منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

شکرگزاری کی طاقت،تحریر: دانش رحمان

نقطہ نظر
danish rehmna

انسان کی زندگی میں کچھ کیفیات ایسی ہوتی ہیں جو ظاہری طور پر سادہ محسوس ہوتی ہیں مگر ان کا اثر نہایت گہرا دیرپا اور زندگی ساز ہوتا ہے شکرگزاری انھی کیفیات میں سرِفہرست ہے یہ محض زبان سے چند کلمات ادا کر دینے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ذہنی و روحانی رویہ ہے جو انسان کے اندرونی عالم کو بدل دیتا ہے۔ شکرگزار شخص صرف اپنے حال کو بہتر طور پر قبول ہی نہیں کرتا بلکہ مستقبل کے بارے میں بھی زیادہ پرامید متوازن اور مثبت اندازِ فکر رکھتا ہے۔ آج کے دور میں جب بے چینی بے اطمینانی اور شکایتوں کا بازار گرم ہے شکرگزاری ایک ایسی طاقت کے طور پر سامنے آتی ہے جو دل کو سکون ذہن کو توازن اور زندگی کو معنی عطا کرتی ہے۔


موجودہ دور کا المیہ یہ ہے کہ انسان کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ وسائل سہولتیں اور مواقع موجود ہیں مگر بے چینی اور نا شکری بھی پہلے سے زیادہ ہے۔ لوگ جو نہیں رکھتے اس کی فکر میں اتنے ڈوبے رہتے ہیں کہ جو کچھ ان کے پاس موجود ہے اس کی قدر کرنا بالکل بھول جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ زندگی کا بڑا حصہ مقابلوں شکایات اور حسرتوں میں گزر جاتا ہے۔ شکرگزاری اس زہریلی سوچ کا مداوا ہے یہ انسان کو قناعت سے آشنا کرتی ہے۔ قناعت کا مطلب ترقی سے فرار نہیں بلکہ موجودہ نعمتوں کی حقیقی قدر کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا نام ہے۔ جو شخص اپنے پاس موجود چیزوں پر شکر ادا کرتا ہے وہ حسد بغض اور داخلی بے چینی سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص مسلسل دوسروں سے موازنہ کرتا رہتا ہے وہ کبھی حقیقی اطمینان محسوس نہیں کر پاتا۔


اسلام نے شکرگزاری کو ایمان کا ایک اہم پہلو قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں بار بار شکر ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور شکر گزار بندے کے لیے مزید نعمتوں کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یہ محض روحانی نصیحت نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بھی ہے۔ جب انسان شکر ادا کرتا ہے تو اس کا ذہن مثبت پہلوؤں پر مرکوز ہو جاتا ہے اور وہ مسائل میں بھی امکانات دیکھنے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے۔ یہی مثبت سوچ اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے میں مدد دیتی ہے شکرگزاری صرف خالقِ حقیقی تک محدود نہیں والدین اساتذہ احباب اور ان تمام افراد کا شکر ادا کرنا بھی اس کا حصہ ہے جو ہماری زندگی میں کسی نہ کسی طور معاون ثابت ہوتے ہیں۔ آج رشتوں میں بڑھتی ہوئی تلخی کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی خدمات اور قربانیوں کو معمولی سمجھنے لگے ہیں۔ اگر گھروں میں شکرگزاری کا ماحول پیدا ہو تو بہت سی تلخیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔


نئی نسل میں شکرگزاری کی عادت ڈالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج کے بچے اور نوجوان اکثر جلد ناشکرے ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں زیادہ تر چیزیں بلا محنت میسر آ جاتی ہیں۔ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ چھوٹی چھوٹی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی عادت ڈالیں کھانے صحت گھر تعلیم اور سلامتی کا شکر ادا کرنا سکھایا جائے۔ یہ چھوٹی عادتیں بڑے کردار کی بنیاد بنتی ہیں شکرگزاری ذہنی صحت پر بھی گہرا اثر رکھتی ہے۔ جو لوگ باقاعدگی سے شکر ادا کرتے ہیں وہ تناؤ کا کم شکار ہوتے ہیں بہتر نیند لیتے ہیں اور زندگی سے زیادہ مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ یہ عادت انسان کو ماضی کے پچھتاووں اور مستقبل کے خوف سے نکال کر حال کی قدر کرنا سکھاتی ہے جو ذہنی سکون کی اصل بنیاد ہے۔


عملی زندگی میں بھی شکرگزاری کامیابی کا ایک خاموش مگر طاقتور عنصر ہے۔ جو شخص اپنے ساتھیوں اپنے کام اور اپنے مواقع کا شکر گزار ہوتا ہے وہ بہتر انسانی تعلقات قائم کرتا ہے اور معاشرے میں پسندیدہ بنتا ہے۔ ناشکرا شخص چاہے کتنا ہی قابل کیوں نہ ہو لوگ اس سے فاصلہ رکھتے ہیں شکرگزاری انسان کو نرم متوازن اور پرکشش شخصیت عطا کرتی ہے ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں شکرگزاری کو عملی شکل دینی چاہیے۔ سونے سے پہلے چند لمحے نکال کر ان باتوں پر غور کرنا جن کا شکر ادا کرنا ہے ایک مؤثر عادت ثابت ہو سکتی ہے۔ شکرگزاری کی طاقت کو اپنانا دراصل زندگی کو خوشی سکون سے بھرنا ہے حقیقی خوشی چیزوں کے زیادہ ہونے میں نہیں بلکہ ان کی قدر کرنے میں پوشیدہ ہوتی ہے جو شخص اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے وہ حالات جیسے بھی ہوں دل کا سکون کھو نہیں بیٹھتا۔