھ دینا ہی پڑے گا۔‘‘ یہی سوچ رشوت کے نظام کو مضبوط کرتی ہے۔ جب دینے والا اسے مجبوری اور لینے والا اسے اپنا حق سمجھنے لگے تو پھر قانون، اخلاق اور ضمیر تینوں کمزور پڑنے لگتے ہیں۔
رشوت کا خاتمہ صرف سخت قوانین بنانے سے ممکن نہیں۔ قانون کے ساتھ اخلاقی تربیت، شفاف نظام، میرٹ کی پابندی اور مؤثر احتساب بھی ضروری ہے۔ سرکاری اور نجی اداروں میں ایسے نظام قائم کیے جانے چاہییں جہاں کسی شہری کو اپنا جائز کام کروانے کے لیے کسی اہلکار کی ’’مٹھی گرم‘‘ نہ کرنی پڑے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ رشوت صرف لینے والا ہی اس برائی کا ذمہ دار نہیں، بعض صورتوں میں دینے والا بھی اس نظام کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہم ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں تبدیلی کا آغاز اپنے رویوں سے کرنا ہوگا۔ اپنے جائز حق کے لیے رشوت دینے سے انکار کرنا اور دوسروں کے حق پر ڈاکا ڈالنے والی ہر کوشش کی حوصلہ شکنی کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی رشوت کی سختی سے مذمت کی گئی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے:
’’اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لئے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر جان بوجھ کر کھالو۔‘‘
(سورۃ البقرۃ: 188)
نبی رحمتﷺ نے بھی رشوت لینے اور دینے والے کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ رشوت محض ایک معاشرتی برائی نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک سنگین اخلاقی اور شرعی برائی بھی ہے۔ لہٰذا ایک پاکیزہ، عادل اور دیانت دار معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ ہم رشوت سے خود بھی بچیں اور اپنے معاشرے میں اس کے خاتمے کے لیے اپنا کردار بھی ادا کریں۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں فیصلے دولت کے بجائے حق اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں، جہاں عہدہ ذاتی مفاد نہیں بلکہ عوامی خدمت کا ذریعہ ہو، وہی حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ معاشرہ کہلانے کا مستحق ہے۔
رشوت کا خاتمہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہم سب کے کردار کا امتحان ہے۔ کیونکہ معاشرے صرف قوانین سے نہیں، کردار سے بھی بنتے ہیں۔ اگر ہر فرد اپنے حصے کی دیانت داری اختیار کرے اور رشوت کے خلاف عملی قدم اٹھائے تو وہ دن دور نہیں جب ’’رشوت‘‘ صرف لغت کا ایک لفظ رہ جائے گی، ہمارے معاشرے کی حقیقت نہیں۔
مزید پڑھیں





