پٹرول پمپ سے بازار تک، مہنگائی کا نیا طوفان،تحریر: اعجاز راہی
نقطہ نظر
پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو سب سے پہلے موٹر سائیکل سوار کی جیب خالی ہوتی ہے، لیکن کہانی وہیں ختم نہیں ہوتی۔ اگلے چند دن میں سبزی والا، دودھ والا، رکشہ ڈرائیور، ٹرانسپورٹر اور دکاندار بھی اپنی قیمتوں کا حساب دوبارہ لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ یوں پٹرول پمپ پر بڑھنے والے چند روپے، بازار میں کئی گنا بڑھ کر واپس آتے ہیں۔ پاکستان میں مہنگائی کی یہ پرانی کہانی ہے، مگر اس بار عالمی حالات نے اس میں ایک نیا باب شامل کر دیا ہے۔
پاکستان میں پٹرول اب صرف گاڑی چلانے کی ضرورت نہیں رہا، یہ عام آدمی کے ماہانہ بجٹ کا ایک مستقل اور بڑا حصہ بن چکا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں چند روپے کا اضافہ بھی ان لوگوں کے لیے معمولی بات نہیں جو روزانہ موٹر سائیکل پر دفتر، دکان، فیکٹری یا کاروبار کے لیے سفر کرتے ہیں۔ ایک طرف آمدنی وہی رہتی ہے اور دوسری طرف سفر کا خرچہ بڑھتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں اضافے کی خبر آتے ہی اس کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا بازار اس کی زد میں آ جاتا ہے۔
15 ستمبر سے پاکستان میں پٹرول کی قیمت 380.24 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ چند روز پہلے یہی قیمت 375.82 روپے تھی۔ بظاہر یہ اضافہ صرف چند روپے کا ہے، لیکن جس شخص کو ہر ماہ کئی لیٹر پٹرول خریدنا پڑتا ہے، اس کے لیے یہ رقم بھی سال کے آخر میں خاصی بڑی بن جاتی ہے۔ اور اگر اسی دوران ٹرانسپورٹ، بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہوں تو متوسط اور کم آمدنی والے گھرانے کے لیے بجٹ بنانا واقعی ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔
اس بار پاکستان میں پٹرول مہنگا ہونے کی ایک بڑی وجہ عالمی مارکیٹ بھی ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر سو ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔ 15 ستمبر کو Brent crude تقریباً 107 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی WTI تقریباً 103 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال، سعودی عرب کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان اور عالمی supply کے خدشات نے تیل کی قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے عالمی تیل کی قیمت میں اضافہ ہمیشہ تشویش کی بات ہوتا ہے کیونکہ ہماری معیشت اب بھی درآمدی تیل پر خاصا انحصار کرتی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ درآمدی لاگت، freight، insurance اور دیگر اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد ڈالر اور روپے کی شرحِ تبادلہ اپنا اثر دکھاتی ہے اور بالآخر بوجھ پاکستانی صارف تک پہنچتا ہے۔
لیکن پٹرول کی قیمت کا پورا حساب صرف عالمی خام تیل سے نہیں بنتا۔ یہاں پٹرولیم لیوی بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات پر لیوی وصول کرتی ہے اور یہ رقم قومی خزانے کے لیے اہم آمدنی کا ذریعہ ہے۔ موجودہ حالات میں پٹرولیم لیوی تقریباً 160 روپے فی لیٹر کی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کے لیے فیصلہ آسان نہیں رہتا۔ اگر لیوی کم کی جائے تو عوام کو فوری ریلیف مل سکتا ہے، لیکن حکومت کے محصولات میں کمی آتی ہے۔ دوسری طرف لیوی برقرار رکھی جائے تو عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہونے کا زیادہ بوجھ صارف پر منتقل ہوتا ہے۔
ایسے وقت میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلان اہم پیش رفت ہے۔ حکومت کے مطابق موٹر سائیکل اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر تک جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 30 لیٹر تک ریلیف دیا جائے گا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اس مقصد کے لیے 75 ارب روپے کی منظوری بھی دی ہے۔
اس فیصلے کا فائدہ یقیناً ان لوگوں کو پہنچے گا جن کے لیے موٹر سائیکل روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ پاکستان میں موٹر سائیکل محض سواری نہیں، لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ رکشہ ڈرائیور کے لیے پٹرول کا ایک لیٹر اس کی روزانہ کی کمائی سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے اس طبقے کو ریلیف دینا معاشی کے ساتھ ساتھ سماجی لحاظ سے بھی اہم ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا 100 روپے فی لیٹر کا ریلیف مہنگائی کا مسئلہ حل کر دے گا؟ ظاہر ہے نہیں۔ یہ ایک فوری سہارا ہے، مکمل حل نہیں۔ پٹرول کی قیمت بڑھنے کے بعد جو اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دوسری ضروریات پر پڑتا ہے، اسے ختم کرنے کے لیے صرف پٹرول پر سبسڈی کافی نہیں۔
پاکستان میں مہنگائی پہلے ہی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جب لوگوں کی آمدنی اسی رفتار سے نہ بڑھے جس رفتار سے اخراجات بڑھ رہے ہوں تو پٹرول کی قیمت میں اضافہ گھر کے بجٹ کو مزید تنگ کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کو صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ پٹرول کی قیمت کتنی بڑھ رہی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس اضافے کا عام آدمی کی زندگی پر مجموعی اثر کتنا ہے۔
عالمی حالات بھی فی الحال کوئی اچھی خبر نہیں دے رہے۔ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا تیل کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو عالمی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کے لیے ہر اضافی ڈالر فی بیرل ایک نیا معاشی چیلنج ہوگا۔
حکومت نے اس وقت ریلیف دے کر ایک اچھا قدم اٹھایا ہے، لیکن اصل ضرورت ایک ایسی مستقل پالیسی کی ہے جس میں پٹرولیم لیوی، درآمدی تیل پر انحصار، پبلک ٹرانسپورٹ، متبادل توانائی اور مجموعی ٹیکس نظام کو ایک ساتھ دیکھا جائے۔ ہر بحران کے وقت وقتی ریلیف دینا ضروری ہے، مگر ہر مرتبہ خزانے سے اربوں روپے نکالنا مستقل حل نہیں۔
عام آدمی کو آج سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صرف سستا پٹرول نہیں، بلکہ قابلِ برداشت زندگی ہے۔ اسے یہ یقین چاہیے کہ اگر عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو بھی جائے تو اس کا پورا بوجھ اس کی جیب پر نہیں ڈالا جائے گا۔
پٹرول کی قیمت 380 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت نے 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا راستہ نکالا ہے، جو مشکل وقت میں ایک قابلِ ذکر قدم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ریلیف واقعی مستحق لوگوں تک کتنی آسانی اور شفافیت سے پہنچتا ہے اور حکومت عالمی تیل کی قیمتوں کے اس نئے بحران سے نمٹنے کے لیے آگے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔
کیونکہ پٹرول مہنگا ہونے کی خبر صرف پٹرول پمپ تک نہیں رہتی، اس کی گونج ہر اس گھر میں سنائی دیتی ہے جہاں مہینے کی آمدنی اور اخراجات کا حساب پہلے ہی مشکل سے برابر ہو رہا ہو۔
پٹرول کی قیمیتوں میں کمی کے لئے ایک فوری حل موجود ہے، جس کے بارے میں اپنے اگلے کالم میں لکھوں گا،لیکن محترم قاریئن میں آُ پکی رائے بھی لینا چاہوں گا کہ آُ کے وہ فوری حل کونسا ہے، اپنی رائے سے باغی ٹی وی کو آگاہ ضرور کیجئے گا، ہمیں انتظار رہے گا۔ شکریہ





