منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

‎پاکستان پر قرضے،حقیقت،حکومتی اقدامات،عوامی مشکلات، تحریر: پروفیسر عامر زریں

نقطہ نظر

‎پاکستان کے قرضوں کا مسئلہ محض اربوں ڈالر کی ادائیگی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق ملکی معیشت، حکومتی اخراجات، ٹیکس نظام، بجلی و گیس کی قیمتوں، مہنگائی، روزگار اور عام شہری کے معیارِ زندگی سے بھی ہے۔

‎

‎اس موضوع کو سمجھنے کے لیے تین سوالات اہم ہیں: پاکستان نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے قرض کیوں لیا؟ حکومت ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیا کر رہی ہے؟ اور اس پورے عمل کی قیمت عوام کس طرح ادا کر رہے ہیں؟

‎

‎سب سے پہلے ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: پاکستان کے تمام بیرونی قرضے، حکومت کے بیرونی قرضے، اور صرف آئی ایم ایف یا عالمی بینک کے واجب الادا قرضے تین الگ اعداد و شمار ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔

‎

‎پاکستان کا مجموعی سرکاری قرضہ:80.6 ٹریلین روپے

‎جون 2025 کے اختتام پر، وزارتِ خزانہ کی سالانہ قرضہ رپورٹ کے مطابق:

‎ملکی قرضہ:54.5 ٹریلین روپے..........تقریباً 67.5 فیصد

‎بیرونی سرکاری قرضہ:26.0 ٹریلین روپے.....تقریباً 32.5 فیصد

‎اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے قرضوں کا بڑا حصہ بیرونی نہیں بلکہ ملکی ذرائع سے لیا گیا ہے، مثلاً بینکوں اور دوسرے سرمایہ کاروں سے حکومتی قرض گیری۔ اس قرض پر سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔

‎

‎وزارتِ خزانہ نے فروری 2026 میں وضاحت کی کہ پاکستان کی مجموعی بیرونی قرضوں اور واجبات کی رقم تقریباً 138 ارب ڈالر تھی، جب کہ اس میں سے حکومت کا بیرونی قرضہ تقریباً 92 ارب ڈالر تھا۔ ان دونوں اعداد میں فرق اس لیے ہے کہ مجموعی رقم میں دوسرے سرکاری اداروں، نجی شعبے اور دیگر بیرونی واجبات کی رقوم بھی شامل ہیں۔

‎** آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے قرضوں میں فرق

‎

‎***آئی ایم ایف (IMF)

‎

‎اس ادارے کا بنیادی مقصد رکن ممالک کو ادائیگیوں کے توازن، زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام کے مسائل سے نمٹنے میں مدد دینا ہے۔ پاکستان کو اس سے ملنے والی مالی معاونت کے ساتھ عموماً بجٹ، ٹیکس، توانائی اور مالیاتی پالیسی سے متعلق شرائط بھی وابستہ ہوتی ہیں۔

‎

‎***عالمی بینک (World Bank)

‎

‎اس کا اہم مقصد ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت، زراعت، بنیادی ڈھانچے، پانی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں معاونت کرنا ہے۔ اس کی مالی معاونت میں قرض، رعایتی شرائط پر کریڈٹ اور بعض صورتوں میں گرانٹ شامل ہو سکتی ہے۔

‎

‎عالمی بینک کے International Debt Statistics کے مطابق پاکستان کا مجموعی بیرونی قرضہ 2024 میں تقریباً 129.7 ارب ڈالر تھا۔ اس میں حکومت کے قرضے، دوسرے قرض دہندگان کی رقوم اور نجی شعبے کے بعض بیرونی قرضے بھی شامل ہیں۔ یہ صرف عالمی بینک کا قرضہ نہیں ہے۔ اسی ڈیٹا کے مطابق سرکاری اور حکومت کی ضمانت یافتہ بیرونی قرضوں کی رقم تقریباً 89.6 ارب ڈالر تھی۔

‎

‎اسی طرح، پاکستان کے آئی ایم ایف سے قرضے کو بھی تمام بیرونی قرضوں کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ دونوں اداروں کی مالی معاونت، قرضوں کی شرائط اور ادائیگیوں کا طریقۂ کار مختلف ہے۔

‎

‎ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا موجودہ پروگرام کا تازہ دستیاب اعلان: 7 اکتوبر 2026ء


‎آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ اپنے جاری پروگرام کے چوتھے جائزے اور موسمیاتی و پائیداری سے متعلق پروگرام کے تیسرے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ کیا۔ اس وقت یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط تھا۔ منظوری کے بعد تقریباً ایک ارب ڈالر عام پروگرام کے تحت اور 210 ملین ڈالر پائیداری کے پروگرام کے تحت دستیاب ہونے تھے۔

‎

‎اس خبر کو سمجھنے کے لیے دو باتیں اہم ہیں:

‎

· ‎**یہ پوری رقم پاکستان کے پرانے قرضے کی واپسی نہیں، بلکہ پروگرام کے تحت نئی مالی معاونت کی دستیابی ہے۔

‎

· ‎**نئی قسط ملنے سے فوری زرمبادلہ کا دباؤ کم ہو سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ قرض اور مستقبل کی ادائیگیوں کی ذمہ داری بھی برقرار رہتی ہے۔

‎

‎اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ آئی ایم ایف کی ہر نئی قسط سے پاکستان کا قرض خودبخود کم ہو جاتا ہے۔ اصل فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ نئی رقم کس مقصد کے لیے استعمال ہوئی، کتنی رقم پرانے قرضوں کی ادائیگی میں گئی اور معیشت اس دوران کتنی آمدنی پیدا کر سکی۔

‎

‎ حکومت قرضوں کی واپسی کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔حکومت کی حکمتِ عملی کو صرف قرض ادا کرنے تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس میں نئے قرضوں کا حصول، پرانے قرضوں کی تجدید، ٹیکس آمدنی میں اضافہ، اخراجات پر قابو اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری بھی شامل ہیں۔

‎یہ

‎

‎حکومتی اقدامات کی اہم جہتیں:

‎1۔ ٹیکس آمدنی میں اضافہ:

‎حکومت ایف بی آر کے ذریعے ٹیکس نیٹ بڑھانے، ڈیجیٹل انوائسنگ، ٹیکس آڈٹ اور ٹیکس چوری کی روک تھام پر کام کر رہی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ حکومتی آمدنی بڑھے اور خسارہ پورا کرنے کے لیے مزید قرض نہ لینا پڑے۔ تاہم، ٹیکس کا بوجھ کن طبقات پر پڑتا ہے، یہ بھی اتنا ہی اہم سوال ہے۔

‎

‎2۔ بجلی اور گیس کے شعبے میں اصلاحات:

‎بجلی و گیس کی قیمتوں کو لاگت کے مطابق کرنے، لائن لاسز کم کرنے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور گردشی قرضے کو قابو میں رکھنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

‎

‎3۔ بجٹ خسارے اور سرکاری اخراجات پر قابو

‎

‎حکومت مالیاتی نظم و ضبط، غیر ضروری اخراجات میں کمی، سرکاری اداروں کی اصلاحات اور بعض اداروں کی نجکاری کے ذریعے مالی دباؤ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مگر قرضوں کے سود کی ادائیگی بجٹ کا بڑا حصہ استعمال کرتی ہے۔

‎

‎قرضوں کی مدت بڑھانا اور مہنگی قرض گیری کم کرنا:

‎

‎وزارتِ خزانہ کی قرضہ پالیسی کے مطابق حکومت طویل مدت والے قرضوں اور نسبتاً رعایتی شرائط پر دستیاب بیرونی مالی معاونت کو ترجیح دینے، اور ملکی قرضوں کی اوسط مدت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے فوری ادائیگی کا دباؤ کم ہو سکتا ہے، لیکن قرض کی اصل رقم ختم نہیں ہوتی۔

‎

‎ برآمدات، ترسیلاتِ زر اور زرمبادلہ کے ذخائر:

‎

‎برآمدات بڑھانا، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کو رسمی مالی ذرائع سے لانا، غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنا بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت بہتر بنانے کے بنیادی ذرائع ہیں۔

‎

‎کیا ان اقدامات سے قرض واقعی کم ہو رہا ہے؟

‎

‎اس سوال کا جواب صرف نئی قسط ملنے یا زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے سے نہیں دیا جا سکتا۔

‎قرض کی پائیداری جانچنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ حکومت ایک سال میں کتنا نیا قرض لیتی ہے، کتنا اصل قرض واپس کرتی ہے، کتنا سود ادا کرتی ہے اور ملکی معیشت کی آمدنی کس رفتار سے بڑھتی ہے۔

‎

‎قرضوں کا اثر عوام پر صرف ایک ذریعے سے نہیں پڑتا۔ حکومتی مالی ضروریات، ٹیکسوں، توانائی کی قیمتوں، شرحِ سود اور روپے کی قدر میں تبدیلی کے ذریعے اس کے اثرات روزمرہ زندگی تک پہنچتے ہیں۔

‎

‎جب بجلی، گیس، ایندھن یا اشیائے ضرورت مہنگی ہوتی ہیں تو محدود آمدنی والے خاندانوں کے لیے خوراک، علاج، تعلیم اور رہائش کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ قرضوں کے پروگرام میں کیے گئے بعض مالیاتی اقدامات اس دباؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں، اگرچہ ہر قیمت میں اضافے کی وجہ صرف قرض نہیں ہوتی۔

‎

‎توانائی کے شعبے کے خسارے اور گردشی قرضے کو کم کرنے کے لیے قیمتوں میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔ اس کا اثر گھریلو صارفین کے ساتھ دکانداروں، چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ کاروباری لاگت بڑھنے سے اشیا کی قیمتیں بڑھنے کا امکان رہتا ہے۔

‎

‎جب حکومت کو قرضوں کی ادائیگی اور دوسرے اخراجات کے لیے زیادہ آمدنی درکار ہوتی ہے تو بالواسطہ ٹیکس، محصولات اور مختلف لیویز صارفین پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بالواسطہ ٹیکس کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ کم آمدنی والا شخص بھی روزمرہ اشیا خریدتے ہوئے اسے ادا کرتا ہے۔

‎

‎سود اور قرضوں کی واپسی پر زیادہ رقم خرچ ہونے سے حکومت کے پاس اسکولوں، اسپتالوں، پینے کے پانی، سڑکوں اور دوسرے ترقیاتی کاموں کے لیے مالی گنجائش محدود ہو سکتی ہے۔ یہ اثر ہر سال یکساں نہیں ہوتا، مگر قرضوں کے بھاری اخراجات بجٹ پر حقیقی دباؤ ڈالتے ہیں۔

‎

‎مہنگی بجلی، پیداواری لاگت، زیادہ شرحِ سود اور کمزور طلب کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کاروبار کی توسیع، نئی بھرتیوں اور بعض صنعتوں کی مسابقت پر دباؤ آ سکتا ہے۔

‎

‎یہاں ایک اہم نکتہ بھی ہے: ہر معاشی مشکل کو صرف آئی ایم ایف کے قرضے سے منسوب کرنا درست نہیں۔ کمزور پیداواری صلاحیت، درآمدات پر انحصار، محدود ٹیکس بنیاد، حکومتی مالی خسارے، روپے کی قدر میں تبدیلی، عالمی منڈیوں کے حالات اور توانائی کے شعبے کی نااہلی بھی اس بحران کے عوامل ہیں۔

‎

‎***قرضوں کی واپسی میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟......پاکستان کے لیے بنیادی مشکل یہ ہے کہ حکومت کو ایک ہی وقت میں تین ذمہ داریاں پوری کرنا ہوتی ہیں:

· ‎**پرانے قرضوں کی اصل رقم اور سود ادا کرنا۔

· ‎**تنخواہوں، دفاع، پنشن، انتظامی امور اور دوسرے سرکاری اخراجات پورے کرنا۔

· ‎**تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے لیے سرمایہ کاری کرنا۔

‎

‎جب حکومتی آمدنی ان تمام ضروریات کے لیے کافی نہ ہو تو حکومت مزید قرض لیتی ہے یا اخراجات اور محصولات میں تبدیلی کرتی ہے۔ اگر نئے قرضے پرانے قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے بار بار استعمال ہوں اور معیشت کی پیداواری صلاحیت نہ بڑھے تو قرضوں کا چکر جاری رہ سکتا ہے۔

‎

‎پاکستان کی وزارتِ خزانہ کی مالیاتی دستاویزات میں بھی قرضوں کے سود، شرحِ سود میں تبدیلی، روپے کی قدر میں کمی اور قرضوں کی تجدید کے خطرات کو اہم مالیاتی مسائل قرار دیا گیا ہے۔

‎

‎* پاکستان کو اس صورتِ حال سے نکلنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟میرے نزدیک مسئلے کا پائیدار حل صرف قرض حاصل کرنے یا قرض دینے والے اداروں سے اختلاف کرنے میں نہیں، بلکہ ایسی معاشی بنیاد بنانے میں ہے جو مستقبل میں قرض کی ضرورت کم کرے۔


‎**ٹیکس نظام میں انصاف: تنخواہ دار طبقے اور پہلے سے ٹیکس دینے والے کاروباروں پر بار بار بوجھ بڑھانے کے بجائے ٹیکس چوری، غیر ضروری چھوٹ اور کمزور ٹیکس بنیاد کے مسائل حل کیے جائیں۔

‎

‎**برآمدات میں حقیقی اضافہ: ایسی صنعتوں، زرعی مصنوعات، آئی ٹی خدمات اور دیگر شعبوں کو فروغ دیا جائے جو مستقل زرمبادلہ کما سکیں۔

‎

‎** توانائی کے شعبے کی اصلاح: صرف قیمتیں بڑھانے کے بجائے بجلی چوری، لائن لاسز، غیر مؤثر انتظام، مہنگی پیداوار اور گردشی قرضے کے بنیادی اسباب پر قابو پایا جائے۔

‎

‎** قرضوں کی شفاف نگرانی: عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ کون سا قرض کس مقصد کے لیے لیا گیا، اس کی شرائط کیا ہیں، کتنی اصل رقم اور سود ادا ہوا اور منصوبے سے کیا فائدہ حاصل ہوا۔

‎

‎**عوامی تحفظ: کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مستند، ہدفی مالی معاونت اور بنیادی تعلیم و صحت کے اخراجات کو مناسب تحفظ دیا جائے۔

‎

‎** سرمایہ کاری اور روزگار: ایسی پالیسیوں کو ترجیح دی جائے جو پیداواری سرمایہ کاری، چھوٹے کاروباروں اور روزگار کو بڑھائیں، کیونکہ مسلسل معاشی ترقی کے بغیر قرضوں کا بوجھ کم کرنا مشکل ہے۔

‎

‎پاکستان کے قرضوں کا بحران صرف مالیاتی اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں؛ اس کا تعلق معاشی خودمختاری اور عام شہری کی زندگی سے بھی ہے۔ آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے ملنے والی مالی معاونت بعض حالات میں معیشت کو فوری سہارا دے سکتی ہے، لیکن یہ مستقل حل تبھی بن سکتی ہے جب قرضوں کے ساتھ حاصل ہونے والے وقت اور وسائل کو پیداواری ترقی، ٹیکس اصلاحات اور بہتر حکمرانی کے لیے استعمال کیا جائے۔

‎

‎عوام کے لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان پر کتنا قرض ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے قربانیاں کون دے رہا ہے، ان رقوم سے کیا حاصل ہوا اور مستقبل میں ایسے حالات سے بچنے کے لیے کیا بدلا جا رہا ہے۔

‎

‎حکومت کی مالیاتی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت قرضوں کی واپسی کے ساتھ ان اقدامات کے سماجی اثرات، ان کے فوائد کی تقسیم اور عام شہری کے معیارِ زندگی کو بھی جانچنا ضروری ہے۔

‎