مذاق انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ ہنسنا اور ہنسانا دل کو ہلکا کر دیتا ہے۔ زندگی کی تھکاوٹ اور پریشانیوں میں اگر ہلکا پھلکا مذاق نہ ہو تو زندگی بہت بوجھل لگنے لگتی ہے۔ ہمارا دین اسلام بھی مسکرانے کو پسند کرتا ہے، ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ کرام سے کبھی کبھی ہنسی مذاق فرما لیا کرتے تھے، لیکن آپ کا مذاق بھی سچ پر مبنی ہوتا تھا اور کبھی کسی کا دل نہیں دکھاتا تھا۔ یہی وہ حد ہے جسے ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
جائز مذاق وہ ہوتا ہے جس میں جھوٹ نہ ہو، کسی کی عزت پر حملہ نہ ہو، کسی کی شکل، غربت، بیماری یا مجبوری کا مذاق نہ اڑایا جائے۔ جائز مذاق وہ ہے جو محفل میں خوشی لائے، نہ کہ خاموشی۔ اگر آپ کے مذاق کے بعد سب ہنس رہے ہیں اور جس پر مذاق کیا گیا وہ بھی ہنس رہا ہے تو سمجھو یہ جائز مذاق ہے۔ اور اگر آپ کے مذاق کے بعد ایک شخص ہنس رہا ہے اور دوسرا شرمندہ ہو کر سر جھکا رہا ہے تو یہ مذاق نہیں، یہ دل دکھانا ہے اور دل دکھانا ہمارے دین میں سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ دوستوں میں مذاق کے نام پر ایک دوسرے کی عزت اچھال دی جاتی ہے۔ کسی کے والد کا نام لے کر، کسی کی نوکری کا، کسی کے کپڑوں کا مذاق اڑانا عام ہو گیا ہے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ ہم تو بس مذاق کر رہے تھے۔ یاد رکھیں، جس مذاق سے کسی کا دل ٹوٹ جائے وہ مذاق نہیں گناہ بن جاتا ہے۔ اس لیے مذاق کرتے وقت دوسرے کے دل کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
مذاق کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے دلوں میں محبت بڑھتی ہے۔ میاں بیوی کا ہلکا پھلکا مذاق گھر کو جنت بنا دیتا ہے۔ ماں باپ کا بچوں سے مذاق بچوں کو ذہنی طور پر مضبوط بناتا ہے۔ دوستوں کا آپس میں جائز مذاق تنہائی اور ڈپریشن کو ختم کر دیتا ہے۔ ایک اچھی ہنسی خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے، چہرے پر رونق لاتی ہے اور انسان کو اندر سے تازہ کر دیتی ہے۔ جو لوگ ہنسنا ہنسانا جانتے ہیں ان کے پاس لوگ بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مجلس کبھی بور نہیں ہوتی۔
لیکن مذاق کا نقصان اس وقت شروع ہوتا ہے جب وہ حد سے بڑھ جائے۔ ہر وقت کا مذاق انسان کی عزت کو کم کر دیتا ہے۔ لوگ اس کی سنجیدہ بات کو بھی مذاق سمجھنے لگتے ہیں۔ زیادہ مذاق کرنے سے جھوٹ بولنے کی عادت پڑ جاتی ہے کیونکہ مذاق کو مزیدار بنانے کے لیے انسان مرچ مصالحہ لگاتا ہے اور بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ اور پھر آہستہ آہستہ یہی مذاق غیبت، چغلی اور بدگمانی تک لے جاتا ہے۔ بہت سے خاندانوں میں طلاق اور دوستوں میں لڑائی صرف اس بے ہودہ مذاق کی وجہ سے ہوئی ہے جو کسی کو برداشت نہ ہوا۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم مذاق کریں ضرور، کیونکہ زندگی کو ہلکا پھلکا رکھنا بھی عبادت ہے، لیکن ایسا مذاق کریں جس میں سچائی ہو، جس میں کسی کی تذلیل نہ ہو، جس میں بڑوں کا ادب اور چھوٹوں کا لحاظ باقی رہے۔ کسی کو ہنسانے کے لیے اپنا ایمان اور دوسرے کا دل خراب نہ کریں۔ وہ ہنسی سب سے خوبصورت ہے جو کسی کو رلائے بغیر آئے۔
ہمارا قلم اگر ہنسانا جانتا ہے تو وہ سب سے اچھا قلم ہے، لیکن اگر ہمارا قلم کسی کو ہنسانے کے لیے کسی دوسرے کی آنکھ میں آنسو لے آئے تو ہمیں اپنے قلم پر سوچنا چاہیے۔ مذاق میں بھی اخلاق ہونا چاہیے اور یہی اصل میں ایک اچھے مسلمان اور اچھے انسان کی پہچان ہے۔
مزید پڑھیں






