پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پانی کا ضیاع ،تحریر: مہوش بنت بشارت

نقطہ نظر

آج صبح جب میں گلی سے گزر رہی تھی تو ایک منظر نے میرے قدم روک دیے۔ کسی عالی شان بنگلے کے سامنے ایک صاحب پائپ ہاتھ میں لیے کھڑے تھے اور نل پوری طاقت سے کھلا تھا۔ صاف، شفاف اور میٹھا پانی سڑک پر کسی بے کار مائع کی طرح بہہ کر نالی میں جا رہا تھا۔ وہ پانی اتنی بے دردی سے ضائع ہو رہا تھا جیسے اس کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔ جیسے یہ کائنات کی سب سے سستی چیز ہو۔ اس چمکتے ہوئے صاف پانی کو نالی کے گندے پانی میں ملتے دیکھ کر میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھی۔ مجھے دور دراز کے وہ قحط زدہ علاقے یاد آ گئے جہاں لوگ بوند بوند کو ترستے ہیں۔ اسی ایک لمحے نے میرے ضمیر کو جھنجھوڑا۔ میرے اندر ایک تڑپ پیدا کی اور قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا تاکہ میں اپنے معاشرے کی اس مجرمانہ خاموشی اور بے حسی پر کچھ لکھ سکوں۔ پانی صرف پیاس بجھانے کا ذریعہ نہیں بلکہ زندگی کا اصل جوہر ہے۔ زمین پر حیات کی پہلی کرن پانی ہی سے پھوٹی تھی۔ اس کائنات کا پہلا سچ بھی یہی مائع تھا۔ جدیدیت کے اس عہد میں ہم نے اس عظیم نعمت کو اس قدر ارزاں سمجھ لیا ہے کہ اب اس کا بہنا ندیوں میں کم اور ہماری لاپرواہی کی نالیوں میں زیادہ دکھائی دیتا ہے۔ پانی کا ہر گرتا ہوا قطرہ دراصل ہماری اپنی عمر کا ایک لمحہ ہے جو ضائع ہو رہا ہے۔ اگر ہم کائنات کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ عظیم تہذیبیں ہمیشہ دریاؤں کے کناروں پر آباد ہوئیں۔ پانی نے انسان کو زندگی دی اور بدلے میں انسان نے اسے صرف بے رحمی سے بہایا۔ سویرا ہوتے ہی کسی عالی شان بنگلے کے لان میں پائپ پکڑے کھڑا ملازم جب گاڑی کو اس بے دردی سے دھوتا ہے جیسے وہ لوہا نہیں بلکہ اس کا کوئی خاندانی وقار ہو تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ سڑک پر بہتا ہوا وہ صاف پانی چیخ چیخ کر کہہ رہا ہوتا ہے کہ یہاں سے چند سو کلومیٹر دور تھر کے تپتے ہوئے صحرا میں کوئی ماں اپنے بچے کے لیے مٹیالے پانی کا ایک گھونٹ پانے کی خاطر میلوں پیدل چلتی ہے۔ وہاں زندگی ایک ایک بوند کی محتاج ہے۔ یہاں ہم اسے راستوں پر بہا کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ یہ منظر صرف پانی کا ضیاع نہیں بلکہ انسانیت کا جنازہ ہے۔ یہ تضاد ہمارے معاشرتی زوال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ایک طرف وہ معصوم بچے ہیں جن کی آنکھیں پانی کے انتظار میں پتھرا جاتی ہیں۔ دوسری طرف ہمارا شہری طبقہ ہے جو صرف شیو کرتے ہوئے یا دانت صاف کرتے ہوئے گیلن کے حساب سے پانی نالیوں کی نذر کر دیتا ہے۔ جب ہم صبح اٹھ کر نل کھولتے ہیں اور اسے مسلسل چلتا چھوڑ دیتے ہیں تو ہم یہ نہیں سوچتے کہ یہ پانی دوبارہ اتنی آسانی سے میسر نہیں آئے گا۔ زمین کے سینے میں چھپا یہ ذخیرہ محدود ہے مگر ہماری خواہشات اور لاپرواہی کی کوئی حد نہیں۔ ہم نے ترقی کا مطلب صرف بڑی عمارتیں اور تیز رفتار گاڑیاں سمجھ لیا ہے۔ ہم یہ بھول گئے کہ اگر جڑیں خشک ہو جائیں تو درخت کبھی ہرے نہیں رہتے۔ پانی اس کائنات کی وہ جڑ ہے جسے ہم اپنے ہی ہاتھوں کاٹ رہے ہیں۔ ڈیموں کا خشک ہونا، زیرِ زمین پانی کی سطح کا تیزی سے گرنا اور دریاؤں کا کیچڑ میں تبدیل ہو جانا کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ہماری اس اجتماعی بے حسی کا نتیجہ ہے جو ہم روز صبح اٹھ کر پانی کی نل کو کھلا چھوڑ کر دکھاتے ہیں۔ اگر آج ہمارے کنویں خشک ہو رہے ہیں تو اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

کبھی ہم نے سوچا ہے کہ پانی کے بغیر ہماری صبح کیسی ہوگی؟ جب کچن کے نل خشک ہوں گے اور اسکول جانے والے بچوں کے حلق پیاس سے کانپ رہے ہوں گے۔ یہ کوئی دور کی بوجھل کہانی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جو بہت جلد ہمارے دروازے پر دستک دینے والی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے شہر اس وقت شدید ترین آبی بحران کا شکار ہو چکے ہیں اور ان کے زیرِ زمین ذخائر مکمل طور پر ختم ہونے کے قریب ہیں۔ ہم بھی اسی راستے پر تیزی سے گامزن ہیں کیونکہ ہماری روش اب تک تبدیل نہیں ہوئی۔ ہماری مساجد کے وضو خانے ہوں یا گھروں کے غسل خانے ہم پانی کا بے دریغ استعمال اپنی عادت بنا چکے ہیں۔ وضو کے لیے چند قطرے پانی کافی ہوتا ہے مگر ہم نل کو پوری طاقت سے کھول کر پوری ندی بہا دیتے ہیں۔ یہ کیسی عبادت ہے جو اسراف کی بنیاد پر کھڑی ہو؟ ہمیں اپنے مذہبی اور اخلاقی اصولوں پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ اسلام نے تو بہتی ندی کے کنارے پر بھی پانی ضائع کرنے سے منع کیا ہے مگر ہم اس واضح ہدایت کو یکسر فراموش کر چکے ہیں۔ مجھے ضرورت محسوس ہوئی کہ اس خاموش بحران کے خلاف ایک جنگ چھیڑی جائے۔ حکومتوں کے قوانین سے زیادہ ہمیں اپنے انفرادی رویوں کو بدلنا چاہیے۔ ہر گھر میں پانی کے استعمال کا ایک سلیقہ ہونا چاہیے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے طریقے اپنائیں اور زیرِ زمین پانی نکالنے پر سخت بندشیں عائد کریں۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ پانی کوئی مفت کی چیز نہیں بلکہ کائنات کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے جس کا ایک ایک قطرہ سونے سے زیادہ مہنگا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم جاگ جائیں۔ اپنی عادتوں کو بدلیں اور پانی کی ہر بوند کو ایک مقدس امانت سمجھ کر استعمال کریں۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جن تہذیبوں نے پانی کی قدر نہیں کی وقت نے ان کا نام تک مٹانے میں دیر نہیں لگائی۔ زمین پر زندگی کی بقا صرف ہمارے نل کے بند کرنے کی دیر ہے۔ آج ہی سے اس کا آغاز کریں اور اس خوبصورت سیارے کو ایک بنجر ریگستان بننے سے بچائیں۔