فاصلے ہار گئے، محبت جیت گئی،تحریر: سائرہ علی
نقطہ نظر
ایک ایسی محبت کی داستان، جو قربت کی محتاج نہ تھی۔ جسے نہ وقت مٹا سکا، نہ فاصلے تھکا سکے، اور نہ ہی خاموشی اس کے وجود کو ختم کر سکی۔
رات کے آخری پہر میں جب دنیا اپنی تمام تر مصروفیات سمیٹ کر نیند کی آغوش میں جا چکی ہوتی ہے، تب کچھ دل جاگتے ہیں۔ کچھ آنکھیں چھت پر نظریں جمائے کسی ایسے شخص کو یاد کر رہی ہوتی ہیں جو ان سے بہت دور، کسی دوسرے شہر، کسی دوسری سرزمین یا شاید کسی دوسرے وقت میں سانس لے رہا ہوتا ہے۔ ان دلوں کے پاس نہ کسی کے کندھے کا سہارا ہوتا ہے، نہ کسی کی انگلیوں کی حرارت، نہ کسی مانوس آواز کی قربت ، ان کے پاس اگر کچھ ہوتا ہے تو صرف یادوں کا ایک چراغ، جو تنہائی کی تیز ہواؤں میں بھی بجھنے سے انکار کر دیتا ہے۔ عجیب بات ہے نا! انسان کبھی کبھی اُس شخص سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے جس تک پہنچنے کے لیے اسے ہزاروں میل کا سفر طے کرنا پڑتا ہے اور کبھی اُس شخص سے بھی بہت دور ہو جاتا ہے جو اُس کے بالکل سامنے بیٹھا ہوتا ہے۔ شاید فاصلے زمین پر نہیں، دلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اور اگر دل ایک دوسرے کے لیے دھڑکتے رہیں تو سمندروں کی وسعت، پہاڑوں کی بلندی، شہروں کی اجنبیت اور وقت کی طویل مسافتیں بھی محبت کے راستے میں محض بے معنی نشانیاں بن کر رہ جاتی ہیں۔ محبت بھی کتنی عجیب شے ہے! یہ ہمیشہ ہاتھ تھامنے، ساتھ چلنے، ایک ہی چھت تلے رہنے یا ہر روز ایک دوسرے کو دیکھنے کا نام نہیں۔ کبھی محبت یہ ہوتی ہے کہ آپ کسی کی آواز سنے بغیر بھی اُس کی اداسی محسوس کر لیتے ہیں۔ کبھی یہ کہ آپ کی اپنی آنکھیں نم ہوں، مگر آپ دعا اُس کے سکون کی کرتے ہیں۔ کبھی یہ کہ آپ کے پاس کہنے کو ایک جہان ہوتا ہے، مگر آپ صرف اتنا لکھتے ہیں، "اپنا خیال رکھیے گا" اور اُس مختصر سے جملے میں اپنی تمام بے قراری، تمام
محرومی، تمام چاہت اور تمام دعائیں چھپا دیتے ہیں۔ کچھ رشتے دنیا کے سامنے اپنا تعارف نہیں کرواتے۔ اُن کے پاس نہ تصویروں کی بھرمار ہوتی ہے، نہ ملاقاتوں کی طویل فہرست، نہ ساتھ گزارے ہوئے دنوں کا کوئی قابلِ رشک حساب۔ اُن کے پاس تو بس چند پیغامات، کچھ ادھوری گفتگوئیں، بے شمار انتظار، اور وہ خاموش لمحے ہوتے ہیں جن میں ایک دل دوسرے دل کی خیریت کے لیے بے چین رہتا ہے۔ دنیا ایسے رشتوں کو شاید پوری طرح سمجھ بھی نہیں پاتی۔ وہ سوال کرتی ہے: "اتنی دور رہ کر محبت کیسے قائم رہ سکتی ہے؟ آخر کب تک؟" مگر دنیا کو کون سمجھائے کہ محبت کیلنڈر پر لکھی ہوئی تاریخوں کی پابند نہیں ہوتی۔ وہ کسی مقررہ وقت پر ملنے، کسی خاص مقام پر بیٹھنے یا روزانہ روبرو ہونے کی محتاج نہیں۔ محبت اگر سچی ہو تو وہ کسی کی آواز میں چھپی تھکن بھی پہچان لیتی ہے، کسی کے مختصر جواب میں موجود بے بسی بھی پڑھ لیتی ہے اور کسی کے اچانک خاموش ہو جانے پر اُس کے اندر اٹھنے والے طوفانوں کا اندازہ بھی لگا لیتی ہے کیونکہ محبت کا اصل کمال یہ نہیں کہ دو لوگ ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ ہوں، بلکہ یہ ہے کہ وہ دور رہ کر بھی ایک دوسرے کے دل میں اپنی جگہ محفوظ رکھ سکیں۔ لیکن یہ سب کہنا جتنا آسان ہے، سہنا اتنا ہی مشکل۔ فاصلے صرف میلوں کے نہیں ہوتے۔ کچھ فاصلے وقت کے ہوتے ہیں، کچھ حالات کے، کچھ ذمہ داریوں کے، اور کچھ اُن مجبوریوں کے جنہیں انسان چاہ کر بھی اپنی مرضی سے بدل نہیں سکتا۔ کبھی ایک شخص بات کرنا چاہتا ہے مگر حالات اُسے خاموش رہنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ کبھی دوسرا شخص سارا دن ایک پیغام کے انتظار میں گزار دیتا ہے اور رات کو موبائل کی روشن اسکرین دیکھتے دیکھتے اُس کی آنکھیں بوجھل ہو جاتی ہیں۔ کبھی ایک معمولی سا جواب دل کو کئی دنوں کی خوشی دے جاتا ہے اور کبھی ایک طویل خاموشی انسان کے اندر ایسے سوال جگا دیتی ہے جن کے جواب اُس کے پاس نہیں ہوتے۔
تب محبت صرف محبت نہیں رہتی۔ وہ صبر بن جاتی ہے، برداشت بن جاتی ہے، ضبط بن جاتی ہے۔ وہ اپنے جذبات کو سنبھالنے کا ہنر سکھاتی ہے۔ وہ انسان کو بتاتی ہے کہ ہر چاہت کا اظہار ضروری نہیں، ہر درد کا شکوہ لازم نہیں، اور ہر محرومی کا حساب مانگنا بھی محبت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات محبت کرنے والا شخص اپنے محبوب کو اپنی کمی کا احساس دلانے کے بجائے اُس کی زندگی آسان بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ سامنے والا بھی اپنی ذمہ داریوں، پریشانیوں اور الجھنوں میں گھرا ہوا ہے۔ وہ اپنی تنہائی کا بوجھ اُس کے کندھوں پر نہیں رکھنا چاہتا۔ سو وہ مسکرا کر کہہ دیتا ہے، "کوئی بات نہیں، آپ مصروف ہوں گے۔"
حالاں کہ اُس کے دل میں ایک چھوٹی سی خواہش سر اٹھا رہی ہوتی ہے کہ کاش کوئی اُس سے بھی پوچھ لے، "تم کیسے ہو؟ تمہارا دل آج اتنا خاموش کیوں ہے؟ تم سب کو حوصلہ دیتے دیتے خود تھک تو نہیں گئے؟" کاش کوئی اُس کی خاموشی کے پیچھے چھپی ہوئی آواز سن سکے! کیونکہ جو لوگ دور رہ کر محبت کرتے ہیں، وہ اکثر اپنے آنسوؤں کے گواہ خود ہی ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کے سامنے معمول کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ ہنستے ہیں، کام کرتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ مگر اُن کے اندر ایک گوشہ ایسا ہوتا ہے جہاں ہر روز کسی کی یاد آ کر بیٹھ جاتی ہے۔ وہ گوشہ کسی محفل سے آباد نہیں ہوتا، کسی مصروفیت سے خالی نہیں ہوتا، اور کسی نئے چہرے سے پُر نہیں کیا جا سکتا۔ وہاں صرف ایک شخص رہتا ہے۔ وہ شخص جو شاید اس وقت کسی دوسرے شہر میں بیٹھا چائے پی رہا ہو، کسی مصروف سڑک سے گزر رہا ہو، اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہو، یا رات کو تھک کر سو گیا ہو۔ اُسے کیا خبر کہ کہیں بہت دور کوئی اُس کی خیریت کو اپنی خوشی سمجھتا ہے؟ اُسے کیا معلوم کہ اُس کا ایک مختصر سا پیغام کسی کے پورے دن کی تھکن اتار سکتا ہے؟ کہ اُس کی خیریت کی ایک خبر کسی بے چین دل کو سکون دے سکتی ہے اور شاید یہی دور رہ کر محبت کرنے کا سب سے دردناک پہلو ہے: آپ کسی کی زندگی میں شامل ہوتے ہیں، مگر اُس کی زندگی کے بیشتر لمحوں میں موجود نہیں ہوتے۔ آپ اُس کی خوشیوں میں شریک ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، مگر ہر خوشی پر اُس کے دروازے تک نہیں پہنچ سکتے۔ آپ اُس کی اداسی بانٹنا چاہتے ہیں، مگر ہر آنسو پونچھنے کے لیے آپ کا ہاتھ اُس تک نہیں پہنچ سکتا۔ آپ اُس کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، مگر کبھی کبھی آپ کی ساری محبت ایک دعا، ایک پیغام اور ایک بے آواز آہ میں سمٹ کر رہ جاتی ہے۔ پھر بھی دل اُس شخص سے محبت کرنا نہیں چھوڑتا۔ کیوں؟
شاید اس لیے کہ سچی محبت ہر وقت کچھ حاصل کرنے کا نام نہیں۔ وہ کبھی کسی کی
موجودگی سے زیادہ اُس کے وجود کی قدر کرنا سکھاتی ہے۔ وہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ کسی سے محبت کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اُسے اپنی ہر ضرورت کا پابند بنا دیا جائے۔ بلکہ کبھی محبت یہ بھی ہے کہ آپ اُس کی مجبوریوں کو سمجھیں، اُس کے سکون کی حفاظت کریں، اُس کی زندگی میں آسانی پیدا کریں اور اُسے یہ احساس دیں کہ دنیا کی بے شمار سختیوں کے باوجود کوئی ایک دل ایسا ہے جو اُس کے لیے نرم ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ محبت کرنے والے کو درد محسوس نہیں ہوتا۔ اُسے بھی خواہش ہوتی ہے کہ کبھی کوئی طے شدہ وقت کے بغیر اُس سے بات کر لے، کبھی کوئی اُس کے انتظار کو محسوس کرے، کبھی کوئی اُس کی خاموشی میں چھپی ہوئی تھکن پہچان لے۔ اُسے بھی دل چاہتا ہے کہ کسی دن فاصلے سمٹ جائیں، انتظار ختم ہو، اور جس شخص کو اُس نے اتنے عرصے سے لفظوں میں محسوس کیا ہے، اُسے ایک بار حقیقت میں اپنے سامنے دیکھ سکے۔ وہ ایک ملاقات! شاید دنیا کے لیے ایک عام سا لمحہ ہو، مگر اُس دل کے لیے برسوں کی مسافت کا حاصل ہوتا ہے۔ شاید چند لمحوں کی گفتگو ہو، مگر اُس کے پیچھے کتنی راتوں کا انتظار، کتنی ادھوری دعائیں، کتنی ضبط کی ہوئی خواہشیں اور کتنے بے آواز آنسو موجود ہیں، یہ صرف وہی دل جانتا ہے جس نے اس فاصلے کو جیا ہو۔
کبھی کبھی انسان کسی سے ملنے کے لیے نہیں، صرف یہ یقین کرنے کے لیے بے تاب ہوتا ہے کہ اُس کی محبت محض اُس کے اپنے دل کا خیال نہیں تھی۔ وہ اُس شخص کی آنکھوں میں دیکھ کر جاننا چاہتا ہے کہ کیا وہاں بھی اُس کے لیے کوئی نرم گوشہ ہے؟ کیا اُس کے نام سے وہاں بھی کوئی کیفیت بدلتی ہے؟ کیا اُس کی غیر موجودگی کبھی کسی لمحے محسوس کی گئی؟ کیا اُس کے انتظار کا کوئی جواب دوسرے دل میں بھی محفوظ ہے؟ مگر زندگی ہمیشہ ہماری خواہش کے مطابق فیصلے نہیں کرتی۔ کچھ ملاقاتیں نصیب ہو جاتی ہیں، کچھ صرف خوابوں میں رہتی ہیں۔ کچھ رشتے منزل تک پہنچتے ہیں، کچھ راستے میں ہی ٹھہر جاتے ہیں۔ کچھ لوگ عمر بھر ساتھ رہتے ہیں اور کچھ زندگی کے کسی موڑ پر دور ہو کر بھی دل کے اندر ہمیشہ کے لیے آباد ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی لیے محبت کو صرف انجام سے نہیں ناپنا چاہیے۔ ہر خوب صورت رشتے کی تکمیل ساتھ رہنے میں نہیں ہوتی اور ہر نامکمل داستان بے معنی نہیں ہوتی۔ بعض رشتے ہمیں اپنے اندر موجود نرمی سے آشنا کرتے ہیں، بعض ہمیں صبر کا مفہوم سمجھاتے ہیں، اور بعض ہمیں یہ سکھا جاتے ہیں کہ کسی دوسرے انسان کے لیے دل میں خلوص رکھنا بھی زندگی کی ایک بڑی نعمت ہے۔ مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے: محبت اگر سچی ہے تو اُس میں احترام بھی ہونا چاہیے، اعتماد بھی، احساس بھی اور ایک دوسرے کی جذباتی ضروریات کی قدر بھی۔ فاصلے محبت کا امتحان ضرور ہو سکتے ہیں، لیکن مسلسل بے اعتنائی کو محبت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ خاموشی کبھی مجبوری ہوتی ہے، مگر کسی کے احساسات کو ہمیشہ نظرانداز کرنا مجبوری نہیں۔ محبت میں صبر کی جگہ ضرور ہے، مگر اُس صبر کے ساتھ ایک دوسرے کے دل کی قدر کرنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ محبت صرف کسی کو یاد کرنے کا نام نہیں، محبت کسی کو یہ احساس دلانے کا نام بھی ہے کہ اُس کی موجودگی، اُس کے جذبات اور اُس کی ذات اہم ہیں۔
اور اگر دو لوگ واقعی ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوں، تو انہیں فاصلوں کے باوجود ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر روز گھنٹوں بات کرنا ممکن نہ ہو، تب بھی ایک سچا جملہ، ایک مختصر سی خیریت، ایک بے ساختہ دعا یا ایک ایسا پیغام جو دل سے نکلا ہو، رشتے کو زندہ رکھنے کے لیے بہت معنی رکھتا ہے۔ آخرکار، محبت صرف احساس کا نام نہیں، احساس کی ذمہ داری کا نام بھی ہے
اور اب ذرا اُس شخص کا تصور کیجیے جو ہر رات سونے سے پہلے کسی ایک نام کو دل میں دہراتا ہے۔ جو دن بھر کی تھکن کے باوجود اُس شخص کی خیریت جان کر سکون محسوس کرتا ہے۔ جو اپنی دعاؤں میں اُس کے لیے وہ سب مانگتا ہے جو شاید اپنے لیے بھی کبھی نہ مانگا ہو۔ جو چاہتا ہے کہ اُس کی زندگی میں آسانیاں آئیں، اُس کے چہرے پر مسکراہٹ رہے، اُس کے خواب پورے ہوں، اُس کے دل کو سکون ملے، چاہے یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی اُس کی اپنی تنہائی برقرار رہے۔ کیا یہ محبت نہیں؟ کیا کسی کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھنا، کسی کی سلامتی کے لیے بے غرض دعا کرنا، کسی کی مجبوری کو سمجھ کر اُسے مزید پریشان نہ کرنا اور دور رہتے ہوئے بھی اُس کے لیے دل میں خلوص محفوظ رکھنا، محبت کی خوب صورت ترین صورتوں میں سے نہیں؟
شاید محبت کا سب سے پاکیزہ رنگ یہی ہے کہ انسان کسی دوسرے انسان کی زندگی میں آسانی بن کر آئے، بوجھ بن کر نہیں؛ اُس کے لیے سکون کا سبب بنے، اضطراب کا نہیں اور اُس کے دل میں اپنی جگہ بنانے کے بعد اُس جگہ کی حرمت بھی قائم رکھے۔ فاصلے پھر بھی رہیں گے۔ شہر بھی اپنی جگہ قائم رہیں گے، راستے بھی طویل ہوں گے، مصروفیات بھی ہوں گی، اور وقت بھی اپنی رفتار سے گزرتا رہے گا۔ کبھی پیغامات جلد ملیں گے، کبھی انتظار طویل ہو جائے گا۔ کبھی دل مطمئن ہوگا، کبھی بے قرار۔ مگر اگر دو دل ایک دوسرے کے لیے سچے ہوں، اگر اُن کے درمیان اعتماد کی بنیاد مضبوط ہو، اگر اُن کی گفتگو میں احترام اور اُن کے رویّوں میں خلوص باقی رہے، تو دوری اُن کے رشتے کو کمزور کرنے کے بجائے اُنہیں محبت کی اصل قدر بھی سکھا سکتی ہے۔ کیونکہ ہر وہ چیز جو آنکھوں سے اوجھل ہو، دل سے اوجھل نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ روز سامنے ہوتے ہیں، مگر دل میں نہیں اترتے اور کچھ لوگ برسوں سامنے نہیں آتے، مگر دل کی ہر دعا میں شامل رہتے ہیں۔ کچھ آوازیں روز سنائی دیتی ہیں، مگر روح تک نہیں پہنچتیں۔ اور کچھ آوازیں مدتوں سنائی نہیں دیتیں، مگر اُن کی بازگشت دل کے اندر دیر تک گونجتی رہتی ہے۔ کچھ رشتے دنیا کے سامنے بہت نمایاں ہوتے ہیں، مگر اندر سے خالی۔ اور کچھ رشتے خاموش، بے نام اور فاصلے کی دھند میں لپٹے ہونے کے باوجود احساس کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ محبت یک طرفہ قربانی کا نام نہ بن جائے، بلکہ دو دلوں کے درمیان ایک ایسی پُرخلوص وابستگی رہے جس میں دونوں ایک دوسرے کی قدر کریں، ایک دوسرے کو سمجھیں اور ایک دوسرے کے لیے اپنی موجودگی کا احساس زندہ رکھیں اور اگر کبھی کسی رات، جب تنہائی بہت بڑھ جائے، دل میں کسی کی یاد اتنی شدت سے اترے کہ آنکھیں بھیگنے لگیں، تو اپنے آپ کو یہ کہہ کر تسلی دیجیے گا کہ ہر محبت کو دنیا کے سامنے ثابت کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ محبتیں اپنے خلوص سے پہچانی جاتی ہیں، کچھ اپنی دعاؤں سے، اور کچھ اُن طویل انتظاروں سے جن میں شکایت سے زیادہ خیرخواہی زندہ رہتی ہے۔
مگر اپنے دل کی قدر کرنا بھی مت بھولیے گا۔ جو دل کسی کے لیے اتنا محسوس کر سکتا ہے، وہ خود بھی محبت، احترام اور سکون کا حق دار ہے
اور شاید کسی روز، زندگی کے کسی غیر متوقع موڑ پر، وہ تمام فاصلے سمٹ جائیں جنہیں کبھی ناقابلِ عبور سمجھا گیا تھا۔ شاید کسی شام ایک پیغام آئے:
"کیا ہم مل سکتے ہیں؟" اور شاید اُس ایک جملے کو پڑھتے ہوئے برسوں سے سنبھالے گئے آنسو بے اختیار بہہ نکلیں۔
تب معلوم ہوگا کہ انتظار صرف وقت کا گزرنا نہیں تھا۔ وہ دل کی ایک طویل مسافت تھی۔ ایک ایسی مسافت جس میں انسان نے کسی کو چاہنے کے ساتھ خود کو سنبھالنا بھی سیکھا، خاموش رہتے ہوئے اپنے جذبات کو سمجھنا بھی، اور دور رہتے ہوئے کسی کے لیے خیر چاہنا بھی اور اگر وہ ملاقات کبھی نہ ہو سکے، تب بھی محبت کی قدر کم نہیں ہو جاتی، بشرطیکہ وہ محبت خلوص، احترام اور سچائی پر قائم رہی ہو۔ کیونکہ بعض کہانیاں ملن پر ختم نہیں ہوتیں۔ وہ انسان کے کردار، اُس کی دعاؤں اور اُس کی یادوں میں اپنا مفہوم تلاش کر لیتی ہیں۔ آخر میں، شاید محبت کے بارے میں بس اتنا کہنا کافی ہے: فاصلے یہ طے کر سکتے ہیں کہ دو لوگ ایک دوسرے تک کتنی دیر میں پہنچیں گے، مگر یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ایک دل دوسرے دل کے لیے کتنی جگہ رکھتا ہے۔ محبت اگر سچی ہو تو وہ ہر وقت ساتھ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی، بلکہ دور رہ کر بھی وفا، احترام اور احساس کا دامن تھامے رکھتی ہے۔ وہ کسی کو اپنی تنہائی کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتی، مگر اپنی محبت کی موجودگی سے اُسے تنہا بھی محسوس نہیں ہونے دیتی اور شاید اسی محبت کے نام ایک آخری دعا بنتی ہے: اے پروردگار! جو لوگ ایک دوسرے سے محبت تو کرتے ہیں، مگر حالات کے ہاتھوں ایک دوسرے سے دور ہیں، اُن کے دلوں میں خلوص، اُن کے رشتوں میں احترام، اُن کی گفتگو میں نرمی اور اُن کے انتظار میں آسانی عطا فرما۔ اگر اُن کا ملنا اُن کے حق میں بہتر ہے تو اُن کے راستے آسان کر دے، اور اگر اُن کے درمیان فاصلے برقرار رہنے ہیں تو اُن کے دلوں کو اتنا حوصلہ دے کہ وہ محبت کو اذیت نہیں، رحمت بنا سکیں۔
کیونکہ دنیا میں سب سے بڑی محرومی شاید کسی سے دور ہونا نہیں سب سے بڑی محرومی یہ ہے کہ انسان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہو، مگر سننے والا کوئی نہ ہو۔ دل میں محبت بے پناہ ہو، مگر اُس محبت کی قدر کرنے والا کوئی نہ ہو اور سب سے بڑی نعمت شاید یہ ہے کہ ہزاروں میل کے فاصلے پر بیٹھا کوئی ایک شخص آپ کی خیریت جان کر سکون کا سانس لے، آپ کی خوشی پر دل سے مسکرائے، آپ کے دکھ پر خاموشی سے دعا کرے، اور آپ کو یہ یقین دلائے کہ دنیا کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہو، کہیں نہ کہیں ایک دل ایسا ضرور ہے جس میں آپ کے لیے جگہ محفوظ ہے۔
کیونکہ بعض محبتیں ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر نہیں، دلوں میں دل رکھ کر نبھائی جاتی ہیں اور اُن کی سب سے خوب صورت گواہی یہ ہوتی ہے کہ فاصلے اپنی جگہ رہتے ہیں، مگر محبت اپنی جگہ سے کبھی نہیں ہٹتی۔
مزید پڑھیں





