کسانوں، تاجروں اور اپنا گھر اسکیم کے قرضوں میں تاخیر برداشت نہیں، وزیراعظم کی بینکوں کو وارننگ

اسلام آباد؛وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کسانوں، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت قرضوں کی فراہمی میں سست روی اختیار کرنے والے بینکوں کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی ہے کہ ایسے بینکوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولت سے متعلق جائزہ اجلاس پیر کو اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ہاوسنگ، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز)کو قرضوں کی فراہمی، بینکوں کی کارکردگی اور حکومتی اقدامات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، ہاوسنگ اور زراعت کی ترقی کے ذریعے معیشت میں بہتری لانا اور نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، ہاوسنگ اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو حکومتی اقدامات کے تحت قرضوں کی آسان فراہمی میں اچھی کارکردگی دکھانے والے بینک قابل ستائش ہیں، تاہم کسانوں، کاروباری افراد اور وزیراعظم اپنا گھر اسکیم کے صارفین کو قرضوں کی فراہمی میں سست روی اختیار کرنے والے بینکوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک اور وزارت خزانہ کسی قسم کی رعایت نہ برتیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کی ترقی میں بینکوں کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت بینکوں سے ترجیحی شعبوں کے لیے قرضوں کی فراہمی میں اسی نوعیت کے تعاون کی توقع رکھتی ہے جس طرح حکومت اور اس کے ادارے بینکوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار ملکی معیشت کی ترقی، برآمدات کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔وزیراعظم کے مطابق حکومت زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے برآمدات میں اضافے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ وزیراعظم اپنا گھر اسکیم سے ہاوسنگ اور تعمیرات کے شعبوں سے وابستہ متعدد صنعتوں کو بھی فروغ ملے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیر خزانہ کو ہدایت کی کہ وہ ایس ایم ای سیکٹر، زراعت اور ہاوسنگ کے شعبوں سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کو فنانسنگ کے حصول میں درپیش مسائل حل کرنے کے لیے جامع لائحہ عمل مرتب کریں۔
انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو بھی ہدایت کی کہ دونوں ادارے باہمی تعاون سے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں اور برآمد کنندگان کو درپیش ٹیکس کے مسائل حل کریں۔وزیراعظم نے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو قرضوں کی آسان فراہمی یقینی بنانے کے لیے رسک کوریج کی جامع حکمت عملی تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترجیحی شعبوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک 3 بنیادی ستونوں پر کام کر رہا ہے، جن میں ضوابط میں بہتری، حکومت اور بینکوں کے درمیان رسک اور اخراجات میں شراکت داری اور ڈیجیٹل سہولیات کا فروغ شامل ہیں۔حکام نے بتایا کہ اس سلسلے میں حال ہی میں چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے ایس ایم ای کنیکٹ ڈیجیٹل پورٹل متعارف کرایا گیا ہے۔اس پورٹل کے ذریعے کاروباری افراد قرضوں کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرا سکیں گے اور اپنی درخواستوں پر ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ رہ سکیں گے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ہاسنگ، زراعت اور ایس ایم ایز کو ترجیحی بنیادوں پر قرضوں کی فراہمی کے لیے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔بریفنگ کے مطابق 23 اکتوبر 2026 تک وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 511 ارب روپے مالیت کے 86 ہزار 899 قرضوں کی منظوری دی جا چکی ہے، جبکہ 15 ہزار 584 درخواست گزاروں کو 91 ارب روپے کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں۔حکام نے بتایا کہ ہاوسنگ فنانس کے شعبے میں قرضوں کا مجموعی حجم 455 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ اس شعبے میں قرض حاصل کرنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 87 ہزار 317 ہو گئی ہے۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ زرعی شعبے میں قرضوں کا حجم 1329 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ اس سہولت سے مستفید ہونے والے افراد کی تعداد تقریبا 35 لاکھ ہو گئی ہے۔اسی طرح چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے شعبے میں قرضوں کا حجم 1148 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ قرض حاصل کرنے والے کاروباری افراد کی تعداد 3 لاکھ 42 ہزار 458 ہو گئی ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ مالی سال 2027 کے اختتام تک زرعی اور ایس ایم ای شعبوں میں قرضوں کا حجم 1500 ارب روپے تک پہنچانے کے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومت کی جانب سے ہاوسنگ، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لیے رسک شیئرنگ اور کریڈٹ گارنٹی کے اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔حکام کے مطابق قرضوں کے حصول کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے، مطلوبہ دستاویزات کی تعداد کم کرنے اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مالی وسائل تک رسائی بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔ اجلاس میں تینوں ترجیحی شعبوں میں کمرشل بینکوں کی کارکردگی سے متعلق اشاریے بھی پیش کیے گئے، جن کی روشنی میں وزیراعظم نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بینکوں کی تعریف کی۔اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، میاں ریاض حسین پیرزادہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے شرکت کی۔اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی حفیظ الدین اور چوہدری افتخار نذیر سمیت متعلقہ اعلی حکام بھی موجود تھے، جبکہ معروف کمرشل بینکوں کے سربراہان اور نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔





