پاکستان کی ایک اور کامیابی،تحریر:انعام الحسن کاشمیری
نقطہ نظر
گزشتہ برس آپریشن بنیان المرصوص میں پاکستان کی شاندار کامیابی کا جشن پاکستان، مقبوضہ جموں وکشمیر اور دنیا بھر میں جہاں جہاں پاکستانی اور کشمیری بستے ہیں ، بڑے جوش وخروش سے منایاگیا۔ اس آپریشن کا نام قرآن پاک کی ایک سورۃ سے لیا گیا۔ یہ پوری آیت مظفرآباد کی اِس مسجد کے محراب کے اوپر کنندہ تھی، جسے بھارتی میزائلوں نے رات کی تاریکی میں شہید کردیا تھا۔ جس کا مطلب تھا ‘‘سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔’’بھارت نے اپنے اس آپریشن کا نام ‘‘آپریشن سیندور ’’رکھا۔
1987ء میں بھارت میں ایک فلم ‘‘سیندور ’’ کے نام سے بنائی گئی تھی۔اس فلم میں بھارت کے ممتاز اداکاروں ششی کپور، دھرمیندا، گوندا، جیا پرادا وغیرہ نے کام کیاتھا۔ اس قدر بڑی کاسٹ ہونے کے باوجود حیرت انگیزطور پر یہ فلم بری طرح فلاپ ہوئی۔ چنانچہ بھارت کا آپریشن سیندور بھی اس فلم کی طرح بری طرح فلاپ ہوا ۔ بھارت نے جنگ کے بعدکھسیانی بلی کھمبانوچے کے مصداق پاکستان کو زک پہنچانے کے لیے سندھ طاس آبی معاہدہ معطل کردیاتھا ۔ یہ معاہدہ 1960ء میں عمل میں آیا تھا اور اس کاضامن عالمی بینک تھا۔ بھارت کی کوشش تھی کہ وہ جنگ کی آڑ میں معاہدہ معطل کرکے آبی مفادات حاصل کرلے گا جس کے تحت مختلف مقامات پر بڑے ڈیموں کی تعمیر جاری ہے۔ ان میں بڑی تعداد مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہے۔
پاکستان نے بھارت کو متعدد بار متنبہ کیا کہ وہ یک طرفہ طور پر معاہدہ کو معطل نہیں کرسکتا لیکن اُس کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ پاکستان معاملے کو عالمی ثالثی عدالت میں لے گیا جہاں طویل کارروائی کے بعد پاکستان کے حق میں اور بھارت کیخلاف فیصلہ دیتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا اقدام مسترد کر دیاگیا۔ عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو التواء میں ڈالنے اور راتلے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے سے متعلق عبوری اقد ا مات کا حکم جاری کیا۔عالمی عدالت کا یہ فیصلہ یکم ستمبرکو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے ایک روز پہلے آیا جس کے باعث اجلاس میں پاکستان کی پوزیشن خاصی مستحکم ہوگئی۔
پاکستان کی جانب سے 4 مارچ 2026ء کو بھارتی اقدامات کیخلاف عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔پاکستان نے ثالثی عدالت سے بھارت کے رن آف دی ریور ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے بعض اجزاء کے ڈیزائن کا جائزہ لینے کی درخواست کی تھی، یہ کارروائیاں کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ اور راتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کے تناظر میں بھی ہیں۔دونوں منصوبے غیر جانبدار ماہر کے سامنے بھی زیرِ سماعت ہیں، جسے عالمی بینک نے مقرر کیا ۔ عدالت نے ممکنہ بنیادوں کا جائزہ لیا جن کی بنا پر بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم کر سکتا ہے۔ثالثی عدالت نے فیصلے میں قرار دیا بھارت کی جانب سے بتائی گئی کوئی بھی بنیاد معاہدے کی معطلی یا خاتمے کا جواز پیش نہیں کر سکتی، سندھ طاس معاہدہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ العمل ہے، بھارت کو معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنا ہوگا، بھارت کومغربی دریاؤں پر اپنے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈ یز ائن اور آپریشن سے متعلق ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان کی درخواست پر بھارت پر عبوری اقدامات بھی عائد کر دیئے،عدالت نے بھارت کو راتلے ڈیم کی دیوار اور پانی کے انٹیک ڈھانچے کو مخصوص سطحوں سے اوپر کرنے سے روک دیا اور حکم دیا کہ نیوٹرل ایکسپرٹ کے حتمی فیصلے کے 90 دن بعد تک بھارت راتلے ڈیم کی تعمیر پر کام بند رکھے۔عالمی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے قرار دیا ہے معاہدہ مکمل طور پر نافذالعمل ہے اور بھا رت اس کی تمام ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند ہے۔ پاکستان کیساتھ پانی کی تقسیم کیلئے سندھ طاس معاہدے کی پاسدا ر ی کرنی ہوگی۔ واضح کیاگیا بھارت کے پاس معاہدہ معطل یا ختم کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔ عالمی ثالثی عدالت کے متفقہ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کے پن بجلی منصو بے سندھ طاس معاہدے کی پابندی کے تابع ہونگے۔
عالمی عدالت انصاف میں بھارت کی پسپائی دراصل اُس کے اپنے اعمال ہی کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے کبھی جارحیت کا ارتکا ب نہیں کیا۔ اس کی پوزیشن دفاعی رہی ہے۔ آبی تنازعات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اہمیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ دونوں ممالک کے کافی دریاسانجھے ہیں اور بھارت کو چاہیے کہ وہ یورپی او رافریقی ممالک کی طرح سانجھے دریاؤں کے پانیوں کے استعمال کے اصولوں کو سمجھے اور اِن پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ بھارت کے پاس اپنے بے شمار دریا ہیں جن کا پانی وہ آزادانہ طور پر استعمال کرسکتا ہے لیکن اس پر اُس کی توجہ بہت کم جاتی ہے
مزید پڑھیں




