میرا اصل نام فوزیہ علی ہے، مگر لفظوں کی دنیا میں میری پہچان سائرہ علی کے نام سے ہے۔ سائرہ میرا نک نیم ہے، جو اب میری شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ یوں کہہ لیجیے کہ فوزیہ میرے کاغذات میں محفوظ ہے اور سائرہ میرے لفظوں میں سانس لیتی ہے۔
میری تاریخِ پیدائش نومبر 1988 ہے۔ میرا تعلق پاکستان کے خوبصورت شہر گجرات سے ہے، جبکہ گزشتہ پندرہ برس سے میں اپنے شوہر محمد علی کے ہمراہ بیرونِ ملک، لیبیا میں مقیم ہوں۔ کتابوں سے محبت مجھے بہت کم عمری میں ہی ہوگئی تھی۔ ناول پڑھنا، افسانوں کی دنیا میں کھو جانا اور اپنی ڈائری میں چھوٹی چھوٹی باتیں درج کرنا میری پسندیدہ مصروفیات تھیں۔ پڑھتے پڑھتے اور ڈائری لکھتے ہوئے نہ جانے کب میرے اندر کے احساسات نے لفظوں کا روپ دھارنا شروع کر دیا۔ ابتدا میں چند چھوٹے چھوٹے شعر لکھے، پھر یہ سلسلہ آہستہ آہستہ ایک ایسی عادت میں بدل گیا جس کی گہرائی کا مجھے خود بھی اندازہ نہ تھا۔
یوں تو لکھنے کا شوق بہت پہلے سے میرے ساتھ تھا، مگر 2010 وہ سال تھا جب میں نے باقاعدہ اور سنجیدگی سے لکھنے کا آغاز کیا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کسی سے کہہ نہیں پاتا، کچھ جذبات ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان پر لانا مشکل ہوتا ہے، مگر قلم کے سپرد کرنا آسان ہوتا ہے۔ میں اپنے وہ تمام احساسات اور جذبات کاغذ پر اتارنے لگی جنہیں کسی کے سامنے بیان نہیں کر سکتی تھی۔ لکھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا جیسے دل کا سارا بوجھ ہلکا ہوگیا ہو، جیسے میں نے اپنے اندر چھپی ہر بات کسی اپنے سے کہہ دی ہو۔ آہستہ آہستہ قلم میرا بہترین ہم راز اور ایک قریبی سہیلی بن گیا۔ زندگی کی مصروفیات اور حالات نے وقت کو ہمیشہ اپنے حصار میں رکھا، مگر میں نے لکھنے سے اپنا رشتہ کبھی مکمل طور پر ٹوٹنے نہیں دیا۔ چاہے کم لکھا، مگر لکھا ضرور، کیونکہ لکھنا میرے لیے محض ایک مشغلہ نہیں بلکہ قلبی سکون کا ذریعہ بن چکا تھا۔ ابتدا میں میرے لکھنے کا مقصد صرف اپنے احساسات کو لفظوں میں ڈھالنا تھا۔ نہ شہرت کی خواہش تھی، نہ کسی نام و مقام کی طلب۔ میں تو بس اپنے اندر کی دنیا کو کاغذ پر منتقل کرکے مطمئن ہو جاتی تھی۔ اس وقت مجھے لکھنے کے ادبی آداب، فنی باریکیوں اور اصولوں کا زیادہ علم نہیں تھا۔ میں جو محسوس کرتی، لکھ دیتی۔
پھر ایک وقت آیا جب میں نے اپنی تحریریں چند دوستوں کے ساتھ شیئر کرنا شروع کیں۔ ان کی حوصلہ افزائی نے میرے اندر ایک نیا اعتماد پیدا کیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ شاید میرے لفظ صرف میرے اپنے احساسات تک محدود نہیں، بلکہ دوسرے دلوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ یہی سوچ مجھے ادبی پلیٹ فارمز تک لے آئی، جہاں میں نے لکھنا شروع کیا۔ یہاں آکر میرے لیے سیکھنے کے نئے دروازے کھلے۔ اپنی غلطیوں کی اصلاح کا موقع ملا، بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملا، مختلف ادبی مقابلوں میں حصہ لیا اور ان سے تجربہ حاصل کیا۔ اس سفر میں چند اعزازی اسناد بھی ملیں، جو میرے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنیں۔ ان سب سے بڑھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ لکھنے کا سفر صرف اظہار کا نہیں بلکہ مسلسل سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کا سفر بھی ہے۔
میں کالم بھی لکھتی ہوں، افسانے بھی اور شاعری سے بھی محبت ہے۔ ایک وقت تھا جب اپنے احساسات کو شعری انداز میں لکھ کر سمجھتی تھی کہ شاید یہ شاعری ہے، مگر عروض اور شاعری کے فنی اصولوں سے ناواقف تھی۔ پھر یہی محبت مجھے عروض سمجھنے اور سیکھنے کی طرف لے آئی۔ اس سلسلے میں مجھے محترم استاد محمد سبحان شوق صاحب کی رہنمائی حاصل ہوئی۔ انہوں نے میری تحریروں کی اصلاح کی، میری غلطیوں کی نشان دہی کی اور مجھے سیکھنے کا حوصلہ دیا۔ میں ان کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ وہ خلوص کے ساتھ میری رہنمائی کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اپنی محنت، لگن اور ان کی رہنمائی سے ان شاء اللہ شاعری کے فن کو بھی بہتر انداز میں سیکھ سکوں گی۔ میرا ماننا ہے کہ لکھنے والا کبھی مکمل نہیں ہوتا، کیونکہ سیکھنے کا عمل زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہتا ہے۔ ہر نیا لفظ، ہر نئی تحریر اور ہر اصلاح انسان کو کچھ نہ کچھ سکھا جاتی ہے۔
میرے لکھنے کی خواہش آج بھی وہی ہے جو ابتدا میں تھی۔ میں اپنے احساسات، جذبات اور زندگی کے تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر دوسروں تک پہنچانا چاہتی ہوں۔ میری خواہش ہے کہ جب کوئی میری تحریر پڑھے تو اسے ان لفظوں میں کہیں اپنا عکس دکھائی دے، کوئی ایسا احساس ملے جسے وہ خود بھی محسوس کرتا ہو مگر بیان نہ کر پاتا ہو، یا میری کسی بات سے اسے زندگی کو سمجھنے کا کوئی نیا زاویہ مل جائے۔ میں نہیں جانتی کہ آنے والے وقت میں میرا قلم مجھے کہاں تک لے جائے گا، مگر اتنا ضرور جانتی ہوں کہ لفظوں سے جڑا یہ رشتہ میرے لیے بہت قیمتی ہے۔ میں ابھی سیکھ رہی ہوں، خود کو بہتر بنا رہی ہوں اور اپنے قلم کے ساتھ ایک طویل سفر پر رواں دواں ہوں۔
کیونکہ میرے نزدیک لکھنا صرف لفظوں کو ترتیب دینا نہیں، بلکہ اپنے وجود کی ان کہی داستان کو صفحہ قرطاس پر رقم کرنا ہے۔ میں سائرہ علی ہوں، ایک ایسی عام سی عورت جس نے اپنے احساسات کو لفظوں کا لباس پہنانا سیکھا ہے۔ میرا قلم میری آواز ہے، میری ڈائری میرا ہم راز اور میری تحریریں میرے وجود کا وہ حصہ ہیں جہاں میں خود سے بھی ملتی ہوں اور دوسروں سے بھی۔ یہ سفر جاری ہے، اور دعا ہے کہ میرا قلم ہمیشہ سچائی، احساس اور خلوص کے ساتھ لکھتا رہے۔






