بدھ، 28 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

نظام کا دوہرا معیار، امیر کے لیے جزا اور غریب کے لیے سزا،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

​پیسا، نوکریاں اور بہتر معیارِ زندگی یقیناً بعد کی باتیں ہیں، لیکن انسان سب سے پہلے عزت اور انصاف کا متقاضی ہوتا ہے۔ جس دن ہمارے ملک کا نوجوان یہ محسوس کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اس کی دھرتی پر اس کی قابلیت کی کوئی قدر نہیں اور نظام اس کے ساتھ انصاف کرنے سے قاصر ہے، اس دن وہ پردیس کی سختیوں کو اپنے ہی وطن کی خدمت پر ہمیشہ کے لیے ترجیح دے گا۔ نظام کا یہی ناانصافی والا پہلو نوجوانوں کو اندر سے توڑ کر رکھ دیتا ہے، کیونکہ معاشی تنگی انسان کا جینا مشکل بناتی ہے، لیکن نظام کی ناانصافی اور قانون کا دوہرا معیار انسان کی روح اور اس کی خودداری کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے۔


​آج پاکستان کے معاشرے کا سب سے بڑا اور تلخ سچ یہی ہے کہ یہاں طاقتور اور اشرافیہ کے لیے قانون الگ ہے اور ایک عام اور غیر معروف شہری کے لیے قانون کا معیار بالکل مختلف ہے۔ قانون کی حکمرانی اور قانون کے ذریعے حکمرانی کا فرق ہمارے ہاں اتنا گڈمڈ ہو چکا ہے کہ عام آدمی کو روزانہ کی بنیاد پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ اس نظام میں دوسرے درجے کا شہری ہے۔ جب عدالتوں میں انصاف کے ترازو میں پیسے اور اثر و رسوخ کے باٹھ رکھے جائیں، تو پھر عام شہری کا اس ریاست اور نظام پر سے اعتبار اٹھنا لازمی امر بن جاتا ہے۔


​اس دوہرے معیار کی سب سے ہولناک جھلک ہمیں شاہراہوں پر ہونے والے حادثات اور انسانی جان کی بے توقیری میں نظر آتی ہے۔ جب کوئی طاقتور یا بااثر شخصیت تیز رفتار لگژری گاڑی سے عام شہریوں کو کچل دیتی ہے، تو نظام کے کارپرداز فوری طور پر ملزم کی 'ذہنی حالت' یا اس کی بیماری کو ڈھال بنا لیتے ہیں۔ اسے ہسپتال کے پرتعیش وی آئی پی رومز میں منتقل کر دیا جاتا ہے، جہاں تفتیش بھی مہمان نوازی کے انداز میں ہوتی ہے۔ کچھ عرصے بعد دیت، خون بہا یا خاندانی دباؤ کے نام پر راضی نامے کی داستانیں رقم ہوتی ہیں اور ملزم باعزت بری ہو کر پھر سے سڑکوں پر دندناتا پھرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر کوئی غریب موٹر سائیکل سوار یا عام ڈرائیور چھوٹی سی غفلت کا مرتکب ہو جائے، تو اس پر ناقابلِ ضمانت دفعات کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے، اسے تھانے کی تاریکیوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ کچہریوں کے چکر کاٹتے کٹتے بوڑھا ہو جاتا ہے۔


​عدالتی نظام اور ضمانتوں کا معیار بھی اس تلخ حقیقت کا ایک اور باب ہے۔ ہمارے ملک میں سیاسی رہنماؤں، بڑے بیوروکریٹس اور معاشی اشرافیہ کے لیے عدالتیں نصف شب کو بھی کھل جاتی ہیں۔ حفاظتی ضمانتیں گھنٹوں کے اندر مہیا کر دی جاتی ہیں، اور اگر سزا مل بھی جائے تو طبی بنیادوں پر ملک سے باہر جانے کے پروانے فوراً جاری ہو جاتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف، ایک عام شہری اپنے چھوٹے موٹے زمین کے تنازع، معمولی چوری یا جھوٹے مقدمے کی پیروی کے لیے سالہا سال عدالتوں کی دہلیز پر دھکے کھاتا ہے۔ پاکستان کی جیلوں میں ہزاروں ایسے بدقسمت انسان سڑ رہے ہیں جو اپنی اصل سزا سے کہیں زیادہ عرصہ محض زیرِ سماعت قیدی کی حیثیت سے کاٹ چکے ہیں، کیونکہ ان کے پاس نہ تو وکیل کی بھاری فیس دینے کی سکت ہے اور نہ ہی ضمانت کے مچلکے جمع کروانے کے وسائل۔


​ہائی پروفائل قتل کے مقدمات ہوں یا عام شہریوں کی جانوں کے ضیاع کے معاملات، ہر جگہ تفاوت کی یہ دیوار حائل ہے۔ شاہزیب خان قتل کیس جیسے دلخراش واقعات میں واضح شواہد اور عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کے باوجود، بااثر خاندان قانون کی کمزوریوں اور دیت کے قانون کا استعمال کرتے ہوئے اپنے مجرموں کو بچانے میں کامیاب ہو گئے۔ ناظم جوکھیو کا المناک واقعہ ہو یا ملک کے کسی بھی کونے میں ہونے والا عام شہری کا قتل، انصاف کا حصول غریب کے لیے کسی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ عام آدمی کو ایف آئی آر درج کروانے کے لیے بھی تھانے کے دروازے پر مہینوں التجا کرنی پڑتی ہے، اور تفتیشی افسر کی جیب گرم کیے بغیر فائل کا اگلا ورق پلٹنا ناممکن ہوتا ہے۔


​ٹیکس کے نفاذ اور زمینوں پر قبضوں کا نظام بھی اسی دوہرے معیار کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اربوں روپے کے ٹیکس چور، ایمنسٹی سکیموں اور این آر او کے نام پر اپنے کالے دھن کو سفید کر لیتے ہیں، اور بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے مالکان غریبوں کی زمینوں اور سرکاری اراضی پر قبضے کر کے بھی قانونی تحفظ حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کے برعکس، ایک عام تنخواہ دار ملازم یا چھوٹا دکاندار جب صبح اٹھتا ہے تو اس کی روٹی، بجلی کے بل اور ہر چھوٹی ضرورت پر ٹیکس کاٹا جا چکا ہوتا ہے۔ تجاوزات کے نام پر غریب کی ریڑھی اور دکان کو تو چند لمحوں میں مسمار کر دیا جاتا ہے، لیکن قانون کے رکھوالے اشرافیہ کی غیر قانونی تجاوزات کی طرف دیکھنے کی جرات بھی نہیں کرتے۔


​یہ تمام حالات اور واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ معاشرے میں قانون صرف اس وقت حرکت میں آتا ہے جب سامنے والا کمزور ہو۔ جب نوجوان یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے، تو اس کے دل سے وطن کی محبت کا وہ چراغ مدہم پڑ جاتا ہے جو خواب دیکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ جس ملک میں اس کی محنت کی کوئی عزت نہیں، جہاں میرٹ کو روند دیا جاتا ہے اور جہاں قانون غریب کی گردن ناپتا ہے اور امیر کو بچا لیتا ہے، وہاں رہنے کا کیا فائدہ؟


​اس صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس دوہرے نظام کو کبھی بدلا جا سکے گا؟ کیا ہمارے ادارے اس زنگ آلود اور طبقاتی نظام سے نجات حاصل کر سکیں گے؟ اس کا جواب اس تلخ حقیقت میں چھپا ہے کہ جب تک قانون کی حکمرانی کو طاقتور کی مرضی کے تابع رکھا جائے گا، ملک کا نظام اندر سے کھوکھلا ہوتا رہے گا۔ اصلاحات کے لیے محض دعوے کافی نہیں ہیں، بلکہ پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کو سیاسی اثر و رسوخ اور مالی مفادات سے آزاد کروانا ہوگا۔ جب تک ہر شہری کے لیے قانون کا ایک ہی ترازو اور ایک ہی معیار نہیں اپنایا جاتا، تب تک نہ تو نوجوانوں کے ٹوٹتے ہوئے اعتماد کو بحال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ریاست کو اس بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔ نظام کی تبدیلی اب کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اس ملک کی بقا کی آخری شرط بن چکی ہے۔