جمعرات، 15 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان بار کونسل کی خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی مذمت، منتخب حکومت بحال کرنے کا مطالبہ

letter

پاکستان بار کونسل کے ارکان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور صدرِ مملکت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے غیر آئینی اعلان کو فوری طور پر واپس لیا جائے، صوبے کی منتخب حکومت بحال کی جائے اور صوبائی خودمختاری کا احترام یقینی بنایا جائے۔

پاکستان بار کونسل کی جاری کردہ پریس ریلیز میں بار کونسل کے ارکان نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے، گورنر راج لگانے اور سہیل آفریدی کی سربراہی میں قائم منتخب صوبائی حکومت کو ہٹانے کا اقدام غیر آئینی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ خود عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات کی زد میں ہیں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا کہ یہ غیر قانونی اقدام پاکستان میں جمہوری نظام کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ پاکستان نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں آزادی حاصل کی تھی۔ ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ، اس کے ساتھ مشاورتی کونسل کا قیام، بدنیتی اور غیر قانونی اقدامات کے زمرے میں آتا ہے۔

پاکستان بار کونسل کے ارکان نے ملک میں رائج نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور دو اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسلط کردہ ہائبرڈ نظام نے قانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام نے اختیارات ایک آمرانہ اور سخت گیر ریاست کے حوالے کر دیے ہیں، جبکہ عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے پارلیمانی حکمرانی عملاً پاکستان میں ختم ہو چکی ہے۔

پریس ریلیز میں صدرِ مملکت کی جانب سے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے مشورے پر آئین کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے استعمال کو بھی غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا گیا۔ ارکان نے کہا کہ آرٹیکل 232 کے تحت اندرونی بدامنی کی بنیاد پر ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صورتِ حال صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو اور صوبائی اسمبلی اس حوالے سے قرارداد منظور کرے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایسی کوئی قرارداد منظور نہیں کی گئی۔

پاکستان بار کونسل کے ارکان نے سوال اٹھایا کہ پاکستان گزشتہ چالیس برس سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے، جس کے خلاف شہریوں اور مسلح افواج کے اہلکاروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں، تو کیا ملک اس وقت ایسی جنگی صورتِ حال سے دوچار ہے جو ایمرجنسی کے نفاذ کو جائز قرار دے؟ پریس ریلیز میں دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد اور اس میں دی جانے والی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایمرجنسی کے جواز پر سوالات اٹھائے گئے۔

پریس ریلیز میں آئین کے آرٹیکل 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ گورنر راج صرف اس صورت میں نافذ کیا جا سکتا ہے جب کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق امور انجام دینے کے قابل نہ رہے۔ ارکان کے مطابق خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور اسمبلی دونوں آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں، اس لیے گورنر راج کے نفاذ کا جواز نہیں بنتا۔

پاکستان بار کونسل کے ارکان نے مزید سوال کیا کہ اگر صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے تو پھر بلوچستان میں بڑے پیمانے پر جاری دہشت گردی کی وضاحت کیسے کی جائے، جہاں ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت فوج کے ساتھ قریبی تعاون کر رہی ہے؟

مشترکہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ہائبرڈ نظام کے تحت حقیقی جمہوریت سے انکار، معاشی بدانتظامی، بنیادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے انصاف تک رسائی میں رکاوٹیں اور ہر سطح پر بدعنوانی سمیت متعدد عوامل نے دہشت گردی میں اضافے اور پاکستان کے وفاقی نظام پر عوام کے اعتماد میں کمی میں کردار ادا کیا ہے۔

ارکان نے کہا کہ پوری قوم اندرونی اور بیرونی جارحیت کے خلاف مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اور آئینی اقدامات کے لیے جواز بنانے کے بجائے آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔

پریس ریلیز کے ذریعے پاکستان بار کونسل کے ارکان نے صدرِ مملکت سے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان اور گورنر راج کے نفاذ کا غیر آئینی اقدام فوری طور پر واپس لیا جائے، صوبے کی جمہوری طور پر منتخب حکومت بحال کی جائے اور صوبائی خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

پریس ریلیز میں ملک بھر کی بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مذمت کریں۔

پریس ریلیز پر پاکستان بار کونسل کے ارکان عابد شاہد زبیری، محمد مقصود بٹر، ایم شفیق محمود چوہان، عبد الستار خان، منیر احمد کاکڑ، سلمان اکرم راجہ، صلاح الدین احمد اور قاضی محمد ارشد کے دستخط موجود ہیں۔