Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نوجوان نسل کا خاموش قاتل،​تحریر: علی رضا اوپل

نقطہ نظر

​کسی بھی قوم کا اصل سرمایا اس کی جوان نسل ہوتی ہے۔ اگر کسی ملک کی یوتھ سست، بیمار اور نشے کی عادی ہو جائے تو وہ قوم بغیر جنگ کے ہی معاشی اور اجتماعی تباہی کا شکار ہو جاتی ہے۔ آج ہمارا پاکستان ایک ایسے ہی پوشیدہ اور بھیانک بحران کی زد میں ہے، جہاں ہماری نوجوان نسل کو سستے اور آسانی سے ملنے والے نشے کی دلا دل میں دھکیلا جا رہا ہے۔

​آج کل گلی محلوں، کالجوں اور کام کی جگہوں پر ایک انتہائی خوفناک رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ نوجوانوں میں انرجی ڈرنکس جیسے 'سٹنگ' کے ساتھ اعصابی ادویات (مثلاً 'گیپ افل' یا دیگر پین کلرز) ملا کر پینے اور 'نشاور' اشیاء استعمال کرنے کی وباء تیزی سے پھیل رہی ہے۔ جن ادویات کا مقصد شوگر کے مریضوں کی تکلیف کم کرنا یا شدید اعصابی درد کا علاج کرنا تھا، اب انہیں ایک ارزاں نشے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ جان لیوا کمبینیشن نہ صرف انسان کے دماغی اعصاب کو سن کر دیتا ہے بلکہ گردے، جگر اور دل کو مفلوج کر کے بندے کو سستے نشے کا عادی بنا دیتا ہے۔

​سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ سارا زہر ہمارے میڈیکل سٹورز اور دکانوں پر کھلے عام فروخت ہو رہا ہے۔ جس میڈیکل سٹور والے کو انسانوں کی زندگی بچانے کا ضامن ہونا چاہیے تھا، وہ چند روپوں کے فائدے کی خاطر بغیر ڈاکٹر کے نسخے کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں یہ موت تھما رہا ہے۔ قانون موجود ہونے کے باوجود اس کی عملداری دور دور تک نظر نہیں آتی۔

​اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کب جاگیں گے؟

​حکومتِ وقت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے ہماری پرزور اپیل ہے کہ:

​ادویات کی فروخت پر سخت ترین کنٹرول: تمام میڈیکل سٹورز کے لیے یہ قانون لازمی اور سخت بنایا جائے کہ کوئی بھی اعصابی یا سکون آور دوا مستند ڈاکٹر کے تصدیق شدہ نسخے کے بغیر ہرگز نہ دی جائے۔

​سخت سزائیں اور چھاپے: بغیر نسخے کے ڈرگز فروخت کرنے والے میڈیکل سٹورز کے لائسنس منسوخ کیے جائیں اور ان پر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں۔

​نوجوانوں کی آگاہی مہم: سکولوں، کالجوں اور میڈیا کے ذریعے ان خطرناک کمبینیشنز اور نشاور اشیاء کے نقصانات سے متعلق مسلسل آگاہی فراہم کی جائے۔

​والدین کی ذمہ داری: والدین کو بھی اپنے بچوں کی معصوم خاموشی، اچانک بدلتے روئیے اور ان کے دوستوں کی صحبت پر کڑی نظر رکھنی ہوگی۔

​اگر ہم نے آج اس ناسور کو روکنے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات نہ کیے، تو ہماری آنے والی نسلیں محض فائلوں اور خبروں میں ہی صحت مند نظر آئیں گی۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اس مسئلے پر زیرِ غور آئے، ہنگامی بنیادوں پر سخت قوانین نافذ کرے اور ہمارے معاشرے کو اس خاموش زہر سے بچائے۔ وقت کم ہے اور نقصان بہت زیادہ!