پاکستان میں غذائی تحفظ اور بڑھتی غربت کے چیلنجز،تحریر: محمد راشد تبسم
نقطہ نظر
پاکستان ایک زرعی ملک ہے، جہاں زرخیز زمین، محنتی کسان اور مختلف اقسام کی فصلیں پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں خاندانوں کے لیے معیاری اور مناسب خوراک کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بڑھتی غربت، مہنگائی، کمزور زرعی پالیسیوں اور خوراک کی غیر مساوی دستیابی سے جڑا ایک سنگین معاشی و سماجی چیلنج ہے۔ جب کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت حاصل نہ کر سکے اور صارف بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے کی استطاعت کھو دے تو ملک میں خوراک کی پیداوار بھی غذائی تحفظ کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (IPC) کی فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق، دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے دوران پاکستان کے زیر تجزیہ دیہی علاقوں کے تقریباً 75 لاکھ افراد، یعنی 21 فیصد آبادی، کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا۔ سیلاب، موسمیاتی تبدیلی، زرعی آمدنی میں کمی اور معاشی مشکلات اس بحران کی اہم وجوہات ہیں۔ قدرتی آفات فصلوں اور مویشیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، جس سے دیہی خاندانوں کے روزگار اور خوراک کے ذرائع متاثر ہوتے ہیں۔ نتیجتاً خوراک پیدا کرنے والا کسان بھی اپنے خاندان کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔
غذائی تحفظ کا مطلب صرف گندم، چاول اور دیگر اجناس کی وافر دستیابی نہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ ہر شہری انہیں خریدنے کی استطاعت رکھتا ہو۔ اگر خوراک بازار میں موجود ہو لیکن لوگوں کی آمدنی اسے خریدنے کے لیے کافی نہ ہو تو بھوک اور غذائی عدم تحفظ برقرار رہتے ہیں۔
عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی معاشی رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے کے انتہائی غریب افراد میں پاکستان کا حصہ 48 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عالمی بینک کے تین ڈالر یومیہ والے غربت کے معیار، جو 2021 کی پرچیزنگ پاور پیرٹی (PPP) پر مبنی ہے، کے تحت پاکستان میں 2018-19 سے 2024-25 کے درمیان غربت کی شرح میں 6.4 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب قومی غربت کی لکیر کے مطابق مالی سال 2025 میں غربت کی شرح 22.2 فیصد رہی۔
مہنگائی نے کم آمدنی والے خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کے مطابق، ستمبر 2026 میں سالانہ غذائی افراط زر 8.20 فیصد رہی، جبکہ 10 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں حساس قیمت اشاریے (SPI) کے تحت سالانہ افراط زر 11.97 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسی ہفتے آٹے کی قیمت میں 5.69 فیصد اضافہ ہوا۔
افراط زر کی شرح میں کمی کا مطلب اشیا کی قیمتوں میں کمی نہیں، بلکہ قیمتیں بڑھنے کی رفتار میں کمی ہے۔ مسلسل مہنگی ہوتی خوراک کے باعث کم آمدنی والے خاندان گوشت، دودھ، انڈوں اور پھلوں کی خریداری محدود کر دیتے ہیں، جس سے ان کی غذا میں ضروری غذائی اجزا کی کمی کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
غذائی عدم تحفظ کا سب سے تشویش ناک اثر بچوں کی صحت اور نشوونما پر پڑتا ہے۔ یونیسیف اور حکومت پاکستان کے تعاون سے کیے گئے قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق، پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 40.2 فیصد عمر کے لحاظ سے کم قد (Stunting)، جبکہ 17.7 فیصد قد کے لحاظ سے کم وزن (Wasting) کا شکار تھے۔ اگرچہ یہ اعدادوشمار 2018 کے ہیں اور موجودہ صورت حال کی عکاسی نہیں کرتے، تاہم یہ غذائی قلت کے دیرینہ مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ بچپن میں ناکافی غذا جسمانی نشوونما، ذہنی صلاحیت اور سیکھنے کی استعداد کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے بچوں کی غذائیت پر سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
پاکستان کے غذائی مسائل کی ایک اہم وجہ زرعی شعبے کو درپیش مشکلات بھی ہیں۔ بیج، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل اور بجلی کے بڑھتے اخراجات پیداواری لاگت میں اضافہ کرتے ہیں، جبکہ فصل کی مناسب قیمت نہ ملنے سے کسان کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر مو¿ثر ترسیلی نظام، ذخیرہ اندوزی اور منڈیوں میں شفافیت کی کمی کے باعث کسان کو مناسب معاوضہ نہیں ملتا اور صارف مہنگی خوراک خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ جدید گوداموں، کولڈ چین اور بہتر ترسیلی نظام سے فصلوں کا ضیاع کم کرکے کسان اور صارف دونوں کو فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور دیگر سماجی تحفظ کے اقدامات کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے اہم سہارا ہیں، لیکن مستقل غذائی تحفظ کے لیے مالی امداد کافی نہیں۔ حکومت کو زرعی پیداوار بڑھانے، خوراک کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام اور منڈیوں میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے موثر اصلاحات کرنا ہوں گی۔ کسانوں کو معیاری بیج، کھاد اور زرعی ادویات مناسب قیمت پر فراہم کرنے کے ساتھ جدید آب پاشی کے طریقوں کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے کے لیے ایسے بیج اور زرعی طریقے متعارف کرانے ہوں گے جو کم پانی میں بہتر پیداوار دے سکیں اور شدید گرمی، خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں کا مقابلہ کر سکیں۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی موسم کی پیش گوئی، پانی کے مو¿ثر استعمال اور فصلوں کی نگرانی میں مدد دے سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ بچوں، حاملہ خواتین اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے غذائیت کے پروگرام مضبوط بنانا بھی ضروری ہے تاکہ معاشی مشکلات ان کی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے میں رکاوٹ نہ بنیں۔
پاکستان میں غذائی تحفظ کے حصول کے لیے زراعت، معیشت، صحت اور سماجی بہبود کے شعبوں کو مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانا ہوگا۔ قابلِ اعتماد اعدادوشمار، شفاف پالیسیاں اور ان پر موثر عمل درآمد اس مقصد کے لیے ناگزیر ہیں۔ وقتی امداد کے بجائے ایسے اقدامات ضروری ہیں جو کسان کی آمدنی بہتر بنائیں، خوراک کی قیمتوں کو مناسب سطح پر رکھنے میں مدد دیں اور غریب خاندانوں کی قوت خرید بڑھائیں۔
پاکستان کے پاس زرخیز زمین، محنتی کسان اور زرعی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر منصوبہ بندی اور منصفانہ نظام کے ذریعے بروئے کار لایا جائے۔ کسانوں کو مناسب معاوضہ اور غریب خاندانوں کو معاشی تحفظ فراہم کرکے ہی بھوک اور غذائی قلت پر قابو پانے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ مستقبل کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے آج درست فیصلے کرنا ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں




