Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان: امن کی نئی سفارتی آواز،تحریر:سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی ملاقات محض دو ہمسایہ ممالک کے سربراہان کی ملاقات نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمی اور امن کے لیے اس کے کردار کی ایک اہم علامت بھی ہے۔ اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کا افتتاح 8 ستمبر 2026 کو ہوا، جبکہ عمومی بحث 22 سے 26 ستمبر اور 28 ستمبر کو جاری ہے۔


پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلومیٹر طویل سرحد، مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہبی و عوامی روابط موجود ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہی، جس میں پاکستان کی برآمدات تقریباً 684 ملین ڈالر اور درآمدات تقریباً 2.1 ارب ڈالر تھیں۔


مگر آج کی ملاقات کی اصل اہمیت اس سے کہیں آگے ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے صدر پزشکیان کے ساتھ علاقائی صورتحال پر گفتگو میں تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔ یہی وہ سفارتی طرزِ فکر ہے جسے پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے عملی طور پر آگے بڑھاتا آرہا ہے۔


جون 2026 میں ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) سامنے آئی، جس کے بعد پاکستان اور قطر نے 21 جون کو برجن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ میں اس مفاہمت پر عملدرآمد کے لیے اعلیٰ سطحی اجلاس کی میزبانی کی۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس عمل کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت، تکنیکی مذاکرات اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرنا تھا۔


یہاں پاکستان کے کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد نے نہ تو خود کو کسی ایک فریق کا ترجمان بنایا اور نہ ہی کسی دوسرے فریق کے خلاف محاذ آرائی کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز بنایا؛ اس کے بجائے مذاکرات، رابطے اور سفارت کاری پر زور دیا۔ جولائی میں وزارتِ خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان کے نزدیک تنازعات کے حل کے لیے مسلسل رابطہ، مکالمہ اور سفارت کاری ہی بنیادی راستہ ہیں اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو امن کے لیے ایک فریم ورک کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔


یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو خطے کے مختلف فریقوں کے ساتھ بیک وقت رابطہ رکھنے کا سفارتی فائدہ حاصل ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان کے سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ تعلقات موجود ہیں، اور اسی اعتماد کی بنیاد پر اسے ثالثی اور سہولت کاری کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔


پاکستان کے لیے یہ ایک تاریخی موقع بھی ہے اور ایک بڑی ذمہ داری بھی۔ اگر اسلام آباد اپنے موجودہ سفارتی رابطوں کو مستقل، متوازن اور نتیجہ خیز رکھتا ہے تو پاکستان صرف اپنے خطے میں نہیں بلکہ وسیع تر ایشیا اور عالمی سطح پر امن، مکالمے اور سفارتی حل کی آواز کو مضبوط کر سکتا ہے۔


دنیا آج جنگوں، کشیدگی، معاشی دباؤ اور باہمی عدم اعتماد کے دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں میز پر بیٹھ کر مسئلے حل کرنے کی کوشش کمزوری نہیں بلکہ سفارت کاری کی اصل طاقت ہے۔ پاکستان کا پیغام واضح ہونا چاہیے: جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں، مذاکرات ہی وہ راستہ ہیں جو دشمنی کو مفاہمت، کشیدگی کو استحکام اور بحران کو تعاون میں بدل سکتے ہیں۔


پاکستان اگر مختلف فریقوں کو امن کے معاہدوں، مفاہمت اور مسلسل مذاکرات کی طرف لانے میں اپنا کردار جاری رکھتا ہے تو آنے والے برسوں میں اسلام آباد کی شناخت صرف ایک جغرافیائی ملک کے طور پر نہیں بلکہ امن کے لیے پل بنانے والی سفارتی قوت کے طور پر بھی مستحکم ہو سکتی ہے۔


یہی پاکستان کا مثبت عالمی کردار ہے، تنازع میں فریق بننے کے بجائے امن کا راستہ دکھانا، اور جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز کو مضبوط کرنا۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL