اُن کا لفظوں میں بیاں ممکن ہی نہیں،تحریر: محمد احسان ثانی
نقطہ نظر
فرض شناس اساتذہ معاشرے، بلکہ پوری قوم کے حقیقی معمار ہوتے ہیں۔ یہی وہ روشن ستارے ہیں جو قوم کے افراد کو جہالت اور گمراہی کی تاریک گھاٹیوں سے نکال کر بلندیوں اور کامرانیوں کی چوٹیوں تک پہنچاتے ہیں۔ محمد ساجد صاحب کا شمار بھی انہی مخلص اور قابل اساتذہ میں ہوتا ہے۔ وہ ایک مخلص معلم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قادرالکلام شاعر اور صاحبِ اسلوب ادیب بھی ہیں، جو ادبی دنیا میں عصرِ حاضر کے صفِ اول کے لکھاریوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
محمد ساجد صاحب سے میری پہلی ملاقات 2017ء میں ہوئی تھی۔ اس وقت تک ان کی پہلی کتاب نائن الیون: حقیقت سے اردو افسانے تک شائع ہو چکی تھی۔ اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کس قدر گہرے مشاہدے اور دل موہ لینے والے فن کے حامل ادیب ہیں۔ ان کے الفاظ قاری کے دل کے گلشن میں بادِ صبا کی طرح اترتے ہیں۔ جہاں ایک طرف میں ان کی شاعری سے بے حد متاثر ہوا، وہیں ان کے گہرے اسلوب نے میری افسانہ نگاری پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔
دنیائے ادب کے بڑے بڑے افسانہ نگاروں نے عالمی حقائق اور ان کے پسِ پردہ چھپے رازوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنانے کی کوشش کی ہے، مگر ان تخلیقات کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کے مبہم گوشوں کو سامنے لانا یقیناً ایک کٹھن کام تھا، جسے محمد ساجد جیسے کوہ پیمائے تحقیق ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ لگ بھگ 80 صفحات پر مشتمل یہ کتاب میرے نزدیک کسی گراں قدر تحقیقی مقالے سے کم نہیں۔ یہ اردو زبان و ادب کی تحقیق میں ایک منفرد سنگِ میل اور آنے والے طلبہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو محمد ساجد کی تحقیقی و تخلیقی کاوشیں ان کی قوتِ مشاہدہ، باریک بینی اور بصیرت افروز نگاہ کا بے مثال ثبوت ہیں۔ ہم بجا طور پر توقع کر سکتے ہیں کہ وہ ادبی افق پر ہمیشہ نمایاں مقام حاصل کریں گے اور ان کی فکر و بصیرت ان کے لیے نئی راہیں ہموار کرتی رہے گی۔
ان کی شخصیت میں ذہانت و متانت، خلوص، اپنائیت، ہمدردی، ایثار اور احترامِ آدمیت جیسے حسین جذبات نمایاں ہیں۔ شہرِ دل میں آوارگی محمد ساجد صاحب کی شاعری کی پہلی تصنیف ہے، جو شہرِ کاہنہ سے محبت کے جذبے کے تحت لکھی گئی اور حبِ وطن کی ایک خوب صورت مثال ہے۔ اس کے بعد ان کی کتب کی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا، جن میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:
لاہور میں محبت (ناول)
تاریخِ پانڈوکی
تاریخِ کاہنہ
اتہاسک جیا بگا
ادبی تاریخِ جیا بگا
محمد ساجد صاحب ایک خوب صورت شاعر، بہترین ناول نگار، دل چسپ کہانی کار، محنتی محقق، بے مثال کالم نگار، شاندار افسانہ نگار اور ہر دل عزیز انسان ہیں۔ انہوں نے تاریخ نویسی کے دشوار گزار راستے کو اپنے منفرد اسلوب سے پُرلطف اور دل چسپ بنا دیا ہے۔ انہوں نے ’’مائیکرو ہسٹری‘‘ کے نام سے تاریخ نویسی کے ایک اہم طریقۂ کار کو متعارف کرانے اور فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ شہرِ محبت لاہور کے قرب و جوار میں واقع ایک سو سے زائد دیہات پر انہوں نے گہرا تحقیقی کام کیا ہے، جسے وہ بہت جلد لاہور دے پنڈاں دی وار کے نام سے منظرِ عام پر لانے والے ہیں۔
ان کی شاعری، بالخصوص غزل میں، نئے استعاروں اور تشبیہات کا استعمال واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔ وہ الفاظ کو اوزان و بحور کے ترازو میں تول کر اشعار کو بامقصد اور موزوں بناتے ہیں، جبکہ نت نئے قافیوں اور دل فریب ردیفوں کا استعمال ان کے کلام کا خاصہ ہے۔ ان کی صحبت میں بیٹھنے والا کوئی شخص شاعر بن جاتا ہے، کوئی مضمون نگار، کوئی تاریخ نویس، تو کوئی کہنہ مشق کہانی کار بن کر ابھرتا ہے۔
محمد ساجد صاحب اپنے فن و کردار کے بل بوتے پر ادبی افق پر آفتاب کی طرح پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہے ہیں، اور ان کی روشنی سے جہالت و گمراہی کی تاریکیاں دور ہو رہی ہیں۔ شعر و ادب کے حوالے سے ان کا یہ سفر تاحال رواں دواں ہے۔ ان کی آنے والی کتب میں درج ذیل عنوانات شامل ہیں:
کوبتا کہانی
کیمپس کہانی
تاریخِ لاہور کے چند گوشے
تاریخِ قصور کے چند گوشے
محبت میں مارے جائیں گے (شاعری)
ان تصانیف میں ان کے فن پارے نئے اور دل چسپ انداز میں قارئین کے سامنے آئیں گے۔ ہمیں امید ہے کہ وہ میدانِ شعر و ادب میں اسی طرح کارہائے نمایاں سرانجام دیتے رہیں گے اور علم و ادب کی ترویج و ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتے رہیں گے۔ اللہ رب العزت ان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین!
جہالت کے اندھیروں میں دیا تو نے جلایا ہے،
پڑھیں کیسے، لکھیں کیسے، یہ سب تو نے سکھایا ہے۔
کہوں گا برملا ثانی، ادب کے گلستانوں میں،
لگے پھل پھول ہیں جس پر، شجر تو نے لگایا ہے۔
مزید پڑھیں



