منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ملک ٹھیک ہے، بیمار تو معاشرہ ہے،تحریر: ارم نواز

نقطہ نظر

ہم اکثر شکوہ کناں رہتے ہیں کہ ہمارا ملک ٹھیک نہیں ہے۔ مہنگائی کا بے لگام طوفان ہے، ناانصافی کی گھنیری دُھند ہے، اور قانون صرف طاقتور کے اشاروں پر ناچنے والی کٹھ پتلی بن چکا ہے۔ ہم روز و شب حکمرانوں کو کوستے ہیں، نظام کو لتاڑتے ہیں اور قانون کی بے بسی پر ماتم کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی ٹھنڈے دل اور گہرے غور کے ساتھ یہ سوچنے کی زحمت کی ہے کہ آخر یہ "ملک" ہے کیا چیز؟

ملک تو محض زمین کا ایک ٹکڑا ہے، ایک جغرافیائی نقشہ ہے، مٹی اور پتھر کا ایک بے جان وجود ہے۔ مٹی کا یہ ٹکڑا کبھی خود سے نہیں بگڑتا، اس کی آب و ہوا میں کوئی کھوٹ نہیں ہوتی؛ بگڑتا تو اس مٹی پر بسنے والا وہ معاشرہ ہے جس کی تعمیر، پرداخت اور اخلاقیات کی آبیاری ہم خود اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں۔ ملک کی خرابی کا رونا رونے سے پہلے ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہم نے اس معاشرے کو کس زوال سے دوچار کر دیا ہے۔

آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ اور سنگین ترین جرم یہ ہے کہ ہم نے اخلاقی زوال کی انتہا کرتے ہوئے جرم کو جرم سمجھنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ اب معاشرے میں برائی پر ندامت کا احساس ختم ہو چکا ہے اور گناہ محض ایک معمول کی بات بن گیا ہے۔

آپ اپنے نظامِ عدل کی حالتِ زار دیکھ لیں۔ جب کوئی غریب، مفلس اور بے بس شخص انصاف کی آخری امید لیے کسی تھانے کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے، تو اس کی مظلومیت کا مداوا کرنے یا اس کا دکھ سُننے کے بجائے اس سے سب سے پہلا سوال یہ پوچھا جاتا ہے: "تمہاری پشت پر کون ہے؟ تمہارا تعلق کس بااثر اور طاقتور سے ہے؟" اگر اس کے پاس کسی بڑے نام یا سفارش کا سہارا نہیں ہے، تو قانون کی کتاب میں اس کی فریاد کی فائل کبھی کھلتی ہی نہیں، اور اس کی سسکیاں تھانے کی چار دیواری میں ہی دم توڑ جاتی ہیں۔

ہمارے نظامِ انصاف کا یہ دوہرا معیار اب اس حد تک عیاں ہو چکا ہے کہ دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اگر کسی امیرزادے کی غفلت یا نشے میں دھت حالت میں دوڑائی گئی تیز رفتار گاڑی سڑک پر کسی غریب کو کچل دے، تو ہمارے ضمیر فروش نظام کو فوراً اس کا "دماغی توازن خراب" یا اسے ایک "ححادثہ" قرار دینے میں دیر نہیں لگتی۔ اس کے برعکس، ایک یتیم اور بھوک سے بلکتا بچہ اگر پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے محض ایک روٹی چرا لے، تو وہ قانون کی نظر میں ناقابلِ معافی مجرم اور "عادی مجرم" قرار پاتا ہے۔ انصاف کا یہی دوہرا نظام دیمک کی طرح ہمارے ملک کی جڑوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔

ہم ڈیجیٹل دور کے وہ باسی بن چکے ہیں جہاں ہمارا درد بھی فیس بک کے "لائکس" اور ٹویٹر کے "ہیش ٹیگز" تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ کسی سانحہ یا ظلم پر دو دن ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے ہیں، ٹی وی سکرینز پر مگرمچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں، اور تیسرے دن سب کچھ بھلا کر ہم اپنی رنگین دنیا میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سفاک قاتل چند دنوں کی تاخیر اور قانونی چالوں کے بعد ضمانت پر آزاد گھومتا ہے، جبکہ مقتول کی بوڑھی ماں انصاف کی آس میں کچہریوں کی تاریک راہداریوں میں دھکے کھاتے کھاتے اس دنیا سے ہی کوچ کر جاتی ہے۔

ہمارا اجتماعی ضمیر اب اس پستی پر پہنچ چکا ہے کہ اب کوئی ہولناک خبر سن کر ہمارا دل دکھی نہیں ہوتا، بلکہ ہماری اجتماعی ذہنیت اس خبر میں سے "مصالحہ" اور سنسنی تلاش کرتی ہے۔ اگر خدانخواستہ معاشرے کی کسی بیٹی کے ساتھ درندگی یا زیادتی کا واقعہ پیش آ جائے، تو ہمارا پہلا سوال یہ نہیں ہوتا کہ سفاک مجرم کون ہے؟ بلکہ معاشرے کی زہریلی سوچ فوراً یہ سوال اٹھاتی ہے: "وہ لڑکی اتنی رات گئے گھر سے باہر کیوں نکلی تھی؟" ہم مظلوم کے بجائے اس کے کردار کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اپنے اندر کے درندے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

وطنِ عزیز نے ہمیں ایک باوقار شناخت دی، سر پر سبز ہلالی پرچم کا سایہ بخشا، اور جینے کے لیے ایک آزاد دھرتی عطا کی۔ مگر اس نعمت کے بدلے میں ہم نے اس ملک کو کیا دیا؟ ہم نے کرپشن اور رشوت کو "سفارش" کا مہذب نام دے دیا، جھوٹ اور مکارانہ سیاست کو "مصلحت" بنا لیا، اور اپنی مجرمانہ بے حسی کو "مجبوری" کا لبادہڑنا کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیا۔

یہ ملک محض تاحیات بیانات اور نعروں سے ٹھیک نہیں ہوگا؛ یہ ملک اس دن ٹھیک ہوگا جس دن ہم اصلاح کی ابتدا کسی اور سے نہیں، بلکہ اپنے گھر کی چوکٹھ سے کریں گے۔

تبدیلی اس دن آئے گی جب ہم اپنی بیٹی کو وراثت میں اس کا شرعی، اخلاقی اور قانونی حق خوشی سے دیں گے۔

انقلاب اس دن برپا ہوگا جب ہم اپنے گھر میں کام کرنے والے ملازم اور مزدور کو کسی کمتر مخلوق کے بجائے اپنے برابر ایک انسان سمجھیں گے۔

سچائی اس دن جنم لے گی جب تھانے میں بیٹھا ہر کارندہ امیر کے ساتھ ساتھ غریب کی بات بھی اتنی ہی توجہ، عزت اور دیانت سے سنے گا۔

یاد رکھیے! ملک صرف حکومتوں کے بدلنے، نئے نعرے دینے یا چہروں کی تبدیلی سے نہیں بدلا کرتے؛ ملک تو معاشروں کی فکری اور اخلاقی بیداری سے بنتے ہیں۔ اور یہ معاشرہ کسی آسمان یا دوسرے سیارے سے اتر کر نہیں آیا، یہ آپ سے اور مجھ سے، ہمارے رویوں اور ہمارے عمل سے مل کر بنتا ہے۔ جب تک ہم خود نہیں بدلیں گے، یہ دھرتی کبھی نہیں بدلے گی!