جھوٹ بولے، کوا کاٹے، تحریر: مبراء عبدالقیوم
نقطہ نظرایک کوا، ہزار جھوٹ اور ہمارا معاشرہ

بچپن بھی کیا خوب صورت زمانہ تھا! جھوٹ بولنے کے لیے کسی عدالت، پولیس یا تفتیشی ادارے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ بس امی کی ایک گھوری کافی ہوتی تھی۔ اور اوپر سے یہ دھمکی کہ "جھوٹ بولو گے تو کوا کاٹ لے گا!" پھر کیا مجال کہ زبان سے کوئی جھوٹ نکل جائے۔ اگر نکل بھی جاتا تو نظریں فوراً آسمان پر اٹھتیں کہ کہیں کوئی کوا ہماری نگرانی تو نہیں کر رہا؟
ہم بھی بڑے معصوم تھے۔ کوّے کو گویا سچائی کا سرکاری محافظ سمجھتے تھے۔ ہمارے نزدیک اس کی چونچ میں کوئی ایسی خفیہ طاقت تھی جو جھوٹ بولنے والے کی پیشانی پر مہر لگا دیتی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ہمیں جھوٹ بولنے سے زیادہ کوا کے کاٹنے کا ڈر تھا۔ سچائی کی محبت دل میں کتنی تھی، یہ الگ تحقیق طلب معاملہ ہے!
وقت گزرا، ہم بڑے ہوگئے، تعلیم حاصل کی، دنیا دیکھی اور معاشرے کے رنگ پہچانے تو معلوم ہوا کہ کوّے نے تو اپنی ڈیوٹی ہی چھوڑ دی ہے۔ اب لوگ دن دہاڑے جھوٹ بولتے ہیں، قسمیں کھاتے ہیں، وعدے کرتے ہیں، پھر مکر جاتے ہیں مگر مجال ہے، جو کوئی کوا ان کے آس پاس بھی پھٹکے! شاید کوّوں نے بھی موجودہ حالات دیکھ کر اپنی جان بچانے میں عافیت سمجھی ہے۔
اب ذرا ہمارے معاشرے کی سیر کیجیے۔ ایک صاحب سے پوچھیں، "جناب! آپ کہاں تھے؟" جواب ملے گا، "بس راستے میں ہوں۔" حالانکہ وہ ابھی گھر میں چائے کی آخری چسکی لے رہے ہوتے ہیں۔ کسی سے کہیں کہ آپ نے ہمارا کام کیوں نہیں کیا؟ فوراً جواب آئے گا، "بس ہونے ہی والا تھا!" یہ ہونے ہی والا کام، بعض اوقات مہینوں تک ہونے کے انتظار میں رہتا ہے مگر ہوتا نہیں ہے۔ موبائل فون نے تو جھوٹ بولنے والوں کو مزید سہولت فراہم کر دی ہے۔ فون کی گھنٹی بجی، صاحب نے اسکرین دیکھی اور فوراً بول اٹھے، "یار! اسے کہنا میں گھر پر نہیں ہوں۔" اب گھر میں بیٹھ کر گھر پر نہ ہونے کا اعلان جس اعتماد سے کیا جاتا ہے، اگر اتنے اعتماد سے سچ بولا جائے تو شاید آدھے مسائل خودبخود حل ہو جائیں۔
سوشل میڈیا پر بھی سچائی کی خوب خدمت ہو رہی ہے۔ کسی کی تصویر کے نیچے لکھا ہوتا ہے، "آپ جیسا مخلص انسان دنیا میں نہیں دیکھا!" تصویر والا بھی جانتا ہے کہ لکھنے والا کل تک اسی کے خلاف محفلوں میں قصیدے نہیں، شکایت نامے پڑھ رہا تھا۔ لیکن آن لائن محبت کا کاروبار جاری ہے۔ دل کے ایموجی بھی چل رہے ہیں، تعریفوں کے پل بھی تعمیر ہو رہے ہیں اور حقیقت کہیں کونے میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ جھوٹ بولنے والا خود کو جھوٹا نہیں سمجھتا۔ وہ اسے مصلحت، حکمت عملی، حالات کی مجبوری اور کبھی کبھی تو سفارتی مہارت کا نام دے دیتا ہے۔ گویا جھوٹ نہیں بولا، بین الاقوامی مذاکرات کیے ہیں! اگر کوئی اس کی حقیقت سامنے لے آئے تو فرمان جاری ہوتا ہے، "آپ کو میری بات کا غلط مطلب سمجھ آیا ہے۔" اب بھلا کوئی پوچھے کہ حضور! مطلب غلط سمجھ آیا ہے یا بات ہی غلط تھی؟
رشتوں میں جھوٹ کی آمیزش ہو تو اعتماد کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ کاروبار میں جھوٹ شامل ہو تو لین دین مشکوک ہو جاتا ہے۔ دوستی میں جھوٹ آجائے تو خلوص دم توڑنے لگتا ہے۔ اور جب معاشرے میں جھوٹ کو معمول سمجھ لیا جائے تو سچ بولنے والا بھی عجیب نظروں سے دیکھا جانے لگتا ہے۔ لوگ اس کی سچائی پر خوش ہونے کے بجائے پوچھتے ہیں، "بھئی! اتنا سچ بولنے کی کیا ضرورت تھی؟"
یہاں آکر مجھے بچپن کا وہ کوا بہت یاد آتا ہے۔ سوچتی ہوں، اگر وہ آج واپس آجائے تو کیا کرے گا؟ کس کس کو کاٹے گا؟ سیاست دانوں کو، دکانداروں کو، وعدے کرکے بھول جانے والوں کو، یا ان لوگوں کو جو ہر غلط کام کے بعد کہتے ہیں، "میرا مقصد یہ نہیں تھا!" شاید اسے ایک پوری ٹیم درکار ہوگی، اور ممکن ہے کہ ڈیوٹی کے پہلے ہی دن وہ استعفیٰ دے کر کسی خاموش درخت پر جا بیٹھے۔
لیکن ٹھہریے!
ساری ذمہ داری کوّے پر ڈال دینا بھی کہاں کا انصاف ہے؟ آخر سچ بولنا اور جھوٹ سے بچنا ہماری اپنی ذمہ داری ہے۔ اسلام بھی ہمیں سچائی کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ۔" (سورۃ التوبہ: 119)
رسول اللہ ﷺ نے بھی سچائی اختیار کرنے کی ترغیب دی اور جھوٹ سے بچنے کی تعلیم فرمائی۔ اس لیے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ سچائی محض اچھی عادت نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ جھوٹ وقتی طور پر؛ کسی مشکل سے بچا سکتا ہے مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بداعتمادی، انسان کو طویل عرصے تک نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ہم بچوں کو آج بھی کہتے ہیں، "جھوٹ بولو گے تو کوا کاٹے گا!" مگر شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم انہیں یہ بھی بتائیں کہ جھوٹ بولنے سے کسی کا اعتماد ٹوٹ سکتا ہے، کسی کا دل دکھ سکتا ہے اور کسی بے گناہ پر الزام لگ سکتا ہے۔ انہیں ڈرانے کے بجائے سچ بولنے کی اہمیت سمجھائیں اور سب سے پہلے خود اپنے کردار سے مثال قائم کریں۔
کیونکہ بچے ہماری نصیحتوں سے زیادہ ہمارے رویوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر ہم ان کے سامنے جھوٹ بول کر انہیں سچائی کا درس دیں گے، تو ہماری باتیں ان کے لیے محض الفاظ بن کر رہ جائیں گی۔
آخر میں ایک چھوٹا سا سوال ہے: اگر آج واقعی کوّے جھوٹ بولنے والوں کو کاٹنے لگیں تو کیا ہمارے معاشرے میں کوّوں کی تعداد پوری پڑ جائے گی؟
شاید نہیں! لیکن اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ہر انسان اپنے ضمیر کی آواز سننے لگے تو کیا ہمیں کسی کوّے کی ضرورت باقی رہے گی؟
یاد رکھیے! کوّا کاٹے یا نہ کاٹے، جھوٹ اعتماد کو ضرور کاٹتا ہے، اور اعتماد ایک بار زخمی ہو جائے تو اسے دوبارہ زندہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں





