پی ٹی آئی پارلیمانی اجلاس میں قیادت کے خلاف ارکان پھٹ پڑے، مذاکرات کا مطالبہ، 3 ارکان ناراض ہوکر چلے گئے

پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان لانگ مارچ کی حکمت عملی پر پھٹ پڑے اور پلان اے بی سی کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے جبکہ مذاکرات پر زور دیا اور قومی اسمبلی، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز جبکہ سہیل آفریدی پر بطور وزیراعلیٰ اعتماد کا اظہار کیا۔
اسلام آباد میں ہونے والے پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا.ذرائع کے مطابق خواجہ شیراز، علی محمد خان اور فیصل گنڈاپور اجلاس سے ناراض ہوکر روانہ ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بیرسٹر گوہر کی زیر صدارت ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورت حال، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نفاذ، اراکین کی مبینہ گمشدگی سمیت دیگر معاملات پر گفتگو کی گئی۔ ذرائع کے مطابق لانگ مارچ کی حکمت عملی پر ارکان پھٹ پڑے اور قیادت سے سوال کیا کہ پلان اے، بی، سی اور ڈی کا شور مچایا گیا مگر عملی منصوبہ نظر نہیں آیا۔
ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کی حکمت عملی بنی مگر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، ناکام حکمت عملی کی وجہ سے ایک صوبے میں حکومت چلی گئی، پارٹی کا ردعمل کہاں ہے؟
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی میں آئندہ لائحہ عمل پر ارکان کی رائے طلب کی گئی جبکہ اجلاس میں ارکان نے محمود خان اچکزئی کو مذاکرات کا ٹاسک دینے اور سیاسی رابطوں میں ناکامی پر بھی سوالات کیے۔
اجلاس میں ارکان نے خیبرپختونخوا مین گورنر راج اور ایمرجنسی پر خاموشی چھوڑ کر پارلیمانی پارٹی کو متحرک کرکے مؤثر ردعمل دینے کی تجویز دی جبکہ حکومت سے مذاکرات جاری رکھنے یا احتجاج کا دائرہ بڑھانے پر بھی مشاورت کی گئی۔
ذرائع نے بتایا ہک پارلیمانی پارٹی کے اجلاس مین سہیل آفریدی، محمود خان اچکزئی ور علامہ ناصر عباس پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا جبکہ کور اور سیاسی کمیٹی کے ساتھ پارلیمانی کمیٹی کے فورم کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں میڈیا پر ارکان کی اپنی پارٹی کے خلاف بیانات پر بھی تنقید کی گئی جس پر فوزیہ ارشد نے کہا کہ میڈیا پر اپنوں کے حوالے سے ہمارے اراکان کے بیانات قابل تشویش ہیں، پارٹی چیئرمین بیانات کی تحقیقات کریں۔
اجلاس میں مشعال یوسفزئی نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بانی بیمار ہیں اس کے باوجود سہیل آفریدی کو مذاکرات کے بجائے لانگ مارچ کی پڑی تھی۔ ذرائع کے مطابق اسد قیصر نے سہیل آفریدی سمیت محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کا دفاع کیا اور کہا کہ بانی نے سہیل آفریدی سمیت محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر اعتماد کیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں شفقت اعوان نے کہا کہ اپنے ممبران یا سہیل آفریدی پر الزام نہ لگائیں، دہشتگردی پر گورنر راج کمیٹی ممبر بھی سہیل آفریدی جیسا موقف رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق شفقت اعوان نے کہا کہ ہمارے ممبران ایسے بیانات دے کر پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں، حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی بجائے ہمارے ارکان اپنوں پر الزام لگا رہے ہیں۔
اجلاس میں ذرائع نے کہا کہ ارکان کی اکثریت نے کہا کہ ہمیں ہر صورت مذاکرات کرنے چاہیں، اجلاس میں نور الحق قادری نے تین مرتبہ کہا مزاکرات، مذاکرات، مزاکرات جس پر سب نے تالیاں بجائیں۔




