خلع ، طلاق کے بڑھتے مقدمات کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا فلمیں اور ڈرامے ہیں،سبیل اکرام

لاہور ( )ممتاز سیاسی سماجی رہنما ڈاکٹر سبیل اکرام نے آج یہاں ایک تربیتی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں طلاق اور خلع کی بڑھتی ہوئی خوفناک شرح خاندانی نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ خاندانی جھگڑوں سے سب سے زیادہ متاثر معصوم بچے ہو رہے ہیں جو والدین کی شفقت سے محروم ہو کر محرومیوں کے اندھیروں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ اگر یہ رجحان نہ رکا تو معاشرہ ایک ایسے بحران میں داخل ہوگا جہاں رشتوں کی حرمت اور گھروں کی روشنی ماند پڑ جائے گی۔صرف لاہور کی فیملی عدالتوں میں روزانہ اوسطاً 80 سے 100 خلع اور طلاق کے دعوے دائر ہوتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں خاندانی مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔خلع اور طلاق کے بڑھتے ہوئے مقدمات کی بنیادی وجہ سوشل میڈیا فلمیں اور ڈرامے ہیں ۔ یہ المناک صرف لاہور تک محدود نہیں بلکہ کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں کی عدالتیں بھی اسی المیے کی گواہی دے رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ مغربی تہذیب کے اندھے اثرات، مذہب سے دوری، سوشل میڈیا کا بے تحاشہ استعمال، غیر ضروری خواہشات اور عدم برداشت اس بگاڑ کی جڑ ہیں۔ رشتے جو کبھی محبت، صبر اور قربانی کے ستونوں پر کھڑے ہوتے تھے، آج وقتی جذبات، ضد اور مادہ پرستی کی آندھیوں میں لرز رہے ہیں۔ اگر اس طوفان کو نہ روکا گیا تو خاندان مٹی کے گھروں کی طرح بکھر جائیں گے اور آنے والی نسلیں ان ٹوٹے ہوئے گھروں کے ملبے تلے دب جائیں گی۔علمائے کرام ،حکومت، میڈیا اور سوسائٹی کے تمام طبقات سے ہماری اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر جاگیں۔ شادی کو آسان، زندگی کو سادہ اور برداشت کو معمول بنائیں ،سوشل میڈیا کے منفی استعمال کو قابو میں لائیں ۔ انہوں نے کہااگرچہ اسلام میں طلاق کی اجازت ہے لیکن یہ سب سے ناپسندیدہ عمل ہیے ا فسوس آج ہمارے معاشرے میں طلاق کو فیشن بنا دیا گیا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ والدین، اساتذہ اور علمائے کرام نئی نسل کو رشتوں کی حرمت، ایثار اور قربانی کا سبق پڑھائیں، ورنہ آنے والا کل ہماری بربادی، تنہائی اور محرومی کی داستانیں سنائے گا۔
مزید پڑھیں




