نوجوانوں کا بدلتا مزاج اور اساتذہ کی ذمہ داری،تحریر: راؤ شہزاد امین
نقطہ نظر
نوجوانی زندگی کا وہ نازک مرحلہ ہے جہاں جذبات شدت اختیار کرتے ہیں، خیالات تیزی سے بدلتے ہیں اور انسان اپنی شناخت، حیثیت اور طاقت منوانے کی کوشش کرتا ہے۔ بالخصوص 12 سے 20 سال کی عمر میں نوجوان جسمانی، ذہنی اور جذباتی تبدیلیوں کے ایک ایسے دور سے گزرتے ہیں جس میں انہیں محبت، توجہ، رہنمائی اور درست سمت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے نوجوان اپنی توانائیاں تعمیری سرگرمیوں کے بجائے ضد، انا، غیر ضروری مقابلے بازی اور ایک دوسرے پر برتری ثابت کرنے میں صرف کر رہے ہیں۔
آج ایک تشویش ناک رجحان یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ بعض نوجوان گانوں، فلمی مناظر اور سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے کرداروں سے اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کے انداز، مکالموں اور رویّوں کو حقیقی زندگی میں اپنانے لگتے ہیں۔ فلموں میں دکھائی جانے والی جارحیت، گانوں میں بیان کی جانے والی دشمنی، بدلے کی خواہش اور نام نہاد بہادری ان کے لیے قابلِ تقلید نمونہ بن جاتی ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ کسی کو للکارنا، دھمکی دینا، لڑائی کرنا یا اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہی بہادری ہے۔ یوں تفریح کے لیے دیکھی اور سنی جانے والی چیزیں بعض اوقات ان کے طرزِ فکر اور طرزِ عمل پر اثر انداز ہونے لگتی ہیں۔
گلی، محلے اور تعلیمی اداروں میں معمولی باتوں پر تلخ کلامی، ایک دوسرے کو دھمکیاں دینا، دوستوں کے سامنے اپنی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرنا اور پھر معاملے کو انا کا مسئلہ بنا لینا اسی رویّے کی چند صورتیں ہیں۔ کبھی ایک جملہ، کبھی سوشل میڈیا پر کی گئی کوئی پوسٹ، کبھی کسی دوست کی بات اور کبھی محض دوسرے کو کمتر ثابت کرنے کی خواہش تنازعے کو جنم دے دیتی ہے۔ مسئلہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب نوجوان اپنے جذبات پر قابو کھو بیٹھتے ہیں اور غصے، خوف یا گھبراہٹ میں ایسا قدم اٹھا لیتے ہیں جس کے نتائج ان کی اپنی زندگی اور والدین سمیت پورے خاندان کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن جاتے ہیں۔
یہاں چند بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں: کیا ہمارے نوجوانوں کو صرف تعلیم کی ضرورت ہے یا تربیت کی بھی؟ کیا ہم انہیں صرف امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے کے قابل بنا رہے ہیں یا زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے کا سلیقہ بھی سکھا رہے ہیں؟ کیا ہم نے انہیں یہ سمجھایا ہے کہ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، ہر چیلنج قبول کرنا ضروری نہیں ہوتا اور ہر بات کا جواب دینا بہادری نہیں کہلاتا؟
حقیقت یہ ہے کہ نوجوانوں کو جذباتی طور پر مضبوط بنانا بھی تعلیم ہی کا حصہ ہے۔ انہیں سکھانا ضروری ہے کہ غصے کے وقت خود کو سنبھالنا، اشتعال انگیزی کے باوجود ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنا، اپنی غلطی تسلیم کرنا اور ضرورت پڑنے پر کسی بڑے سے مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ پختہ کردار کی علامت ہے۔ جو نوجوان اپنے غصے پر قابو رکھ سکتا ہے، وہ اس نوجوان سے زیادہ مضبوط ہے جو ہر بات پر لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔
اس پورے معاملے میں اساتذہ کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ استاد محض نصابی کتاب پڑھانے اور امتحان کی تیاری کروانے والا فرد نہیں، بلکہ وہ شخصیت ساز بھی ہے۔ اس کے رویّے، گفتگو، فیصلوں اور طلبہ کے ساتھ برتاؤ کے اثرات ان کی شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔ اگر استاد خود برداشت، انصاف، تحمل اور شائستگی کا مظاہرہ کرے تو وہ اپنے طلبہ کے لیے ایک عملی مثال بن سکتا ہے۔
اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے رویّوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کریں اور ان بچوں کو پہچاننے کی کوشش کریں جو معمولی باتوں پر مشتعل ہو جاتے ہیں، بار بار دوسروں کو دھمکاتے ہیں، خود کو دوسروں سے برتر سمجھتے ہیں یا ہر اختلاف کو اپنی توہین تصور کرتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو سب کے سامنے شرمندہ کرنے، طنز کا نشانہ بنانے یا سخت الفاظ میں تنقید کرنے کے بجائے ان سے انفرادی گفتگو کی جائے۔ ان کے رویّے کے پس منظر کو سمجھا جائے اور انہیں مثبت انداز میں اپنی اصلاح کا موقع دیا جائے۔
اسی طرح تعلیمی اداروں میں کردار سازی، جذباتی نظم و ضبط، تنازعات کے پُرامن حل اور باہمی احترام پر باقاعدہ گفتگو ہونی چاہیے۔ طلبہ کو بتایا جائے کہ دھمکی دینا، تشدد کرنا اور دوسروں کو خوف زدہ کرنا بہادری نہیں۔ حقیقی بہادری یہ ہے کہ انسان اپنے جذبات پر قابو رکھے، کمزور کا تحفظ کرے، اپنی غلطی پر معذرت کرے اور اختلاف کے باوجود دوسرے کی عزت کا خیال رکھے۔ انہیں یہ شعور بھی دیا جائے کہ وقتی غصے میں کیا گیا ایک فیصلہ مستقبل کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔
اساتذہ کو یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر لڑائی محض بچوں کی شرارت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات مسلسل دھمکیاں، تضحیک، غنڈہ گردی، تنہائی، احساسِ کمتری یا کسی گروہ کا دباؤ نوجوان کو شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا کر سکتا ہے۔ اس لیے ایسے واقعات کو نظرانداز کرنے کے بجائے سنجیدگی سے لیا جائے۔ متعلقہ طلبہ سے الگ الگ بات کی جائے، حقائق معلوم کیے جائیں، ضرورت کے مطابق والدین کو اعتماد میں لیا جائے اور مسئلے کے حل کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ اگر کسی بچے میں شدید گھبراہٹ، مسلسل غصہ، غیر معمولی رویّے یا خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچانے کے واضح اشارے نظر آئیں تو مستند ماہرِ نفسیات یا متعلقہ ماہر سے مدد لینے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
والدین کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں کم نہیں۔ بچوں کو صرف اچھے نمبر لینے اور دوسروں سے آگے نکلنے کی ترغیب دینا کافی نہیں۔ انہیں یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ عزت کردار سے پیدا ہوتی ہے، طاقت کا مطلب دوسروں کو دبانا نہیں اور وقتی اشتعال میں اٹھایا گیا قدم پوری زندگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ والدین کو بچوں کی سرگرمیوں، دوستوں، آن لائن مصروفیات اور ذہنی کیفیت پر توجہ دینی چاہیے، لیکن اس انداز میں کہ بچے خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ اپنی بات بیان کر سکیں۔ گھر کا ایسا ماحول جہاں بچے کو سنا جائے، اس کی الجھنوں کو سمجھا جائے اور غلطی پر اصلاح کا موقع دیا جائے، نوجوان کو بہت سے غلط فیصلوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر نوجوان کے رویّے کا ذمہ دار صرف موسیقی، سوشل میڈیا یا دوستوں کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نوجوان تفریح، ماحول اور دوستوں کے اثرات کو سمجھنے، پرکھنے اور ان کے بارے میں درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم رہتے ہیں۔ اسی لیے محض پابندیاں لگانے کے بجائے ان میں تنقیدی سوچ، خود احتسابی اور صحیح و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے۔
تعلیمی اداروں کو کھیلوں، مباحثوں، تقریری مقابلوں، ادبی سرگرمیوں اور مثبت اجتماعی منصوبوں کے ذریعے نوجوانوں کی توانائیوں کو تعمیری سمت دینی چاہیے۔ انہیں ایسی سرگرمیوں میں شامل کیا جائے جہاں وہ اپنی صلاحیتیں منوا سکیں، ذمہ داری قبول کرنا سیکھیں اور یہ سمجھ سکیں کہ حقیقی مقام دوسروں کو نیچا دکھانے سے نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اساتذہ کو طلبہ کے درمیان صحت مند مقابلے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ ایسے ماحول کی جہاں کامیابی کا مطلب دوسرے کو شکست دینا اور اختلاف کا مطلب دشمنی سمجھا جائے۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آج کا نوجوان کل کا شہری، والد، استاد، افسر اور معاشرے کا رہنما ہے۔ اگر ہم نے اس کی تربیت کو نظرانداز کیا تو محض ڈگریاں اور اچھے نتائج اسے ذمہ دار انسان نہیں بنا سکیں گے۔ ہمیں ایسے نوجوان تیار کرنے ہیں جو جذباتی طور پر متوازن، اخلاقی طور پر مضبوط، اختلاف میں مہذب اور مشکل حالات میں دانش مندانہ فیصلے کرنے کے اہل ہوں۔
یاد رکھیے! نوجوانوں کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ انہیں کیا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ مشکل صورتِ حال میں درست قدم کیسے اٹھانا ہے، اشتعال انگیزی کا سامنا کیسے کرنا ہے اور اپنی عزت و وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اختلافات کیسے حل کرنے ہیں۔
کیونکہ تعلیم ذہن کو روشن کرتی ہے، مگر تربیت انسان کو اپنے علم، جذبات اور طاقت کا درست استعمال سکھاتی ہے۔ جس معاشرے کے اساتذہ کردار سازی کو اپنا مشن بنا لیتے ہیں، وہاں نوجوان محض کامیاب نہیں ہوتے بلکہ ذمہ دار، باشعور اور باکردار انسان بھی بنتے ہیں۔
مزید پڑھیں



