پنجابی زبان کی لسانی وحدت اور فکری ہم آہنگی،تحریر: اظہر سجاد

ایک دن گھر سے نکلے۔ میں نے بیٹی سے پوچھا:
"جندرے مار چھوڑے نیں کہ نئیں؟"
وہ بے اختیار ہنسنے لگی۔ کہنے لگی:
"بابا! کیا کہا؟ دوبارہ بولیں گے؟"
میں نے اُس کی حیرانی دیکھ کر دوبارہ کہا:
"کیوں سمجھ نہیں آئی؟ میں نے پوچھا ہے کہ تالے لگا دیے ہیں یا نہیں؟"
اُس نے بڑی مشکل سے ہنسی روک کر جواب دیا:
"بابا! یہ لفظ میں نے پہلی بار سنا ہے۔۔۔ کیا مطلب ہے اِس کا؟"
اُس دن احساس ہوا کہ ہم اپنی نسلوں کو ماں بولی سے بہت دور لے گئے ہیں۔ یقیناً ہم انگریزی سامراج کے ہائبرڈ کلچر کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ثقافتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، مگر زندہ قومیں اپنے ورثے، زبان اور ادب کی حفاظت بھی بڑی ذمہ داری سے کرتی ہیں۔
یقیناً یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر بہت کم توجہ دی گئی ہے۔ نام نہاد مفکرین اور رہنماؤں نے بھی شاید جان بوجھ کر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ اس نالائقی میں ہم بھی شامل ہیں۔
آج وہ الفاظ جو ہمارے باپ دادا بولتے تھے، ہم نے بھلا دیے ہیں۔ بچوں کا بھی قصور نہیں، کیونکہ وہ ہمہ جہت دباؤ کا شکار ہیں۔ بچوں کو میڈیا سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی ہے، وزنی کتابیں سر پر لاد کر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تم نے ڈاکٹر، انجینئر یا سائنس دان بننا ہے۔
زبان کے معاملے میں ہم منافقت اور دوغلے پن کا شکار ہیں۔ ہم نے نئی نسل کو ایک عجیب سی گھم گھیری میں ڈال دیا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو مہذب بنانے کے لیے اردو، پڑھا لکھا ظاہر کرنے کے لیے انگریزی اور آخرت کی نجات کے لیے عربی پڑھاتے ہیں۔ نتیجتاً زبانوں کے اس میلے میں ماں بولی تو کہیں گم ہی ہو گئی ہے۔
میں نے بھی اردو میں ہی افسانہ نگاری اور شاعری کی ہے۔ ایک بار کوشش کی کہ کچھ اپنی زبان میں بھی لکھوں، مگر عجب مشکل بن گئی۔ اسے بد نصیبی ہی کہا جا سکتا ہے کہ پنجابی کا اتنا وسیع اور جاندار ادب موجود ہونے کے باوجود ہم اس سے ناواقف ہیں۔
سرحد کے پار دیکھیے! وہاں یہ نہیں کہا جاتا کہ فلاں صوفی شاعر مسلمان تھا۔ وہاں شاید یہ بھی نہیں سوچا جاتا کہ کسی دوسرے ملک کا ادب نصاب میں کیوں شامل کیا جائے۔ امرتا پریتم اور شو کمار بٹالوی، جو ہماری ہی سرزمین کے پنجابی ہیں، صرف مذہب اور وطن کی وجہ سے ہمارے ادب میں جائز مقام حاصل نہ کر سکے۔ اس طرح ہماری سوچوں کو پابند کیا گیا۔
عجب بات ہے کہ ہمارے پڑوس میں پنجابی ادب بڑے اہتمام سے پڑھایا جاتا ہے، مگر ہمارے ہاں کچھ مفاد پرست مذہب، فرقے اور لہجوں کی بنیاد پر پنجابی زبان کو تقسیم کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
پنجابی کی تاریخ یا ارتقا سے قطع نظر، یہ ضرور کہوں گا کہ پنجابی رہتل (تہذیب) کم از کم چار سے پانچ ہزار سال پرانی ہے۔ اس کا ادب محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ مٹی سے جڑے ایک زرعی معاشرے کی سوچ کا آئینہ ہے۔ ہمارے لوک قصے، گیت، شاعری اور رسم و رواج فصلوں اور موسموں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
پنجابی کا اردو یا کسی اور بولی سے موازنہ یا مقابلہ درست نہیں۔ بلکہ میں تو اس نظریے کو ٹھیک سمجھتا ہوں جس کے مطابق اردو کی بنیاد بھی پنجابی ہی بنی۔
اس پورے خطے کے رسم و رواج اور تہوار پنجاب میں بیساکھی، بسنت کے تہوار اور لوک موسیقی کی جڑیں بھی ایک ہی ہیں۔ ٹپے، ماہیے اور بولیاں محبت، جدائی اور روزمرہ زندگی کی کہانیاں ہیں۔
خاص طور پر بابا فرید اور بلھے شاہ کا کلام پورے پنجاب میں گایا جاتا ہے۔ اسی طرح بھنگڑا، گدّا، جھومر، لڈی اور سمی پورے علاقے میں خوشی کے موقعوں پر مل جل کر پیش کیے جاتے ہیں۔
رسومات کو دیکھا جائے تو وہ بھی کافی حد تک یکساں ہیں۔ مہندی، مایوں، بارات، ولیمہ، گِٹّے اور ڈھولک کی محفلیں ہر علاقے میں عام ہیں۔ بالکل ایسے ہی بچے کی پیدائش پر خوشی منانا اور مٹھائی بانٹنا وغیرہ۔
پنجابی کے ماجھی، پوٹھوہاری، پہاڑی، ہندکو، سرائیکی، دوآبی اور مالوی لہجے، تھوڑے بہت جغرافیائی فرق کے باوجود، ایک ہی بنیادی زبان سے تعلق رکھتے ہیں، اسی وجہ سے یہ الگ زبانیں نہیں ہیں۔ ان میں بنیادی گرامر، الفاظ اور جملے تقریباً ایک جیسے ہیں۔ ان میں فرق زیادہ تر تلفظ اور تھوڑے بہت مقامی الفاظ کا ہوتا ہے، مگر گرامر اور بنیادی مفہوم ایک ہی رہتا ہے۔
اس یگانگت کی اصل وجہ مشترکہ تاریخ، زرعی طرزِ زندگی اور صوفی روایتوں کا اثر ہے۔ جہاں ثقافت ایک ہو، وہاں زبان کس طرح الگ ہو سکتی ہے؟ ثقافت زبان کو الفاظ دیتی ہے اور زبان ثقافت کی پہچان کا باعث بنتی ہے۔
پنجاب کے باقی علاقوں کی نسبت پنڈی ڈویژن ایک مختلف اور منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کی زبان و ادب کو دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اس کے بارڈر مختلف قسم کی بولیوں اور لہجوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک طرف پشتو، ہندکو اور دوسری طرف سرائیکی اور ماجھی بولیوں سے میل بنتا ہے۔
راولپنڈی ڈویژن میں اٹک ایک الگ لسانی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہاں کوہاٹ و پشاور کی پشتو، ہندکو، پہاڑی، پوٹھوہاری، سرائیکی اور ماجھی، یہ ساری زبانیں اور لہجے بولے اور سمجھے جاتے ہیں۔ نزدِ اٹک کے گھیبی، کمبلپوری، چھاچھی اور دھنی لہجوں میں بہت ساری زبانوں اور لہجوں کا ذائقہ نظر آتا ہے۔
دیکھا جائے تو پنجابی زبان برصغیر کی دوسری زبانوں سے اس وجہ سے مختلف ہے کہ پنجابی دنیا بھر میں بالعموم اور برصغیر پاک و ہند میں بالخصوص آسانی سے سمجھی جاتی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اردو بولنے اور سمجھنے والے بڑی سہولت سے پنجابی سمجھ اور بول لیتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہاں کی دوسری بولیوں کے بہت سارے الفاظ پنجابی کے کسی نہ کسی لہجے سے ضرور ملتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پنجابی زبان کے مختلف لہجے اس کی وسعت اور جغرافیائی تنوع کی علامت ہیں، نہ کہ تقسیم کی بنیاد۔ یہ لہجے ایک ہی لسانی اکائی کے اندر رہ کر اسے ایک خوبصورت رنگ دیتے ہیں۔
لہٰذا پنجابی زبان کو لہجوں کے نام پر تقسیم کرنا نہ صرف غیر سائنسی ہے بلکہ اس کی تاریخی اور ثقافتی وحدت کو بھی کمزور کرنے کا باعث ہے، جس نے صدیوں سے پنجاب کی تہذیب کو جوڑ کر رکھا ہوا ہے۔
مزید پڑھیں


اسٹریٹجک ذخائر سے 325 ملین بیرل تیل جاری

بدلتے رنگ حیات،تحریر: اقصیٰ وحید

فکر کل کی، خوشی آج کی،تحریر: شازیہ یاسین
