منگل، 27 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان اب زیتون کی دنیا میں نووارد نہیں ہے،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

دنیا کے نقشے پر جب بھی زیتون کی بات ہوتی تھی تو ذہن خود بخود اسپین، اٹلی اور یونان کی وادیوں کی طرف نکل جاتا تھا، لیکن آج پاکستان نے اس روایتی تصور کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک دعویٰ نہیں بلکہ بین الاقوامی مقابلوں کے شاندار نتائج اس بات کے گواہ ہیں، جہاں بلوچستان کے مٹیالے پہاڑوں کی گود میں پلے بڑھنے والے برانڈ "لورالائی اولیوز" نے نیویارک اور برلن گلوبل اولیو آئل ایوارڈز جیسے معتبر ترین پلیٹ فارمز پر دنیا بھر کے سینکڑوں نامور برانڈز کو پچھاڑ کر چاندی کے تمغے اپنے نام کیے۔

 

پاکستانی زیتون کے اس بے مثال معیار اور ملک میں جاری زرعی انقلاب ہی کا نتیجہ ہے کہ "بین الاقوامی زیتون کونسل" (IOC) کی مستقل رکنیت کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد اب پاکستان زیتون کی دنیا میں محض ایک عام کاشتکار نہیں، بلکہ عالمی پالیسی سازی کی میز پر بیٹھی ایک معتبر آواز بن چکا ہے۔ بنجر زمینوں پر اگنے والے یہ لاکھوں درخت اب صرف ہریالی کا سبب نہیں، بلکہ خوردنی تیل کی درآمد پر اربوں ڈالرز کا انحصار کم کرنے اور ملک کو معاشی خود انحصاری کی طرف لے جانے کا ایک شاندار پیش خیمہ ہیں۔

 

اس کامیابی کے پیچھے دراصل اس طویل، کٹھن اور صبر آزما سفر کی کہانی ہے جس کی جڑیں ہماری زمین کی تاریخ میں بہت گہری ہیں۔ پاکستان میں زیتون کی باقاعدہ کاشت کا یہ سفر بیسویں صدی کے آخری عشروں میں آزمائشی پودوں سے شروع ہوا تھا، جسے اکیسویں صدی کے آغاز میں بارانی زرعی تحقیقاتی اداروں اور پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل نے ایک قومی مشن کے طور پر اپنایا۔ ماہرین نے جب شمالی پنجاب کے پوٹھوہار، خیبر پختونخوا کے سنگلاخ پہاڑوں اور بلوچستان کے خشک اضلاع کو زیتون کے لیے موزوں پایا، تو ایک انقلابی قدم کے طور پر ملک بھر میں موجود کروڑوں جنگلی زیتون کے درختوں (کاؤ) کی جدید سائنسی طریقوں سے پیوند کاری کی گئی۔ اس تکنیک نے کسانوں کا برسوں کا انتظار ختم کر دیا اور راولپنڈی، چکوال، اٹک اور جہلم کے اضلاع پر مشتمل پورا خطہ ایک سرسبز 'اولیو ویلی' میں تبدیل ہو گیا۔

 

عالمی منڈی میں خود کو منوانے کے لیے روایتی زراعت کے بجائے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا۔ اٹلی اور اسپین کے تعاون سے درآمد کیے گئے خودکار پلانٹس کے ذریعے جب چکوال کی تجربہ گاہوں میں زیتون کے تیل کا معائنہ کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ اس میں تیزابیت کی مقدار بین الاقوامی معیار سے بھی کہیں کم ہے، جو اسے دنیا کے صحت بخش ترین تیلوں کی صف میں کھڑا کرتی ہے۔

 

آج یہ سفر محض ایک زرعی کامیابی سے آگے بڑھ کر ایک سماجی اور معاشی انقلاب کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پانی کی کمی کے شکار علاقوں میں زیتون کے باغات نے خوشحالی کے چراغ روشن کر دیے ہیں، جہاں دیہی خواتین زیتون کی چنائی، اچار، مربے اور طبی چائے کی تیاری سے اپنی معاشی حالت مستحکم کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، شدید گرمی اور قحط سالی میں ماحول سے کاربن جذب کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ درخت موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایک طاقتور محافظ ثابت ہو رہا ہے۔ بنجر زمینوں سے شروع ہونے والا یہ پودا آج پاکستان کے روشن اور سرسبز مستقبل کی علامت بن چکا ہے، اور وہ وقت دور نہیں جب دنیا کے نقشے پر پاکستان کو زیتون کی سلطنت کا ایک درخشندہ ستارہ مانا جائے گا۔