منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

27 اکتوبر، یومِ سیاہ کشمیر۔۔تاریخ کے ماتھے پر ثبت ایک سوال،تحریر:ایم۔ زیڈ۔ کنول

نقطہ نظر

ستائیس اکتوبر محض کیلنڈر کا ایک سیاہ ہندسہ نہیں، یہ تاریخ کے ماتھے پر ثبت وہ سوال ہے جس کا جواب سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود دنیا کے ضمیر پر قرض ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1947ء میں جموں و کشمیر کی سرزمین پر بھارتی فوجیں اتریں اور ایک ایسا تنازع جنم لینے کے بجائے، جو پہلے ہی سیاسی اور تاریخی پیچیدگیوں سے دوچار تھا، ایک طویل انسانی المیے کی صورت اختیار کر گیا۔ کشمیریوں کے لیے یہ تاریخ محض ماضی کا حوالہ نہیں، ان کے حال کا کرب اور مستقبل کی امیدوں سے جڑا ہوا ایک زندہ سوال ہے۔

تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت خود ارادیت کا اصول لاکھوں انسانوں کے سیاسی مستقبل کی بنیاد قرار پایا، مگر کشمیر کے معاملے میں یہی اصول آج تک ادھورا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں میں کشمیری عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے جن اصولوں کا ذکر کیا گیا، ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ یوں ایک خطہ، جس کی وادیوں میں دریاؤں کا پانی گیت گاتا تھا، سیاسی کشمکش، عسکری تناؤ اور انسانی بے یقینی کی طویل سرنگ میں دھکیل دیا گیا۔

کشمیر کا مسئلہ محض زمین کے ایک ٹکڑے پر ملکیت کا تنازع نہیں؛ یہ انسان کے حقِ انتخاب، اجتماعی شناخت اور سیاسی مستقبل کا سوال بھی ہے۔ زمین پر لکیریں کھینچنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ نقشے کی سیاہی انسانوں کے دلوں پر نہیں پھیلائی جا سکتی۔ پہاڑوں کو سرحدوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، دریاؤں کے راستے روکے جا سکتے ہیں، لیکن کسی قوم کی اجتماعی آرزو کو محض انتظامی فیصلوں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

کشمیر کی اصل کہانی پہاڑوں کی خاموشی میں نہیں، ان گھروں کی ادھوری گفتگو میں پوشیدہ ہے جہاں سیاست کے فیصلے روزمرہ زندگی کا مقدر بن جاتے ہیں۔ کسی ماں کے لیے یہ مسئلہ اپنے بیٹے کی سلامتی ہے، کسی طالب علم کے لیے مستقبل کی غیر یقینی، کسی تاجر کے لیے روزگار کا سوال اور کسی خاندان کے لیے بچھڑ جانے والوں کی یاد۔ عالمی سیاست کے ایوانوں میں کشمیر پر بحث اعداد و شمار، معاہدوں اور سفارتی بیانات کی زبان میں ہوتی ہے، لیکن عام کشمیری کی زندگی میں اس بحث کا ترجمہ خوف، انتظار اور عدم تحفظ کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں کشمیر کا مسئلہ محض سیاسی مؤقف سے آگے بڑھ کر انسانی ضمیر کا امتحان بن جاتا ہے۔

دنیا نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد انسانی حقوق، قومی خودمختاری اور حقِ خود ارادیت کے اصولوں کو عالمی نظام کی بنیاد قرار دیا۔ اقوامِ متحدہ کا منشور بھی قوموں کے مساوی حقوق اور خود ارادیت کے اصول کو تسلیم کرتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان اصولوں کی معنویت صرف ان خطوں تک محدود ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات ان سے ہم آہنگ ہوں؟ کیا انسانی حقوق کا ترازو جغرافیائی اہمیت دیکھ کر اپنا پلڑا بدل لیتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر عالمی ضمیر اور عالمی مصلحت میں فرق باقی نہیں رہتا۔

کشمیر کے حوالے سے عالمی برادری کی ذمہ داری محض تشویش کے رسمی اظہار تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں، انسانی حقوق کے عالمی اصولوں اور خطے میں پائیدار امن کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ایسی سنجیدہ سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں جو کشمیری عوام کی خواہشات، بنیادی حقوق اور زمینی حقائق کو اہمیت دیں۔ اس مسئلے کا پائیدار حل طاقت کے اظہار میں نہیں، منصفانہ سیاسی عمل، بامعنی مذاکرات اور انسانی وقار کے احترام میں پوشیدہ ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیا کی دو جوہری طاقتوں کے درمیان تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کا ہر نیا مرحلہ پورے خطے کے امن کو خطرے سے دوچار کر سکتا ہے۔ جنگ کا شعلہ جب سرحد پر بھڑکتا ہے تو اس کی تپش صرف فوجی مورچوں تک محدود نہیں رہتی؛ اس کی قیمت عام شہری، معیشت، تعلیم، صحت اور آنے والی نسلیں ادا کرتی ہیں۔ اس لیے کشمیر پر اصولی مؤقف اختیار کرنے اور امن کے امکانات برقرار رکھنے میں کوئی تضاد نہیں۔ حقیقی سفارت کاری وہی ہے جو حق کی بات بھی کرے اور انسانی جانوں کو سیاسی ضد کی بھینٹ چڑھنے سے بھی بچائے۔

پاکستان کے لیے یومِ سیاہ کشمیر محض ایک روایتی تقریب یا سالانہ بیان کا عنوان نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن اپنی قومی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے، مسئلے کے تاریخی اور قانونی پہلوؤں کو مستند شواہد کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرنے، کشمیری عوام کی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اصولی مؤقف اختیار کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ محض جذباتی نعروں سے عالمی رائے عامہ تبدیل نہیں ہوتی؛ اس کے لیے مسلسل سفارت کاری، معتبر تحقیق، مؤثر ابلاغ اور اخلاقی استقامت درکار ہوتی ہے۔

اسی طرح کشمیری عوام کی جدوجہد کو محض جذبات کی عینک سے دیکھنا بھی کافی نہیں۔ ان کے سیاسی مستقبل کے سوال کو تاریخی شواہد، بین الاقوامی اصولوں اور انسانی حقوق کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ کسی بھی قوم کی خواہشات کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے خود اسی قوم کی آواز کو بنیادی اہمیت دینا انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔

یومِ سیاہ کا حقیقی مفہوم صرف سیاہ پرچم لہرانا نہیں، بلکہ ان اندھیروں کی نشان دہی کرنا ہے جو انسان کے بنیادی حقوق کو نگل جاتے ہیں۔ احتجاج کی علامتیں اسی وقت بامعنی ہوتی ہیں جب وہ شعور میں تبدیل ہوں؛ شعور، جب مسلسل جدوجہد کا راستہ دکھائے اور جدوجہد، جب نفرت کے بجائے انصاف اور انسانی وقار کی بنیاد پر آگے بڑھے۔

کشمیر کی وادیوں میں کھڑے چنار موسموں کے ساتھ رنگ بدلتے ہیں، مگر ان کے سائے میں پلنے والی امید کو کسی ایک موسم کا پابند نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے پتوں کا سرخ ہونا خزاں کی علامت ہو سکتا ہے، لیکن کسی قوم کی زندگی میں خزاں کو ابدی بہار کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی مسائل کو غیر معینہ مدت تک التوا میں رکھنے سے ان کی شدت کم نہیں ہوتی؛ اکثر ان کے ساتھ نئی نسلوں کے دکھ بھی وابستہ ہو جاتے ہیں۔

تاہم امید محض ایک خوب صورت لفظ نہیں، ایک عملی ذمہ داری بھی ہے۔ اسے زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کا احترام ہو، تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مؤثر روک تھام کی جائے، سیاسی اختلافات کے حل کے لیے مکالمے کے راستے کھولے جائیں اور ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن میں عام انسان خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

آج، ستائیس اکتوبر کو، جب ہم یومِ سیاہ کشمیر مناتے ہیں تو ہمیں یہ سوال بھی اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ ہم اس دن کو محض یادداشت کا حصہ بنانا چاہتے ہیں یا اسے انصاف کے لیے ایک بامعنی عہد میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں؟ تاریخ کو یاد رکھنا ضروری ہے، مگر تاریخ سے سبق لینا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ ماضی کا دکھ اگر حال کی ذمہ داری نہ بنے تو یادداشت بھی رفتہ رفتہ ایک رسمی روایت میں بدل جاتی ہے۔

کشمیر کا مستقبل صرف سفارتی میزوں پر ہونے والے فیصلوں سے نہیں، بلکہ اس اصول سے بھی وابستہ ہے کہ انسان کی آواز کو اس کی زمین، شناخت اور زندگی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ امن اسی وقت پائیدار ہوگا جب انصاف کو اس کی بنیاد بنایا جائے گا، یہ سیاہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کے بعض سوال وقت گزرنے سے پرانے نہیں ہوتے، بلکہ جواب نہ ملنے کے باعث مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ کشمیر بھی ایسا ہی ایک سوال ہے؛ ایک ایسا سوال جس کے جواب میں محض بیانات نہیں، سنجیدہ اقدامات درکار ہیں۔

کشمیر کی سرزمین پر امن کا سورج اسی وقت پوری آب و تاب سے طلوع ہوگا جب خوف کی جگہ اعتماد، تصادم کی جگہ مکالمہ اور سیاسی مصلحت کی جگہ انصاف لے گا۔

تب تک ستائیس اکتوبر کا یومِ سیاہ ہمیں یہ یاد دلاتا رہے گا کہ کسی قوم کے مستقبل کا سوال محض سفارتی فائلوں میں بند رکھنے سے حل نہیں ہوتا،

اسے انسانی ضمیر کی عدالت میں بھی جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔