میں ہمیشہ کی طرح نائٹ شفٹ میں اپنے سارے کام نمٹا کر تھوڑا سا ریلیکس ہونے کے لیے ڈائری کھولے بیٹھی تھی۔ تاکہ کچھ دیر قلم کا سہارا لے کر دل کی کچھ باتیں ڈائری میں محفوظ کر لی جائیں۔
واقعی میں محبت تو وہ کیفیت ہے جو انسان کو اپنی ذات سے نکال کر کسی اور کی ذات میں گم کر دیتی ہے۔ کبھی یہی عشق نما محبت انسان کو سجدوں میں رُلا دیتی ہے اور کبھی کسی انسان کی ایک مسکراہٹ کے لیے پوری دنیا سے لڑنے پر آمادہ کر دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایسی محبت ہم اپنے رب سے نہیں ہو سکتی؟
آج بھی سمیرا کو دیکھتی ہوں تو پرانے دن بہت یاد آتے ہیں۔ سمیرا کو محبت کرنے کی جیسے عادت سی تھی۔ وہ جب کسی کو اپنا سمجھتی تو پھر اس کے غم اور خوشی کو اپنا محسوس کرتی۔ اس کی ماں اکثر کہتی: "بیٹی! محبت ضرور کرنا مگر اتنی بھی نہیں کہ اپنی ذات ہی بھول جاؤ۔"
سمیرا ہنس کر جواب دیتی: "امی! محبت کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔"
اس کی ماں خاموش ہو جاتی! کیونکہ وہ جانتی تھی کہ کچھ سبق لفظوں سے نہیں بلکہ وقت کی ٹھوکروں سے حاصل ہوتے ہیں۔ سمیرا کی زندگی میں بس دو محبتیں تھیں۔ ایک اس کا خدا، جس سے وہ تنہائیوں میں باتیں کرتی، سجدوں میں اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتی اور اپنی ہر محرومی اسی کے سامنے رکھ دیتی۔ دوسری محبت ایک انسان تھا، جسے اس نے اپنی دعاؤں میں مانگا تھا۔ اس کے لیے وہ اپنی خوشیاں قربان کرتی، اس کی ناراضی پر رات بھر روتی اور اس کی بے رخی کو بھی اپنی کسی غلطی کا نتیجہ سمجھتی۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس انسان کی بے اعتنائی بڑھتی گئی۔ سمیرا کی محبت اسے حق محسوس ہونے لگی اور اس کی قربانیاں معمول کا حصہ۔ وہ جب چاہتا، اسے نظرانداز کر دیتا؛ جب چاہتا، چند میٹھے الفاظ کہہ کر اس کے سارے شکوے خاموش کروا دیتا۔
ایک روز سمیرا نے بھیگی آنکھوں سے پوچھا: "کیا تمہیں کبھی احساس نہیں ہوا کہ میں تمہارے لیے کیا کچھ کرتی ہوں؟"
وہ بے پروائی سے بولا، "میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میرے لیے اتنا کرو۔"
یہ چند الفاظ سمیرا کے دل پر کسی فیصلے کی طرح اترے۔ اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ جس محبت کو وہ اپنی زندگی کا حاصل سمجھتی رہی، شاید دوسرے شخص کے لیے وہ محض ایک وقت گزاری تھی۔
اس رات وہ اپنی ماں کے ساتھ لگ کر بہت روئی۔
ماں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: "بیٹی! خدا سے محبت میں جتنا جھک جاؤ، کم ہے، کیونکہ وہ تمہارے جھکنے کو تمہاری عزت بناتا ہے مگر انسان سے محبت کرتے ہوئے اتنا مت جھک جانا کہ وہ تمہیں اپنے قدموں کی خاک سمجھنے لگے۔"
سمیرا دیر تک ماں کی باتیں سنتی رہی۔
اگلی صبح وہ حسبِ معمول اٹھی، وضو کیا اور جائے نماز پر بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، مگر آج اس کی دعا میں کسی انسان کو پانے کی ضد نہیں تھی۔
"یا اللہ! میں نے اپنی محبت میں خود کو کھو دیا۔ اب مجھے اپنی محبت میں خود سے ملنا سکھا دے۔ مجھے ایسا دل عطا کر جو تیرے بندوں سے محبت کرے مگر خود کو نہ بھولے۔"
اس دن سمیرا نے محبت کرنا نہیں چھوڑا، بس محبت کا مفہوم سمجھ لیا۔
اب بھی وہ لوگوں کے دکھ پر تڑپ اٹھتی، کسی ضرورت مند کی مدد کے لیے اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کرتی اور اپنے پیاروں کے لیے دعائیں مانگتی۔ مگر اب وہ کسی کی بے رخی کو اپنی بے قدری کا ثبوت نہیں سمجھتی تھی۔ اس نے جان لیا تھا کہ کسی کے لیے خود کو مٹا دینا محبت کی معراج نہیں؛ کبھی کبھی اپنی ذات کو سنبھال لینا بھی محبت ہی کا تقاضہ ہوتا ہے۔
کچھ عرصے بعد ایک غریب بچی اس کے دروازے پر مدد مانگنے آئی۔ سمیرا نے اسے کھانا دیا، اس کی تعلیم کا انتظام کیا اور اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔ بچی نے معصومیت سے پوچھا: "آپ میرے لیے اتنا سب کیوں کرتی ہیں؟ میں تو آپ کی کوئی نہیں ہوں۔"
سمیرا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
وہ مسکرا کر بولی: "تم بھی ایک انسان ہو اور مسلمان ہونے کے ناطے انسانیت کا رشتہ ہی کافی ہے۔"
اس لمحے اسے محسوس ہوا کہ محبت کا اصل حسن کسی ایک انسان کے گرد اپنی پوری دنیا سمیٹ لینے میں نہیں، بلکہ اپنے دل کو اتنا وسیع کر لینے میں ہے کہ اس میں خدا کی مخلوق کے لیے بھی جگہ باقی رہے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دل ہی دل میں کہا:
"دیوانگی کی آخری حد تک محبت ضرور کرو؛ اگر خدا سے ہو تو اپنی روح کو روشن کرنے کے لیے اور اگر اس کے بندوں سے ہو تو ان کے اندھیروں میں خود جگنو بن جاؤ روشنی کے لیے۔ مگر یاد رکھو: خدا کی محبت تمہیں اس کی مخلوق سے جوڑے گی اور خیال رہے کسی انسان کی محبت تمہیں اپنی ہی نظروں میں اجنبی نہ بنا دے۔"
میں نے ڈائری بند کی اور سمیرا کی یاد میں ایک کپ چائے پینے کے لیے الیکٹرک کیٹل کا سہارا لیا۔
دل مسلسل اسی کو سوچنے میں مصروف تھا۔ واقعی محبت کی انتہا خود کو مٹا دینا نہیں، بلکہ اپنے وجود کو اتنا خوب صورت بنا لینا ہے کہ تمہاری ذات سے کسی دوسرے کی زندگی میں روشنی اترنے لگے نہ کے ویرانی۔
اپنی زندگی کو اس ڈگر پر لے جاؤ کہ لوگ آپ کی مثالیں دینے لگیں۔
آخر میں صرف ایک سوال ہے، میں مانتی ہوں موت کا وقت تعین ہے مگر کیا ہم اپنی زندگی کو اتنا خوبصورت نہیں بنا سکتے کہ ہمارے جانے کے بعد بھی لوگ ہمیں اچھے لفظوں میں یاد رکھ سکیں۔۔۔۔؟؟؟
مزید پڑھیں






