پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے ہلاکتیں 30 ہو گئیں

پشاور: دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں 29 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر سمیت 30 افراد جاں بحق ہوگئے، جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واقعے کے بعد صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر پارٹی کارکنان نے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا اور زخمیوں کے لیے خون کے عطیات دینے لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچ گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کی اطلاع صبح 8 بج کر 48 منٹ پر موصول ہوئی۔ حادثے کے نتیجے میں متعدد بچے اور اسکول کا عملہ ملبے تلے دب گئے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال انتظامیہ کے مطابق واقعے میں 29 بچے اور ایک خاتون ٹیچر جاں بحق ہوئے، جبکہ زخمی بچوں سمیت 40 سے زائد افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ ملبے تلے دبے مزید بچوں اور اسکول کے عملے کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہا۔
حادثے کے فوری بعد صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر پارٹی کارکنان متحرک ہوگئے اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر ریسکیو اداروں کے ہمراہ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ کارکنان نے ملبہ ہٹانے میں مدد فراہم کی اور موقع پر موجود افراد کے لیے پینے کے پانی کا انتظام بھی کیا۔ بعد ازاں مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان زخمیوں کے لیے خون کے عطیات دینے لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچ گئے۔مرکزی مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے صوبائی صدر محمد اشفاق خان کی قیادت میں پارٹی وفد نے لیڈی ریڈنگ اسپتال کا دورہ کیا اور زخمیوں کی عیادت کی۔ اس موقع پر محمد اشفاق خان نے کہا کہ اسکول کی چھت گرنے کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔
سی سی پی او پشاور میاں سعید کے مطابق واقعے کے سلسلے میں نجی اسکول کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ پولیس تفتیشی افسر کے مطابق اسکول کی عمارت میں ناقص تعمیراتی میٹریل استعمال کیا گیا تھا، جبکہ چھت کی ساخت بھی کمزور تھی۔ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق چھت کی تعمیر میں ٹی آئرن اور چوکے استعمال کیے گئے تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق چھت پر تقریباً 110 سے 115 بچے موجود تھے، تاہم چھت وزن برداشت نہ کرسکی اور گرنے سے بچے ملبے تلے دب گئے۔ حکام نے جائے وقوعہ کو محفوظ بناتے ہوئے لوگوں کی آمدورفت محدود کردی۔
ڈپٹی کمشنر پشاور نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے، جو چھت گرنے کے اسباب کا تعین کرے گی۔ سیکریٹری تعلیم عنایت اللہ وسیم نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایم ڈی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی (پی ایس آر اے) سے اگلے روز تک رپورٹ طلب کرلی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسکول کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے متعلقہ انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی اور زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کی۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے واقعے پر دلی دکھ کا اظہار کیا اور انتظامیہ پر زور دیا کہ زخمی بچوں کو بروقت اور بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔حادثے کے بعد امدادی اداروں کی کارروائیاں جاری رہیں، جبکہ واقعے کی وجوہات اور ممکنہ غفلت کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردی گئیں۔
مزید پڑھیں



