جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

زندہ کی تنہائی اور مردہ کا ہجوم،تحریر: مہوش بنت بشارت


ایک ممنوعہ سچ جس سے ہم سب واقف ہیں مگر زبان پر لانے سے ڈرتے ہیں۔ہم زندہ لوگوں سے محبت کرنا بھول چکے ہیں۔ ایک شخص ساری زندگی اسی محلے میں خاموشی سے جیتا ہے۔ بیمار ہوتا ہے تو کوئی دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا، بے روزگار ہوتا ہے تو سب اس سے نظریں چراتے ہیں اوردل شکستہ ہوتا ہے تو سننے والا کوئی نہیں ملتا۔کسی کی زندگی میں اس کی موجودگی کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔ وہ اس بات کو محسوس کرتا ہے اور روز تھوڑا تھوڑا مرتا ہے۔جس دن اس کی موت کی خبر آتی ہےتو اسی محلے میں قیامت آ جاتی ہے۔ وہی لوگ جو اس کی زندگی میں اس سے کترا کر گزرتے تھےآج اس کے جنازے کی پہلی صف میں کھڑے نظر آئیں گےہیں۔ وہی زبانیں جو جیتے جی اس کی خامیوں کے قصے کرتی تھیں اب اس کی ان دیکھی خوبیوں کے قصیدے پڑھیں گی۔ ہم زندہ کا حال پوچھنے میں کنجوس اور مردہ کے جنازے میں سخی ہو چکے ہیں۔یہ کیسی محبت ہے جو صرف قبر پر جا کر جاگتی ہے؟ یہ کیسا احترام ہے جو سننے کے لیے زندہ کانوں کو نہیں ملتاصرف بند آنکھوں کو نصیب ہوتا ہے؟

شاید ہمارے نزدیک زندہ انسان کی مدد کرنا ایک مہنگا سودا ہے۔ اسے وقت دینا پڑتا ہے، اس کا بوجھ بانٹنا پڑتا ہےاور اس کی کڑوی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ جبکہ جنازے میں شرکت سب سے سستی نیکی ہے۔ نہ جیب سے کچھ جاتا ہےاورنہ وقت زیادہ لگتا ہے۔ بس چند قدم چل کر کندھا دے دیا اور ہم نے خود کو بخشا ہوا سمجھ لیا۔ ہم نے نیکی کو بھی نفع نقصان کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ ہم ہر خوبصورت احساس کو کل پر ٹال دیتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہ ماں سے کل محبت کا اظہار کر لوں گا باپ سے کل دل کی بات کر لوں گا بھائی سے کل گلے مل لوں گا۔ یہ کل، کل کرتے کرتے ایک دن وہ شخص ہی رخصت ہو جاتا ہے اور ہمارے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔ پھر ہم اس پچھتاوے کو جنازے کے ہجوم میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ زندہ کی مدد خاموش ہوتی ہے۔اس کا کوئی گواہ نہیں ہوتا نہ کوئی داد دیتاہے۔ جبکہ جنازہ ایک مجمع ہے۔ وہاں سب دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کون آیا ہے اور کون نہیں۔ ہم وہی کام کرنے لگے ہیں جہاں دیکھنے والی آنکھیں ہوں کیونکہ ہماری ہمدردی بھی اب خلوص کی نہیں بلکہ نمائش کی محتاج ہو گئی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے گھر زندہ لاشوں سے بھر چکے ہیں۔ ہر گھر میں ایک باپ ہے جو سمجھتا ہے اس کی کوئی نہیں سنتا۔ایک ماں ہے جو سمجھتی ہے اس کی قربانی نظر نہیں آتی۔ ایک بیٹا ہے جو سمجھتا ہے اس کے خوابوں کی کوئی وقعت نہیں۔ ہم ایک ہی چھت کے نیچے اجنبیوں کی طرح جی رہے ہیں اور ایک دوسرے کے جنازے کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ثابت کر سکیں کہ ہمیں ان سے محبت تھی۔ہم نے رشتوں کو جنازوں تک محدود کر دیا ہے۔حل کسی بڑے انقلاب میں نہیں بلکہ ایک چھوٹے سے عمل میں ہے۔اپنے زندوں کی قدر کیجیے۔ جس باپ کی تعریف آپ اس کے جنازے پر کرنا چاہتے ہیں اسے آج بتائیے کہ وہ آپ کا فخر ہے۔ جس ماں کو آپ مرنے کے بعد آپ لپٹ لپٹ کر روئیں گے۔اس کے ساتھ آج بیٹھ کر ایک کپ چائے پی لیجیے۔ جس دوست کے جنازے میں آپ سب سے آگے ہونا چاہتے ہیں۔اس کی زندگی میں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیجیے۔یاد رکھیے قبر پر رکھے ہوئے لاکھوں پھول اس ایک مسکراہٹ کا نعم البدل نہیں ہو سکتے جو آپ کسی زندہ انسان کو دے سکتے ہیں۔مردہ کو آپ کے ہجوم کی ضرورت نہیں بلکہ زندہ کو آپ کے لفظوں اور ساتھ کی ضرورت ہے۔