چکری روڈ، حادثات کی شاہراہ یا ہماری اجتماعی بے حسی کا آئینہ؟تحریر: میمونہ شفقت
نقطہ نظر
سڑکیں محض ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کا ذریعہ نہیں ہوتیں، بلکہ یہ زندگیوں کو منزل تک پہنچانے کا راستہ بھی ہوتی ہیں۔ مگر افسوس! چکری روڈ اور اس کے اطراف میں سفر کرنے والوں کے لیے یہ راستہ دن بہ دن تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ کہیں ٹریفک کا بے ہنگم دباؤ، کہیں بڑے ڈمپرز اور ٹرکوں کی بے احتیاطی، کہیں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور کہیں راہ گیروں کو درپیش سکیورٹی کے مسائل؛ یہ سب صورتِ حال ہمیں سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے حادثات صرف چند لمحوں کی خبریں نہیں ہوتے، بلکہ ان کے پیچھے کئی خاندانوں کی خوشیاں، امیدیں اور مستقبل وابستہ ہوتے ہیں۔ کسی گھر کا کفیل، کسی ماں کا بیٹا، کسی بچے کا باپ اور کسی بہن کا بھائی جب گھر سے نکلتا ہے تو اس کے اہلِ خانہ اس کی خیریت سے واپسی کے منتظر ہوتے ہیں۔ مگر جب یہی سفر کسی سانحے پر ختم ہو جائے تو اس کا دکھ صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہتا، پورا معاشرہ اس کے اثرات محسوس کرتا ہے۔
افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ سڑک کے اطراف میں کلینکس اور اسپتال موجود ہونے کے باوجود قیمتی جانوں کے ضیاع کی خبریں ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ آخر ہم حادثات کی روک تھام، بروقت امداد اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کتنے سنجیدہ ہیں؟ محض علاج کی سہولتیں موجود ہونا کافی نہیں؛ اصل ضرورت ایسے اقدامات کی ہے جو حادثات کو ہونے سے روکیں اور ہنگامی حالات میں متاثرین کو بروقت مدد فراہم کریں۔
لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم ہر مسئلے کی ذمہ داری صرف حکومت، انتظامیہ یا متعلقہ اداروں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو سکتے ہیں؟ یقیناً سڑکوں کی بہتری، ٹریفک کی نگرانی، قانون پر عمل درآمد اور شہریوں کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے، مگر ایک ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں ہمارا اپنا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: کیا ہم ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہیں؟ کیا ہم دورانِ سفر دوسروں کی جان کا خیال رکھتے ہیں؟ کیا ہم تیز رفتاری، خطرناک اوورٹیکنگ اور لاپروائی سے اجتناب کرتے ہیں؟ کیا ہم سڑک پر کسی ضرورت مند یا حادثے کے شکار شخص کی مدد کے لیے آگے بڑھتے ہیں؟ اور کیا ہم اپنے اردگرد ہونے والی ناانصافی اور غیر محفوظ رویّوں پر ذمہ داری سے آواز اٹھاتے ہیں؟
یاد رکھیے! سڑک پر کی گئی ایک معمولی سی بے احتیاطی کسی دوسرے انسان کے لیے زندگی بھر کا دکھ بن سکتی ہے۔ ڈمپر ہو یا موٹر سائیکل، کار ہو یا پیدل چلنے والا شخص، ہر ایک کی جان قیمتی ہے اور ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔
چکری روڈ کے حالات میں بہتری کے لیے مؤثر ٹریفک انتظام، خطرناک مقامات کی نشاندہی، مناسب روشنی، سڑک کی حفاظت کے اقدامات، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد اور جرائم کی روک تھام ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ ذمہ دارانہ رویّے اپنائیں، خلاف ورزیوں سے بچیں اور مسائل کی نشاندہی متعلقہ اداروں تک پہنچائیں۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ معاشرے صرف قوانین سے نہیں، بلکہ شعور، احساسِ ذمہ داری اور اجتماعی کردار سے بھی بہتر بنتے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اپنا فرض ادا کرنا چاہیے، مگر ہمیں بھی اپنے حصے کی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔
آئیے! چکری روڈ کو محض حادثات اور خوف کی علامت بننے سے بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ کسی کی زندگی بچانا صرف ایک نیکی نہیں، انسانیت کی خدمت ہے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا ہے کہ منزل تک پہنچنے کی جلدی میں زندگی کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ راستے پر چلنے والا ہر انسان کسی نہ کسی کا پیارا ہے۔ اس کی حفاظت کا احساس ہی ایک مہذب، باشعور اور زندہ معاشرے کی پہچان ہے۔
مزید پڑھیں





